شاعری

کلمۂ طیبہ کا پہلا لفظ لا

لا کی منزل منزل دشوار ہے پر خار ہے کفر سے دامن چھڑانا بھی بڑا آزار ہے تجھ سے ممکن ہو تو پہلے لا کی منزل سے گزر پہلے غیر اللہ سے دامن چھڑا او بے خبر اس کی وحدت اس کی یکتائی کا کلمہ بعد میں پہلے مصنوعی خداؤں سے مگر انکار کر کفر کو ٹھوکر لگاتا ہے جو لا کہتا ہے تو لا تو کہتا ہے زباں سے ...

مزید پڑھیے

خلش

اکثر میں نے سوچا ہے میں بے حد سگریٹ پیتا ہوں سگریٹ پینا چھوڑوں گا اس کو بھی کیوں یاد کروں میں کیا حاصل ہوتا ہے مجھ کو اس کی فکر بھی چھوڑوں گا جب بھی میں نے فکر سے اس کی اپنا دامن موڑا ہے وہ اور زیادہ یاد آیا ہے جب مجھ کو وہ یاد آتا ہے میں سگریٹ پینے لگتا ہوں

مزید پڑھیے

اصلی نقلی

نہ کردار اصلی نہ گفتار اصلی ہو کس طرح دنیا میں بیوپار اصلی الیکشن میں جیتے ہیں رشوت کے بل پہ وہ کیسے بنائیں گے سرکار اصلی بلیک مارکیٹ ہر جگہ کھل رہے ہیں نہ ہے جنس اصلی نہ بازار اصلی عنان حکومت ہے قبضے میں جن کے حقیقت میں ہیں وہ ہی بیکار اصلی ملاوٹ کا ہے دودھ اور گھاس کا گھی نہ غلے ...

مزید پڑھیے

تنہائی

چھا رہی ہے مہیب خاموشی بے کراں سی عجیب خاموشی وقف حرمان و یاس بیٹھی ہوں آہ کتنی اداس بیٹھی ہوں دل میں کچھ نقش جگمگاتے ہیں جس طرح خواب جھلملاتے ہیں وہ ستم کاریاں یگانوں کی سرد مہری وہ مہربانوں کی کڑوی کڑوی بری بری باتیں زہر میں وہ بجھی بجھی باتیں چند دم توڑتے ہوئے نغمے چند سائے سے ...

مزید پڑھیے

کیف و رنگ

یہ مے یہ فضائیں یہ جنوں ریز نظارے اے کاش مجھے کوئی حسیں لے میں پکارے اعجاز ہیں سب میری ہی تخئیل حسیں کا جنت کے نظارے ہوں کہ دوزخ کے شرارے یہ کون مری روح کی گہرائی میں جھوما یہ کس نے مرے بگڑے ہوئے بال سنوارے کب تک نہ بہائے گا مرے حال پہ آنسو او میری محبت کے چمکتے ہوئے تارے برساتا ...

مزید پڑھیے

آسرے

اپنی خوشیوں کے عارضی جذبات غم میں تحلیل کر رہی ہوں میں کوششیں ہیں کہ غم سہے جاؤں خود کو تبدیل کر رہی ہوں میں زندگی ڈھال کر مصائب میں اپنی تکمیل کر رہی ہوں میں تیری رحمت کا آسرا لے کر اپنی تذلیل کر رہی ہوں میں کہہ رہی ہوں ترے ستم کو کرم خوب تاویل کر رہی ہوں میں موت کی وادیوں میں ...

مزید پڑھیے

معلومات نجمہؔ

خرابی اس کے پردوں میں نہاں معلوم ہوتی ہے مری ہستی مجھی کو داستاں معلوم ہوتی ہے وفور جوش سجدہ کی نہ پوچھو کار فرمائی جبین شوق جزو آستاں معلوم ہوتی ہے قوی ہوتا ہے جذب جستجو ہر نا مرادی سے بظاہر سعئ پیہم رائیگاں معلوم ہوتی ہے پیام دلبری دیتی ہے مجھ کو کس لگاوٹ سے ادائے حسن دل کی ...

مزید پڑھیے

فطرت کی سحر طرازیاں

فطرت کا حسن سحر خیز اس کے راز بے کراں بے پناہ حسین پھول زندہ چشمے بہتے دریا سبزہ زار کوہسار جنگل اور صحرا وادیاں گھاٹیاں اتھاہ سمندر اور ان میں آباد دنیائیں پر اسرار حیرت خیز سحر انگیز ایک پوری کائنات گرجتے بادل بجلی کی لہریں شفق افق زمین سے اگتا آفتاب چاند کا جادو بارش کی مسحور ...

مزید پڑھیے

ایک قصۂ کہنہ کی تجدید

نگاہ فسوں ساز دل میں اتر کر زمانہ سے بیگانہ سا کر گئی لہو قطرہ قطرہ نگاہوں سے زنجیر بن کر ٹپکتا رہے گا یہ طوفانی موجیں یوں ہی کب تلک مجھ سے آ آ کے ٹکرائیں گی آگ کب تک جلے گی دھواں کب تلک یوں ہی اٹھتا رہے گا یہ کیسے ہوا سارے رشتے فقط ایک ہی ذات میں آ سمائے ہمیں ناز ہے کہ ہم نے وہ ...

مزید پڑھیے

گہرائیوں کا خوف

بہت آساں نظر آیا ہمیں اس روز اپنا پانیوں پر تیرتے رہنا کسی نے جب کہا گہرائیوں میں ڈوب کر دیکھو کہ اندر کیا ہے تو ہم ڈر کر سمندر کے کنارے کی طرف لپکے

مزید پڑھیے
صفحہ 377 سے 960