اسلام آباد کی ایک شام
زمیں پہ پتے بکھر رہے ہیں خنک ہوا کے اداس جھونکے گئی رتوں کی تلاش میں ہیں خزاں زدہ باغ بے بہاراں یہ کہہ رہا ہے کہ مجھ کو دیکھو عجیب دن ہیں عجیب راتیں شکستہ پا بے نشاں سویرے مرا مقدر ہیں بس اندھیرے نہ اب پرندے شجر پہ گاتے ہیں گیت کوئی بس ایک بے نام فاصلہ ہے جو کہنہ پیڑوں کے درمیاں ...