میرے اندر ہوائیں چلتی ہیں
میرے اندر ہوائیں چلتی ہیں دھیمی دھیمی پھوار گرتی ہے مجھ میں دریا ہیں موجزن ہر سو لہریں اٹھتی ہیں ڈوب جاتی ہیں میرے اندر ہوائیں چلتی ہیں
میرے اندر ہوائیں چلتی ہیں دھیمی دھیمی پھوار گرتی ہے مجھ میں دریا ہیں موجزن ہر سو لہریں اٹھتی ہیں ڈوب جاتی ہیں میرے اندر ہوائیں چلتی ہیں
برف یوں ہی گرے چوٹیوں کو پہاڑوں کی ڈھکتی رہے کوہساروں میں چاندی پگھلتی رہے آگ جلتی رہے مینہ برستا رہے آرزؤں کے بے چین سے قافلے یوں ہی آہستگی سے سرکتے رہیں ہم یوں ہی خواب کی وادیوں سے گزرتے رہیں ہم یوں ہی ہر طرف وادیوں کوہساروں میں تحلیل ہوتے رہیں درختوں کی شاخوں پہ اس طرح ہی صاف ...
سنا کرتے تھے اب تک ریگزاروں میں کہیں بھی دور تک پانی نہیں ملتا مگر اک بار جب ہم ریت کے جلتے ہوئے ذروں پہ ننگے پاؤں چل کر لہو برساتے سورج سے نگاہیں چار کرتے پاؤں میں چھالے سجائے پانی کے چند ایک قطرے ڈھونڈتے قدم آگے بڑھائے جا رہے تھے لہو کی تیز بڑھتی گردشیں مدھم سے مدھم تر ہی ہوتی ...
میرے کمرے کی کھڑکی کے باہر ہوا چیختی ہے بڑا شور ہے سیٹیاں بج رہی ہیں چمک دھوپ کی بند کھڑکی کے شیشے سے اندر چلی آ رہی ہے ہوائیں فضا میں بہے جا رہی ہیں مرے ہر طرف شور ہی شور ہے مگر ایک بے نام بستی مہیب اور پر شور سناٹوں سے جاں بہ لب ہے کھڑکیاں کھول دو یہ اونچی بہت اونچی دیواریں ڈھا ...
چھوٹا سا ایک بیج اگر ہے تو کیا ہوا کتنا بڑا درخت ہے اس میں چھپا ہوا دھرتی میں ڈال دیتا ہے جب وقت پر کسان پھر دیکھنے کی ہوتی ہے اس بیج کی اٹھان سنسار جی رہا ہے اسی کام کاج سے کتنوں کے پیٹ بھرتے ہیں اس کے اناج سے چھوٹے سے تل میں آنکھ کے اتنی بڑائی ہے دریا ہوں یا پہاڑ ہوں سب کی سمائی ...
ایک ہیں اپنے پیٹو بھائی کھاتے ہیں دن رات ملائی ہر دم چرنا کام ہے ان کا پیٹو یوں ہی نام ہے ان کا ننھی سیما کو بہلا کر لے لیتے ہیں بسکٹ آ کر رو دیتی ہے بے بی روزی چھینتے ہیں جب اس کی ٹافی رنگ شرارت اک دن لائی بیٹھے بیٹھے شامت آئی کنڈی میں رکھی تھی مٹھائی امی نے کمرے میں چھپائی پیٹو ...
حقیقت کا تقاضا ہے ہو دل کو جستجو پہلے حصول مدعا کو چاہئے کچھ آرزو پہلے نگاہیں خود ہی آئیں گی چمن میں بہر نظارہ ترے گلشن کے پھولوں میں مگر ہو رنگ و بو پہلے اگر شیشہ میں صہبا ہے تو مے کش مل ہی جائیں گے مہیا میکدے میں چاہئے جام و سبو پہلے سما جائے گا سرمہ بن کے خلقت کی نگاہوں میں تو ...
سحر و شام تجھے یاد کیا کرتے ہیں تیری ہی یاد سے دل شاد کیا کرتے ہیں حق تو یہ ہے کہ شب و روز تیری رحمت سے دل برباد کو آباد کیا کرتے ہیں تجھ کو منظور ہے آسائش خلقت یا رب تیرے بندے ستم ایجاد کیا کرتے ہیں بن کے پنچھی جو گرفتار بلا ہوتے ہیں وہ فقط شکوۂ بیداد کیا کرتے ہیں آگ لگ جائے مبادا ...
چوگا چنتی چڑیا تیری پلکوں پر اگنے والے خوابوں کے انکھوئے کون چن سکتا ہے تو تو یہ بھی نہیں جانتی جانے کب کوئی میلی نظروں کا جال تجھ پر پھینکے اور تو بے نور آنکھوں کے پنجرے میں قید ہو کر تمام عمر کے لیے چہکنا بھول جائے چڑیا تو تو پگلی ہے چوگا چنتی خواب دیکھتی ہے تجھے کیا معلوم ...
واپسی کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو گم صم کیوں بیٹھی ہو تمہیں تو خوش ہونا چاہیے واپسی کا ایک در ابھی کھلا ہے تم جانتی نہیں ہو اگر واپسی کے سبھی دروازے بند ہو جائیں تو رات پیروں میں گھنگھرو باندھے اتنا بھٹکاتی ہے کہ واپس لوٹ آنے پر بھی گھر نہیں ملتا صرف سرمئی سناٹے آنکھوں سے نکلتے ...