آگہی
نصف النہار سے میری سوچوں کا آفتاب رکھتا ہے لیر لیر میری زیست کی کتاب مجھ میں ادھر بچھا کے یہ دریا یقین کے ٹھوکر ادھر لگا کے دکھا کے مجھے سراب اے الاماں یہ بھڑکی ہوئی آگہی کی پیاس دشت جنوں میں چیخ رہی ہوں میں آب آب
نصف النہار سے میری سوچوں کا آفتاب رکھتا ہے لیر لیر میری زیست کی کتاب مجھ میں ادھر بچھا کے یہ دریا یقین کے ٹھوکر ادھر لگا کے دکھا کے مجھے سراب اے الاماں یہ بھڑکی ہوئی آگہی کی پیاس دشت جنوں میں چیخ رہی ہوں میں آب آب
حرف اک محبت کا اور زندگی کیا ہے ایک بس یقیں دل کا اور بندگی کیا ہے حرف اک محبت کا ایک بس یقیں دل کا احتیاط پر اتنی ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے اور بے بسی کیا ہے
بے دھیان لمحوں کے بے یقین آنگن میں کوئی بیج چاہت کا کیسے پھوٹ آتا ہے اک یقیں کی کونپل سے کیسے سیکڑوں شاخیں تن میں پھول جاتی ہیں کچھ سمجھ نہیں آتا دو ہتھیلیاں کیسے ایک جیسی سوچوں میں موم سی پگھلتی ہیں آگ سی سلگتی ہیں اور خبر نہیں ہوتی کوئی شوخ سی وحشت آتی جاتی سانسوں میں کھلکھلا ...
پھر کل رات میری آنکھیں بے خواب رہیں کمرے کی ساکت دیواروں کے اس پار وہی گرجتا وحشی لہجہ گھٹی گھٹی سسکی کو کتنی بے رحمی سے نوچ رہا تھا ڈوبتی رات کے سناٹے میں اس کی مدد کو کسے پکاروں کون آئے گا کوئی محافظ آیا بھی تو دیواروں کے اندر کے قانون کے آگے خود کو عاجز بتلائے گا اکثر ایسا ہی ...
خوف کی چھوٹی چھوٹی چڑیاں میرے بچپن سے جو مجھ میں قید پڑی تھیں تاکیدوں کی جن کے پروں میں گرہیں لگی تھیں میں نے ان سب چڑیوں کے پر کھول دئیے
تغاری سر پہ دھرے تر بہ تر پسینے سے اٹھائے مامتا کا بوجھ نو مہینے سے دہکتی ریت پہ اپنے قدم جمائے ہوئے مشقتوں کی نظر سے نظر ملائے ہوئے رتوں کے قہر کو یہ امتحان لگتی ہے یہ چاندنی سے بنی اک چٹان لگتی ہے ہنر کی چادر با زیب اس نے پہنی ہے معاشیات کی پازیب اس نے پہنی ہے پھٹے لباس پہ محنت کی ...
جشن نو روز بھی ہے جشن بہاراں بھی ہے شب مہتاب بھی جشن مہ تاباں بھی ہے سنتے ہیں آج ہی جشن شہ خوباں بھی ہے آ اے دل بے تاب چلیں ہم بھی وہاں جشن کی رات ہے سوغات تو بٹتی ہوگی اپنے حصہ کی چلیں ہم بھی اٹھا لیں سوغات درد کی آخری سینے سے لگا لیں سوغات اور پھر یوں ہو کہ جب شام ڈھلے اس میں بھیگ ...
کوئی بے ساختہ احساس نہ جذبہ نہ لہک بے دلی سی تھی عجب عید کے ہنگامے میں رات بھر آس میں گھلتی رہی مہندی لیکن کسی شفاف ہتھیلی نے نہ چھو کر دیکھا سرد آنگن میں ٹھٹھرتا رہا کڑھتا رہا چاند گرم کمروں نے ادھر کو نہ پلٹ کر دیکھا سارا دن گھر کو سجاتے رہے آوازوں سے اور آوازوں سے وحشت بھی بہت ...
بس اور گھڑی دو گھڑی سہی پھر وقت کے پیالے سے گرتی ہستی کی ریت کو پیالہ خالی کرنا ہے ہر بازی وقت کی بازی تھی ہر بازی پر شہہ مات ہوئی اب دامن جھاڑ کے اٹھیں گے ساری محنت برباد ہوئی خوشنودیٔ وقت کی خاطر ہم بس کیا کیا بار اٹھاتے ہیں ہم آس کی شبنم بوتے ہیں اور یاس کے صحرا پاتے ہیں ظاہر میں ...
تم آخر اس قدر کیوں رو رہی ہو بدشگونی مت کرو یہ تو دعائیں مانگنے کا وقت ہے شاید وہ ''ہاں'' کہہ دیں چلو اٹھو یہ اپنے سارے آنسو ذات کی تکریم کی باتیں یہ اپنا آگہی کا فلسفہ سب ضبط کے سرپوش سے ڈھانکو نظر نیچی رہے بے چارگی کی شال ماتھے تک گھسیٹو اور اپنے کانپتے ہاتھوں سے اپنی ذات کا یہ ...