شاعری

کچے دھاگے

عورت اپنی ذات کو دانہ دانہ ایک ہی ہستی کے دھاگے میں گوندھے گوندھ کے سمجھے اس کی ذات کی سب بکھری کڑیاں زنجیر ہوئیں دھاگے کی بس ایک گرہ کے بل پر اپنی ہستی کی تکمیل کے امکانات پرو دے کچے دھاگے گرہ لگا دینے سے کب مضبوط ہوئے جب چاہیں جس طرح سے چاہیں پھر سے اس تسبیح کو توڑ کے ذات کو دانہ ...

مزید پڑھیے

تو بھی رویا تھا مالک؟

دیکھا تو نے کچھ مالک آرٹ گیلری تیری اور یہ اس کی تصویریں بے رحم رواجوں کی مکڑیوں کے جالوں میں نیم جاں مناظر کی ڈھیر پر سے کوڑے کے روٹی چنتے بچوں کی شہر کے سلم نامی بے نصب ٹھکانوں کی کتنی بے وقعت ہیں یہ جب تلک پکاسو سا کوئی اک مصور ان بھوک کھائے ڈھانچوں کو پینٹنگ میں نا جڑ دے کیمرا ...

مزید پڑھیے

آدھی گواہی

عظیم منصف!! ہماری قسمت کی ہر عدالت کا فیصلہ ہے کہ اپنی بے حرمتی کی فرمان لے کے جائیں تو اپنا کوئی گواہ لائیں گواہ رشتوں کے محترم کنڈلیوں میں بیٹھے سنپولیوں کا گواہ ایسی حویلیوں کا کہ جن میں قانون پاؤں دھرنے سے کپکپائے کنواری چیخیں بلک بلک کے صدائیں کرتی ان ہی اندھیروں میں ڈوب ...

مزید پڑھیے

ہم جانتے ہیں

یوں ہی ملنا تھا تو پہلے ہی کہیں مل جاتے اس طرح کس لیے ہر موڑ پہ ہم گھبراتے اب ملے ہو تو عجب طرح کا ڈر ہے جی کو زندگی کی کہیں یہ بھی تو کوئی چال نہیں اب تو یوں ہے کہ خوشی پا کے بھی وہم آتا ہے یہ بھی بربادئ دل کی تو کوئی فال نہیں خیر آؤ چلو دو چار گھڑی مل بیٹھیں کوئی پیمان وفا باندھیں نہ ...

مزید پڑھیے

دام کا خوف بھی پرواز بڑھا دیتا ہے

میں اگر جاں کی اماں پاؤں تو کچھ عرض کروں بے سبب آپ جو رہتے ہیں پریشان سے کچھ جیب میں رکھتے ہیں تعزیر کے سامان سے کچھ حبس میں تازہ ہواؤں کو چنا کرتے ہیں فاختاؤں کے لیے جال بنا کرتے ہیں میں تو حیران ہوں کیا آپ کو اندازہ نہیں خوش نمو حبس زمیں سے بھی نمو لیتا ہے دام کا خوف بھی پرواز ...

مزید پڑھیے

ایک اک آرزو صدقہ میں اتاری جائے

جشن نوروز بھی ہے جشن بہاراں بھی ہے شب مہتاب بھی جشن مہ تاباں بھی ہے سنتے ہیں آج ہی جشن شہ خوباں بھی ہے آئیے اے دل برباد چلیں ہم بھی وہاں جشن کی رات ہے سوغات تو بٹتی ہوگی اپنے حصے کی چلیں ہم بھی اٹھا لیں سوغات درد کی آخری سینے سے لگا لیں سوغات اور پھر یوں ہو کہ جب شام ڈھلے اوس میں ...

مزید پڑھیے

اپنی تصویر مجھے آپ بنانی ہوگی

میرے فن کار !!مجھے خوب تراشا تو نے آنکھ نیلم کی بدن چاندی کا یاقوت کے لب یہ ترے ذوق طلب کے بھی ہیں معیار عجب پاؤں میں میرے یہ پازیب سجا دی تو نے نقرئی تار میں آواز منڈھا دی تو نے یہ جواہر سے جڑی قیمتی مورت میری اپنے سامان تعیش میں لگا دی تو نے میں نے مانا کہ حسیں ہے ترا ...

مزید پڑھیے

ترک تعلق

سوچتے تھے کہ ہو نا واقف آداب وفا تم میں تو ترک تعلق کا سلیقہ بھی نہیں دیکھ کے ہم کو پریشان سے ہو جاتے ہو دو قدم بڑھتے ہو گھبرائے سے رک جاتے ہو لب پہ بے ساختہ سی بات ٹھہر جاتی ہے جانے کیا سوچ کے ماتھے پہ نمی آتی ہے اب کسے کہتے ہو جاناں کبھی پوچھا ہم نے ہم پہ تو خیر جو گزری تمہیں ٹوکا ...

مزید پڑھیے

حادثہ

صلیب سے جو ٹپکتا ہے بے گناہ لہو وہ بوند بوند کا اپنی حساب لیتا ہے زمین جبر کی افواج فیل واقف ہیں فضا میں ایسے پرندوں کا ایک غول بھی ہے جو کنکری سے چٹانوں کو توڑ دیتا ہے جب اپنی حد سے گزرتے ہیں ابرہی سیلاب یہ سنگریزوں سے رخ ان کے موڑ دیتا ہے سو جب یہ سازشی صیاد طائروں کے لیے فضا میں ...

مزید پڑھیے

گنبدوں کے درمیاں

خواہشیں دیوار گریہ پر خوشی کے گیت ہیں راستے اچھے دنوں کے خواب ہیں لیکن ہمیشہ منزلوں سے دور رہتے ہیں لکیریں دائروں میں قید ہیں چلتے رہو! ریگزاروں کے سفر کا انت پانی ہے سرابوں کے تعاقب میں کبھی نکلو تو آنکھوں کے سمندر ساتھ رکھنا کانچ خاموشی کے جنگل سے کبھی گزرو تو آوازوں کے پتھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 372 سے 960