شاعری

روح کا عہد نامہ

وہ لمحہ وہ اک لمحۂ نرم و شیریں کہ جب اپنے آنگن میں اک پھول مہکا کہ جب تم نے تعمیر کی اپنے قدموں تلے پہلی جنت کہ جب پیار چھلکاتی آنکھیں تمہاری ہوئیں آشنا مامتا سے کہ جب تم نے اک خوب صورت سا آئینہ مجھ کو دیا تھا کہ جب اپنے ہونے کا احساس جاگا تھا دل میں وہی لمحۂ نرم تھا جب بدن کے تعلق ...

مزید پڑھیے

خوبصورت

زمیں بے درد ہے نا مہرباں ہے آسماں اور جسم زنجیروں میں جکڑے ہیں پپوٹوں میں چبھن ہے خواب زخمی ہیں نہیں آنکھوں کو سکھ کی نیند حاصل ایک لمحہ بھی فضا بے اعتباری کی ہے یوں چھائی وفاداری نہیں اب دیکھتی وعدوں کا چہرہ بھی لہو بھی اپنی حرمت ہے گنوا بیٹھا خدا تیری یہ دنیا پھر بھی بے حد ...

مزید پڑھیے

عین الیقین

میں نے دکھ نہیں دیکھا میں نے کچھ نہیں دیکھا میں نے سکھ نہیں دیکھا میں نے کچھ نہیں دیکھا دنیا میری ہتھیلی سے باہر کیا رہی ہوگی میں نے دیکھا زمین پر شاید سیلاب آیا تھا میں نے دیکھا کہ دھوپ چونکی اور بھاگ کر درختوں کی چوٹیوں پر چڑھ گئی اس کا رنگ فق تھا اور اس کی عمر تیرہ برس سے زیادہ ...

مزید پڑھیے

دو بوند پانی

کیا میری آنکھوں میں سناٹا ہے نہیں برف باری ہو رہی ہے لوگ مجھ سے خوف کھانے لگے ہیں جیسے مردے سے کیا مجھ سے کافور کی بو آتی ہے نہیں تو میری سانسوں میں ساون کا عبث اور املتاس کی گرمی ہے اور سانسو اور آنکھوں کے درمیان فاصلہ زیادہ نہیں پھر بھی بہت ہے اس لیے کہ ختم ہو جائے تو اسٹرگل ہی ...

مزید پڑھیے

دعا

آج کا دن کہ تمہارا دن ہے آج کی دھوپ میں نرمی بھی ہے حدت بھی ہے بام سے اتری ہیں کرنیں تمہیں چھونے کے لیے تم کو چھو لیں تو جدھر سے گزریں رنگ کا نور کا خوشبو کا اجالا پھیلے ہر طرف پھیلے امر ہو جائے تم کو چھو لیں چمن سے گزریں سرخ پھولوں سے گلے مل کے کہیں آج ہر رنگ امر ہو جائے آج کا دن کہ ...

مزید پڑھیے

زندگی کی تلاش

سیڑھیاں آسمان کی چڑھ کے چاند کے ایک ایک کونے میں زندگی کو تلاش کرتے ہیں اور صومالیہ کے صحرا میں ایک مٹھی اناج کی خاطر زندگی ایڑیاں رگڑتی ہے بھوکے بچے سسک کے مرتے ہیں

مزید پڑھیے

تم سے کترا کے نکلنے کا سبب ہے کوئی

تم سے کترا کے نکلنے کا سبب ہے کوئی مل کے تم سے بڑی تنہائی سی ہو جاتی ہے گھر تلک ساتھ اک آہٹ سی چلی آتی ہے سب کواڑوں کو ارادوں کو مقفل کر لو پر یہ آہٹ ہے کہ دیواروں سے چھن آتی ہے خاک اڑا کرتی ہے جس صحن میں سناٹے کی واں عجب شوق کا دربار لگا ہوتا ہے رقص کرتی ہے مرے پاؤں تلے میری زمیں ہوش ...

مزید پڑھیے

سمجھوتہ

سمجھوتے کے دالانوں کی ہر چیز سجل سی ہوتی ہے ہر طاق سجا سا لگتا ہے اک فرض مسلسل کی دھن پر دو پیر تھرکتے رہتے ہیں ہاتھوں کی لکیروں میں لکھے دو بول کھنکتے رہتے ہیں ہمت کی چٹختی شاخوں سے کچے دن توڑے جاتے ہیں اور پال لگائی جاتی ہے راتوں کے بان کے بستر پر تہذیب کے گونگے جسموں کی سنجاب ...

مزید پڑھیے

میں گل نہیں

میں گل نہیں مجھے دست صبا سے کام نہیں نہ مثل برگ نہ مانند گل نہ شاخ گلاب کہ تند و تیز ہواؤں سے کانپ کانپ اٹھوں کہ سرد و گرم سے موسم کے ڈر کے زیست کروں مجھے تو گرم ہواؤں نے مل کے پالا ہے زمیں کے حبس نے دم خم یہ مجھ میں ڈالا ہے کہ ایک ننھا سا بے حیثیت وجود مرا ذرا بھی نم جوں ہی مٹی میں ...

مزید پڑھیے

سادہ ورق

اس لئے آپ کو بھیجا تھا وہ سادہ کاغذ اک کوئی حرف مناسب سا میسر ہی نہ تھا اجنبی جیسے تھے انداز تخاطب سارے کوئی پیکر بھی مری سوچ سا پیکر ہی نہ تھا کتنے القاب تھے میں لکھا کیا کاٹا کیا کتنے اوراق میں بے وجہ یوں ہی پھاڑا کیا دل کی ضد برتا ہوا لفظ نہ برتا جائے اک الگ سب سے کوئی حرف تراشا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 370 سے 960