شاعری

بے نور کائنات میں اک کانچ کا چراغ

بے نور کائنات میں اک کانچ کا چراغ کافی ہے شش جہات میں اک کانچ کا چراغ بجھتا ہے ٹوٹتا ہے کہ جلتا ہے راہ میں آندھی ہے اور ہاتھ میں اک کانچ کا چراغ تیری نظر سے جاگی ہوئی لو کے فیض سے روشن ہے میری ذات میں اک کانچ کا چراغ کٹتی ہے سخت راہ کی خاموش تیرگی جلتا ہے تیری بات میں اک کانچ کا ...

مزید پڑھیے

پاسورڈ

محبت کے نگر میں سرخ پھولوں سے مہکتے سبز موسم کی نویلی خواہشوں میں بھیگتے سرشار جذبوں سے نکلتی آبشاروں میں گھری وادی کے اندر داخلے کے واسطے در کھولنے کا اسم اعظم ہے وہی اک نام تیرا نام تیرا نام

مزید پڑھیے

آج کے منافق

دلوں میں کفر لبوں پر حمایت اسلام چھری بغل میں دبائے ہوئے ہیں منہ پر رام مکالمہ ہے جنوں سے تو عقل سے بھی کلام لبوں پہ نعرۂ تحسین ذہن میں دشنام یہ خواہشوں کے پجاری یہ مصلحت کے غلام فریب و مکر کے قصے منافقت کے نام کہیں بہ نام خوشامد یہ بک گئے بے دام کہیں پہ بولی تھی اونچی تو ہو گئے ...

مزید پڑھیے

بینر پر لکھے خواب

ایک سرد دن ایک گرم بوسے کے ساتھ گزارا جا سکتا ہے اور ایک بوسہ بچایا جا سکتا ہے اگلے دن کے لئے ایک گرم دن گزار سکتے ہیں کسی سرد آہ کے ساتھ اور سرد پڑ سکتے ہیں اگلے دن بینر پر لکھے جا سکتے ہیں اپنے خواب اور رات کو آگ میں جھونک سکتے ہیں اپنی آنکھیں ایک صدی گزار سکتے ہیں کسی موڑ پہ ...

مزید پڑھیے

ڈائری میں لکھا میں

جب پہاڑ رو رہے تھے میرا جنم ہوا میں اپنا خواب بیری کے پیڑوں میں بو کر مسکراہٹ کی تلاش میں نکل پڑا رستے میں مجھے ایک ڈایری ملی جس کے پہلے صفحے پر درج تھا زندگی خود بخود کوئی فیصلہ نہیں کرتی بلکہ یہ محض آپ کے فیصلوں کے انجام سے آپ کو ملاتی ہے ڈایری کے باقی صفحے بالکل چپ تھے میں کسی ...

مزید پڑھیے

پینٹنگ

کھڑکی سے نکلنے والے ہاتھ میرا گلا دبوچ سکتے ہیں تنہائی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ٹرین سے میری لاش مل سکتی ہے تمہاری انگلیوں کے نشان قبرستان میں رینگنے والی نظموں کے پیر چھل گئے ہیں تمہارے سینے پر چلتے چلتے کوہ پیما پاتال میں جا گرتا ہے اوپر آسمان پر دل نقش ہوتا ہے

مزید پڑھیے

محسوس کرو

روشندان سے آتی آدھی روشنی کا دکھ جس کا حمل کبھی نہیں ٹھہرے گا محسوس کرو کمرے کی تشنگی کو جیسے کسی باکرہ کے ننگے بدن کو پلنگ پر سلگتا ہوا چھوڑ دیا گیا ہو محسوس کرو اندھیرے کی ذات کو جو کمرے میں بغیر ڈھول کی تھاپ کے ناچ رہی ہے محسوس کرو اس گھٹن کو جس کے روشندان سے نکلنے کا راستہ ...

مزید پڑھیے

جواب شکوہ

آہ جب دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہے گلشن زیست جلانے کو شرر رکھتی ہے توپ تلوار نہ یہ تیغ و تبر رکھتی ہے بنت حوا کی طرح تیر نظر رکھتی ہے اتنا پر سوز ہوا نالۂ سفاک مرا کر گیا دل پہ اثر شکوۂ بے باک مرا یہ کہا سن کے سسر نے کہ کہیں ہے کوئی ساس چپکے سے یہ بولیں کہ یہیں ہے کوئی سالیاں کہنے ...

مزید پڑھیے

بیگم اور شاعری

ایک دن مجھ سے یہ فرمانے لگی بیوی مری میری سوتن بن گئی ہے آپ کی یہ شاعری وہ یہ کہہ کر مجھ سے کرتی ہے ہمیشہ احتجاج شاعری سے آپ کی ہوتا ہے مجھ کو اختلاج سوچتی ہوں کس طرح ہوگا ہمارا اب نباہ مجھ کو روٹی چاہئے اور آپ کو بس واہ واہ مجھ کو رہتی ہے سدا بچوں کے مستقبل کی دھن آپ بیٹھے کر رہے ...

مزید پڑھیے

بیویاں

شادی کے بعد گھر میں جب آتی ہیں بیویاں شرم و حیا کا ڈھونگ رچاتی ہیں بیویاں پہلے تو شوہروں کو پٹاتی ہیں بیویاں تگنی کا ناچ پھر یہ نچاتی ہیں بیویاں ہر شب شب برات بناتی ہیں بیویاں کچھ دن کے بعد چھکے چھڑاتی ہیں بیویاں پہلے پہل تو کہتی ہیں تم ہو مرے بلم تم مل گئے تو ہو گئے دنیا کے دور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 368 سے 960