شاعری

کثرت اولاد

کثرت اولاد سے ہم اس قدر بیزار ہیں اب تو بیگم سے الگ رہنے کو بھی تیار ہیں اب یہ عالم ہے کہ جس کمرے میں بھی ڈالو نظر گھر کے ہر کونے میں ہیں بکھرے ہوئے لخت جگر اپنی بیگم پر ہوئے شام و سحر ہم یوں نثار پوسٹروں کی شکل میں رسی پہ لٹکا ہے وہ پیار جس طرف بھی دیکھیے اولاد ہی اولاد ہے خانہ ...

مزید پڑھیے

غالبؔ کا پوسٹ مارٹم

ایک دن غالبؔ کے پڑھ کر شعر میری اہلیہ مجھ سے بولی آپ تو کہتے تھے ان کو اولیا عاشق بنت عنب کو آپ کہتے ہیں ولی فاقہ مستی میں بھی ہر دم کر رہا ہے مے کشی پوجنے سے مہ جبینوں کے یہ باز آتا نہیں اور پھر کافر کہے جانے سے شرماتا نہیں کوئی بھی مہوش اکیلے میں اگر آ جائے ہاتھ چھیڑخوانی کر ...

مزید پڑھیے

ابا کا چالیسواں

بوڑھے غریب باپ کے مرنے پہ دفعتاً بیٹے نے سوچا کیسے کروں دفن اور کفن اپنے یہاں تو موت میں خرچے کا ہے چلن غم سے نڈھال بیٹے کے ماتھے پہ تھی شکن جو کچھ تھا پاس دفن و کفن میں اٹھا دیا خرچے نے پھر تو موت کا صدمہ بھلا دیا کرنا پڑا جو دفن کا تا صبح انتظار میت کے پاس چلتی رہی چائے بار بار اور ...

مزید پڑھیے

تعارف

مرے دادا جو برٹش فوج کے نامی بھگوڑے تھے نہ جانے کتنی جیلوں کے انہوں نے قفل توڑے تھے چرس کا اور گانجے کا وہ کاروبار کرتے تھے خدا سے بھی نہیں ڈرتے تھے بس بیگم سے ڈرتے تھے مرے تائے بھی اپنے وقت کے مشہور چیٹر تھے کئی جیلوں کے تو وہ ہاف ایرلی بھی وزیٹر تھے ہر اک غنڈہ انہیں گھر بیٹھے ...

مزید پڑھیے

بہ فیض قائد اعظم

ہم وہ ہیں جن کی روایات سلف کے آگے چڑھتے سورج تھے نگوں قیصر و کسریٰ تھے زبوں گردش وقت سے اک ایسا زمانہ آیا ہم نگوں سار و زبوں حال و پراگندہ ہوئے سال ہا سال کی اس صورت حالات کے بعد ایک انسان اٹھا ایسا کہ جس نے بڑھ کر عزم و ہمت کا شجاعت کا چلن عام کیا اور برسوں کی غلامی کے شکنجوں میں ...

مزید پڑھیے

بک فیر

لفظ و معنی کا اک سلسلہ تا بہ حد نظر نیلے پیلے ہرے کاسنی ارغوانی لبادوں میں ملبوس اوراق چاروں طرف دعوت دید دیتی ہوئی دائیں بائیں کتابیں کہ احساس کو گدگداتی ہوئی لفظ در لفظ اعجاز نوک قلم حسن تحریر جادو جگاتا ہوا حسن تخلیق بے جاں میں جاں ڈالتا فکر کی صفحہ صفحہ میں خوشبو بسی خوب ...

مزید پڑھیے

منظر پس منظر

گزرتے لمحوں کا آئینہ جب بھی دیکھتا ہوں یہ سوچتا ہوں وجود کے شہر کی سکونت ہے مختصر جیسے نکہت گل وہ فیصلہ جو رقم ہوا تھا اٹل ہے اب بھی جو آج ہے کل نہیں رہے گا جو کل تھا کب خواب ہو چکا وہ مگر ذرا وقت کی عدالت مجھے بتائے کہ فیصلہ اس کے حق میں کیا ہے وجود کے شہر میں بھی رہ کر جو عمر بھر ...

مزید پڑھیے

ساعتوں کا زندانی

بس اسٹاپ پر دو منٹ کی ملاقات بس دو منٹ کی حالانکہ اس لمبی مدت میں کب نہیں دیکھا تمہیں کب نہیں ملا کل بھی بہت دیر تک باتیں کیں خوابوں کے نگر میں یہ کیا حال ہے اتنے دنوں کہاں رہیں وغیرہ وغیرہ سوال کے سمندر میں سینکڑوں لہریں آئیں وہی پرانی عادت کہ کچھ بتایا کچھ نہیں پھر خاموشی اب ...

مزید پڑھیے

دودھ کا پیڑ

خال و خط دست و پا دست و پا کی تمام انگلیاں انگلیوں سے لگے سارے ناخن کی گولائیاں سارے اعضا علامات ہم رشتگی ہر تعلق نگر اعتبارات کا ہر اکائی رواں اپنے مرکز کی سمت دودھ کا پیڑ سوکھا کہ سارے علامات اک شہر وہم و گماں دشت لا مرکزیت کی بے سمتیٔ فکر کا ہر اکائی شکار ہر لف خوں پہ بے رشتگی ...

مزید پڑھیے

لیمپ پوسٹ

لیمپ پوسٹ سے ٹیک لگائے بیٹھا ہے وقت اپنی آنکھوں میں لئے بہت سارے نرم خواب بہت ساری ہولناک یادیں کولتار کی چکنی سڑک پر چلتی نہیں بہتی ہوئی گاڑیاں قطار در قطار ٹرامیں اور بسیں شام کا دھندلکا شریف زادوں سے کھسر پھسر کرتی سستی کوالٹی کی خوشبو میں بسی فلاکت زدہ صورتیں ایک دو تلا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 369 سے 960