شاعری

یاد رکھنے کا ہنر

سنو یہ یاد رکھنے کا ہنر آساں نہیں ہوتا مجھے تم یاد ہو اور میری ہر ہر سانس میں بس کر مشام جاں معطر کر رہی ہو ٹھیک ہے لیکن بھلا وہ کون تھا جس نے تمہیں پہلے پہل چاہا وہ میرا عشق تھا میں تھا وہ شاید میں ہی تھا لیکن نہیں ہے یاد اب کچھ بھی سنو یہ یاد رکھنے کا ہنر آساں نہیں ہوتا کسی کو یاد ...

مزید پڑھیے

وداع

وقت رخصت وہ چپ تھی بس ہاتھوں میں گلدستہ تھا جس میں تین ہی پھول تھے لیکن ہر اک باتیں کرتا تھا دو اس کی آنکھوں جیسے تھے ایک مرے دل جیسا تھا

مزید پڑھیے

عشق کہانی

میں بے قیمت تم بے قیمت پھر یہ اپنی عشق کہانی کون سنے گا سب کے اپنے اپنے قصے سب کی اپنی اپنی باتیں سب کی اپنی اپنی صحبت سب کی اپنی اپنی راتیں سب کے غم بس ذاتی غم ہیں سب کی خوشیاں ذاتی خوشیاں ہم کہتے ہیں وہ بے قیمت وہ کہتے ہیں ہم بے قیمت ایسے میں کس کس کی کہانی کس کی زبانی کون سنے ...

مزید پڑھیے

انتقام

جب راہیں سب مسدود ہوئیں سب نیست ہوئیں نابود ہوئیں دشمن کو کھوجتے پھرنے کی تھیں کاوشیں جو بے سود ہوئیں پسپائیاں جو موجود نہ تھیں اک آن میں آ موجود ہوئیں میں سوچ کے اک دوراہے پر حیراں آزردہ آ پہنچا یہ ساری تگ و دو تنہا تھی اس موڑ پہ بھی تنہا پہنچا لیکن اس تنہا منظر میں اک چہرہ اور ...

مزید پڑھیے

تنہائی

اس صف میں بھی سب دشمن ہیں اس صف میں بھی سب دشمن ہیں جو آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اور دل میں نفرت کو پالے بارود کے ڈھیر پہ بیٹھے ہیں بس اک ساعت کی دوری پر اس انساں کی مجبوری پر کوئی رونے والا بھی تو نہیں کوئی ہنسنے والا بھی تو نہیں اس ساعت خوں آشام سے تھی وہ ساری رونق منظر کی اس ساعت ...

مزید پڑھیے

خزاں پھر آ گئی کیا

خزاں کی ابتدا سے انتہا تک سارا موسم ہی خزاں ہے گزرتے جا رہے ہیں جتنے لمحے سب خزاں ہیں مگر وہ نیم جاں پتہ جسے پہلی ہی پروائی کے پہلے سرد جھونکے نے سمیٹا ہے نئے اک ٹوٹتے پتے سے سرگوشی میں کہتا ہے خزاں تو جا چکی تھی

مزید پڑھیے

روشنی

وہ جو زندگی کا قرار تھی وہی صبح نور کہاں گئی وہ جو خواب ناز تھے کیا ہوئے مئے پر سرور کہاں گئی وہ جو انتظار قرار تھا وہی انتظار رار ہے وہ دکھن ہے دل میں نہاں ابھی دل ناصبور کہاں گئی وہی تیرگی کا حصار ہے شب و روز پر مہ و سال ہے ہے جوار قلب پہ تیرگی ابھی دل سے دور کہاں گئی مرے شہریار ...

مزید پڑھیے

زلزلہ آٹھ اکتوبر 2005

اس روشن صبح کے دامن میں اک سورج قہر کا چمکا تھا اک تارا جی کا نغمہ تھا جو وادی وادی گونجا تھا اک پروائی تھی وحشت کی اک فطرت کا نقارا تھا نادیدہ تھا وہ دست اجل جو دشت و جبل لرزاتا تھا اور پاؤں تلے سے دھرتی کو بے وہم و گماں سرکاتا تھا اک کھیل رہا کچھ لمحوں کا کچھ لمحے تھے جو آئے گئے سب ...

مزید پڑھیے

موسم مرے دل کے

میرے گھر کے آنگن میں تو جانے پہچانے سب موسم اپنے وقت پہ آ جاتے ہیں موسم گل میں سرخ گلاب اور پیلا گیندا اجلا بیلا گوری چنبیلی چمپا اور گل داؤدی کتنے رنگ بکھر جاتے ہیں پھر موسم کروٹ لیتا ہے یخ بستہ بے مہر ہوا جب رقص زمستاں کا آغاز کیا کرتی ہے سارا آنگن زرد شکستہ جاں پتوں سے بھر جاتا ...

مزید پڑھیے

نقطۂ نو گریز

ی تک پڑھی ہوئی ساری کتابیں دیکھی ہوئی تمام دنیا بلکہ دنیائیں اندر سے باہر کے تمام تجربات ماضی کا حصہ ہیں تاریخ بن چکے ہیں یہاں سے آگے سفر نیا ہے بالکل نیا کاغذ کورا ہے بالکل کورا بلکہ تمام کاغذ کورے ہیں بالکل کورے تحریر منتظر ہے نقطۂ آغاز سے بلکہ موہوم ہے ہندسۂ یکم ہے بلکہ صفر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 319 سے 960