شاعری

تیشہ بدست

کب سے ان پہاڑوں کے سینے چیر چیر کر ان کی رگیں کھوج کھوج کر لعل و جواہر نکال رہا ہوں ڈھیروں کے ڈھیر لگا رہا ہوں بظاہر بہت خوش ہوں کہ لعل و جواہر کے یہ انبار میں نے لگائے ہیں بہ باطن البتہ اداس ہوں کہ وہ لعل جس کی مجھے تلاش ہے ہنوز میری دسترس سے پرے ہے دراصل وہ پہاڑ ابھی تک میری آنکھ ...

مزید پڑھیے

بسلری

آدھا ہندو ہوں شراب پیتا ہوں آدھا مسلمان کہ سور نہیں کھاتا میاں غالب فرماتے تھے خیالؔ صاحب آپ بھی ہوتے ہوتے ہو گئے شاید آدھے فرنگی ہریدوار کی چوک پر ہری حلوائی کی دوکان میں دیسی گھی کی پوری سبزی کھاتے تھے مگر پینے کے لیے بسلری ہی منگواتے تھے

مزید پڑھیے

آنسو

آنسو کی کوئی قیمت نہیں ہوتی بیش قیمت تو ہوتا ہے موتی لیکن سنو ان سب سے بڑھ کر ہے وقت کی الٹ پھیر ہے وقت کی الٹ پھیر آنسو کو موتی موتی کو آنسو ہوتے نہیں لگتی دیر میری رائے مانو دونوں کی قدر جانو

مزید پڑھیے

اندھیرا

ابھی روشن ہے یہ چراغ تو یہ نہ سمجھو کی اب اندھیرے کا کوئی وجود ہی نہ رہا کی وہ روشنی کی تلوار سے کاٹ کر میرا جا چکا ہے اس دھوکے میں نہ رہنا کی وہ ہمیشہ کی لیے خریدہ جا چکا ہے اس نے تو بس اک چالاک اور شاطر سپاہ سالار کی طرح اپنی پہلی ہار کو پہلی بازی جیتنے والے دشمن کی جگمگاہٹی وردی ...

مزید پڑھیے

نقوش

کچی دیوار سے گرتی ہوئی مٹی کی طرح کانپ کانپ اٹھتا ہے برباد محبت کا وجود حسرتیں سوت کے دھاگوں کی طرح نازک ہیں درد کی کوڑیاں کس طرح بندھیں گی ان میں کون گھٹنوں میں لئے سر کو اکیلا تنہا روز روتا ہے مرادوں کے حسیں منڈپ میں کتنی ویران ہے اجڑے ہوئے خوابوں کی منڈیر بھولی بسری ہوئی یادوں ...

مزید پڑھیے

سگریٹ

جس طرح حسرتوں کے مرگھٹ میں دھیرے دھیرے سلگ رہا ہو دھواں جس طرح ہو کسی ستارے پر ایک بجھتے ہوئے دیئے کا گماں جس طرح مٹ رہی ہو بن بن کر یاس انگیز وقت کی تحریر اس طرح تیرے سرخ ہونٹوں پر کانپتی ہے گھنے دھوئیں کی لکیر کھیلتے ہیں فضا کی سانسوں سے ننھے ننھے طلسمی مر گولے ہلکے نیلے دھوئیں ...

مزید پڑھیے

پتھر

ترے نکھرے ہوئے جلووں نے دی تھی روشنی مجھ کو ترے رنگیں اشاروں نے مجھے جینا سکھایا تھا قسم کھائی تھی تو نے زندگی بھر ساتھ دینے کی بڑے ہی ناز سے تو نے مجھے اپنا بنایا تھا مگر پچھتا رہا ہوں اب تری بے اعتنائی پر کہ میں نے کیوں محبت کا سنہرا زخم کھایا تھا ترا پیکر تری بانہیں تری آنکھیں ...

مزید پڑھیے

نغمہ نما

مری تنہائیو تم ہی لگا لو مجھ کو سینے سے کہ میں گھبرا گیا ہوں اس طرح رو رو کے جینے سے یہ آدھی رات کو پھر چوڑیاں سی کیا کھنکتی ہیں کوئی آتا ہے یا میری ہی زنجیریں چھنکتی ہیں یہ باتیں کس طرح پوچھوں میں ساون کے مہینے سے مری تنہائیو تم ہی لگا لو مجھ کو سینے سے مجھے پینے دو اپنے ہی لہو کا ...

مزید پڑھیے

انا اور اندیشہ

ترے ڈوب جانے سے کیا فرق پڑتا ہے مغرور سورج ترے بعد میں ہوں اجالے کی منزل چراغ غم دل جو ہر دیر و کعبہ میں ہر رات جلتا ہے، تنہا اکیلا جو تو ڈوب جائے گا مغرور سورج تو میں جل اٹھوں گا ترے بعد لیکن اگر بجھ گیا میں مجھے چھو گیا کوئی جھونکا ہوا کا تو تاریک ہو جائے گا گھر خدا کا

مزید پڑھیے

التماس

اپنے آنچل پہ ستاروں سے مرا نام نہ لکھ میں ترا خواب ہوں پلکوں میں سجا لے مجھ کو میری فطرت ہے محبت کی مچلتی ہوئی لہر اپنے سینے کے سمندر میں چھپا لے مجھ کو زندگی چاندنی راتوں کا حسیں روپ لئے سنگ مرمر کے جزیروں میں اتر آئی ہے اک ترے دست حنائی کو چھوا ہے جب بھی سات رنگوں کی فضا ذہن میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 320 سے 960