شاعری

نظم

وہ جوانی کے نشے میں لڑکھڑاتی ڈولتی جاتی حسینہ میں ہوں اک پژمردہ و پامال سا درماندگی کے قہر کا مارا ہوا بے حس مسافر جس کی نظروں میں فقط اس کے تعاقب کی سکت باقی بچی ہے پھر بھی میرے جسم کے اک زندہ اور جاوید حصے میں یہ دھڑکنے کی صدا ان کی شاکی ہے جو کہتے ہیں کہ میرا جسم خاکی ہے

مزید پڑھیے

صبح دم

صبح دم اس کی آنکھوں میں ڈھلتی ہوئی رات کا نشۂ وصل ہے جسم جیسے کہ اک لہلہاتی ہوئی فصل ہے

مزید پڑھیے

محبت کے اس بے کراں سفر میں

عورت! تیرے کتنے روپ، تیرے کتنے نام محبت کے اس بے کراں سفر میں کتنے پڑاؤ، کتنے مقام کبھی کلی، کبھی پھول اور کبھی مرجھائی ہوئی پنکھڑی کبھی انار، کبھی ماہتاب اور کبھی پھلجھڑی تخلیق کا منبع، شکتی کا خزینہ تیری ذات محور لامتناہی سلسلۂ حیات و ممات شفقت، محبت، ایثار و وفا سب تیرے ...

مزید پڑھیے

میری رامائن ادھوری ہے ابھی

میری رامائن ادھوری ہے ابھی میری سیتا اور مجھ میں حائل دوری ہے ابھی میری سیتا اداس ہے رشتوں کا پھیلا بن باس ہے پھرنا ہے مجھے ابھی جنگل جنگل صحرا صحرا ساگر ساگر میرا حمزہ وہی میرا لچھمن ہے ابھی زمانہ تو عیار ہے سو بھیس بدل لیتا ہے سادھوؤں کے بہروپ میں ہیں پوشیدہ ابھی نہ جانے راکشش ...

مزید پڑھیے

شاعر کا خواب

میرے پوتے نے آکسیجن کا بستہ اپنی پیٹھ پر باندھ کر اجازت مانگی خلا کے سفر کے لیے میرے بیٹے نے جو روشنی کو گن رہا تھا میز پر اپنی نگاہوں کے دو سوالیہ شانوں کو اچھال دیا میری طرف میں نے دوا کی گولیوں کے رکھتے ہوئے ایک مریضہ کے نحیف ہاتھ میں اپنی جھریوں کے بھنور سے پھینک دیا دو نگاہوں ...

مزید پڑھیے

ہم خود بھی اپنے ساتھ نہیں

اک کبھی نہ بیتنے والی شب اک ہاتھ نہ آنے والا دن اس شب سے جان چھڑانے میں اس دن کو ڈھونڈ کے لانے میں ہم ریزہ ریزہ ہو کے رہے جو پایا تھا وہ کھو کے رہے اس پانے میں اس کھونے میں ہونے میں اور نہ ہونے میں کچھ سود و زیاں کا ہاتھ ہے کیا یا اور ہی کوئی بات ہے کیا اس ساری اضافی باتوں میں بس ایک ...

مزید پڑھیے

انتظار

مری بے خواب آنکھوں میں مری ویران آنکھوں میں نہیں ہے دل کشی کوئی نہیں ہے دلبری کوئی مگر کچھ ہے جسے ہر صبح سورج کی کرن آ کر سلام شوق کہتی ہے ادب سے چوم لیتی ہے

مزید پڑھیے

ملاقات

بعد ایک مدت کے اجنبی سے چہروں میں خواب خواب آنکھوں میں درد کی سماعت میں بے دلی کی ساعت میں ایک اجنبی صورت آشنا نظر آئی خواب خواب آنکھوں میں روشنی سی لہرائی درد کی سماعت نے دل کی کچھ خبر پائی اس نے گرم جوشی سے ہاتھ بھی ملایا تھا بعد ایک مدت کے میں بھی مسکرایا تھا اس نے میرے شانے کو ...

مزید پڑھیے

مقتل میں مکالمہ

قتل گاہ کی رونق حسب حال رکھنی ہے غم بحال رکھنا ہے جاں سنبھال رکھنی ہے زور بازوئے قاتل انتہا کا رکھنا ہے دشنہ تیز رکھنا ہے اور بلا کا رکھنا ہے اور کیا مرے قاتل انتظام باقی ہے کوئی بات ہونی ہے کوئی کام باقی ہے وقت پر نظر رکھنا وقت ایک جادہ ہے ہاں بتا مرے قاتل تیرا کیا ارادہ ہے وقت کم ...

مزید پڑھیے

خزاں موسم نہیں ہے

خزاں موسم نہیں ہے ایک لمحہ ہے کہ جس کی آرزو میں سبز پتے ہوا کی آہٹوں پر کان دھرتے ہیں گزرتے وقت میں ساعت بہ ساعت نئے پیراہنوں میں گلابی اور گہرے سرخ عنابی دہکتے خوش نما رنگوں سے لے کر زرد ہونے تک کبھی دھیمے کبھی اونچے سروں میں بات کرتی خوشبوؤں میں بس بسا کر ہوا کے ساتھ محو رقص ...

مزید پڑھیے
صفحہ 318 سے 960