شاعری

ہم سفر

تو نیلے آکاش کی رانی سندر تیرا بھیس بیٹھ کے اڑن کھٹولے پر تو گھومے دیس بدیس تیرے ہونٹوں کے پھولوں سے مہکے یہ سنسار تیرے میٹھے بول کہ جیسے پائل کی جھنکار تیری زلفوں کی خوشبو اپنی باہیں پھیلائے ساون کی بدلی کی صورت نگری نگری جائے تیری چال میں مست پون کا البیلا لہراؤ یا جیسے ...

مزید پڑھیے

موم پگھلاتا رہا تیرا خیال

کیا سلگتی رات ہے میرے ندیم آتشیں شورش زدہ تیرے خیال تو کہ کوسوں دور مجھ سے پر یقین تو یہیں پاس میرے ہے کہیں رنگ ہے کہ نور کی برسات ہے چاندنی اور پیار کی کومل صدا تیرے سانسوں کی مہک پھیلی ہوئی کتنی گڈمڈ ہو گئی ہیں دھڑکنیں لاکھ میں نے باندھ کے رکھا بدن تیری نظروں سے جو پگھلا موم ...

مزید پڑھیے

نا معلوم سفر

گھر سے نکلا ہے ہر اک شخص کچھ امید لیے دل میں ارمان بھی ہیں راستے پر خار بھی ہیں کہیں ٹھوکر کہیں پتھر کہیں دیواریں بھی نہیں معلوم ہے منزل کا پتہ دنیا میں پر سفر زیست کا ہر حال میں طے کرنا ہے کوئی اس جد و جہد میں ہے کہ دولت مل جائے کوئی کہتا ہے مجھے میری محبت مل جائے کوئی چاہتا ہے ...

مزید پڑھیے

نا معلوم سفر

گھر سے نکلا ہے ہر اک شخص کچھ امید لیے دل میں ارمان بھی ہیں راستے پر خار بھی ہیں کہیں ٹھوکر کہیں پتھر کہیں دیواریں بھی نہیں معلوم ہے منزل کا پتا دنیا میں پر سفر زیست کا ہر حال میں طے کرنا ہے کوئی اس جد و جہد میں ہے کہ دولت مل جائے کوئی کہتا ہے مجھے میری محبت مل جائے کوئی چاہتا ہے ...

مزید پڑھیے

ستی

لوگ ہر صبح مجھے بتاتے ہیں میں بیوہ ہو چکی ہوں اور میں ہر شام دھان کے کھیت جیسی وہ ساڑی اوڑھ لیتی ہوں جس سے ابھرتے میرے سنہری بازوؤں کو وہ گندم کی بالیاں کہتا تھا تب محبت خوشبو بن کر دالان اور کمروں میں پھیل جاتی ہے اور پیانو کو ان دیکھی متحرک انگلیاں گدگداتی ہیں اور میں آتش دان کے ...

مزید پڑھیے

محبت کا مرقد

ایک روز سورج طلوع نہیں ہوگا کیونکہ میں مر چکی ہوں گی ایک روز رات سیاہ سیال بن کر میرے حلق سے اتر جائے گی کیونکہ میں مر چکی ہوں گی ایک روز شام دن اور رات کے درمیان ہجر بن کر ٹھہر جائے گی کیونکہ اس روز میں شام بن جاؤں گی ایک روز سارے زخمی خواب مل کر گنگنائیں‌ گے اور میں اس لوری سے سو ...

مزید پڑھیے

خیال کی بنجر زمین

لفظ کب سے میرے ذہن کے سوراخ سے جھانک رہا ہے جہاں ظلمت قرنوں سے راج کرتی ہے اور خیال کے جالے لٹکے پڑے ہیں اوہام کی چمگادڑیں دیواروں سے چپکی ہوئی ہیں سوچ کے پانی پر کائی جمی ہے میرے ذہن کے دریچوں میں کوئی ایسی درز بھی نہیں جہاں سے ہوا داخل ہو کر مایوسی کی حبس کو چاٹ لے اور کوئی روزن ...

مزید پڑھیے

کالا پربت

یہ کالا پربت اور زار و قطار روتا ہوا جھرنا یہ بیکل وادیاں آنکھوں میں آنسو لئے ہوئے یہ پگڈنڈی کا موڑ اور تم کہتے ہو ویرانوں میں نئی روشنی آ گئی روشنی کی لو میں زندگی آ گئی لیکن پونم یہ کالا پربت مجھے کچھ دیکھنے نہیں دیتا خوفناک دھواں میری آنکھوں کو اندھا کئے دیتا ہے تمہیں کہو میں ...

مزید پڑھیے

شناخت کا مینار

بھورے رنگ کے کتوں کی ہڑبونگ نے فضا پر وحشت طاری کر دی ہے ان کی بھوک اتنی شدید ہے کہ وہ صرف مخصوص قسم کی ہڈیوں کا گودا سونگھ سونگھ کر تلاش رہے ہیں اب تو کالے کتے بھی برسوں کی نیند سے جاگ اٹھے ہیں اور وہ بھی ان بھورے کتوں کی تلاش کے مددگار بن رہے ہیں ماحول پر وحشت کی دھند چھائی ہوئی ...

مزید پڑھیے

نظم اپنوں کی تلاش

اس نے جب پہلا حملہ کیا تو میں چپ رہا کیونکہ میں محفوظ تھا اس نے جب دوسرا حملہ کیا تو میں تھوڑا سا سوچنے لگا لیکن چپ رہا کیونکہ میں محفوظ تھا پھر میری خود غرضی نے مجھے بے حس کر دیا وہ لگاتار حملہ کرتا رہا اور میں لگاتار خود کو محفوظ سمجھ کر چپ رہا نہ صرف چپ رہا بلکہ ہمیشہ اپنے ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 264 سے 960