شاعری

جیون میں ہریالی

ہم پیڑ لگائیں گے ماحول بنائیں گے پیڑ لگا کر جیون میں خوشحالی لائیں گے ہم پیڑ لگائیں گے ماحول بنائیں گے اس بڑھتے پردوشن کو ہم دور بھگائیں گے ہم پیڑ لگائیں گے ماحول بنائیں گے کتنا سندر پیڑوں سے موسم ہو جاتا ہے گرمی میں ٹیمپریچر بھی کچھ کم ہو جاتا ہے پیڑ لگا کر ہم سب کو گرمی سے ...

مزید پڑھیے

اسے کہنا دسمبر آیا ہے

اسے کہنا دسمبر آیا ہے خزاں نے بہار کی خوبصورتی کو چنار کے زرد پتوں میں دفن کر دیا ہے ان پتوں کی جوانی اب بڑھاپے کی سسکیوں میں رو رہی ہے اب یہ رونا بھی رفتہ رفتہ دم توڑ دے گا اور اپنے معشوق کی بے بس ٹہنیوں سے جدائی کا کرب سہتے سہتے یہ سوکھے پتے خاک نشین ہو جائیں گے پھر کون انہیں یاد ...

مزید پڑھیے

یہی زندگی ہے

دل کی اداس نگری میں جب یادوں کی بانسری بجتی ہیں تو کتنی ہی اودی پیلی نیلی یادوں کی شہنائیاں احساس کے گھنگرو بجا دیتی ہیں ان شہنائیوں کی کرب ریز و نشاط انگیز آوازیں کبھی روح کو احساس فرحت کے ناچ نچانے پر مجبور کرتی ہیں اور کبھی ستم زدہ خیالات کے سمندر کی تند و تیز لہروں ...

مزید پڑھیے

بابا کتا بھی روتا رہا

بابا میں بہت روئی تھی مجھ سات برس کی نا سمجھ بچی کو کتے اور انسان کے فرق کا کیا پتہ تھا میں تو اپنی کاپی پر محبت کے قلم سے انسان کی تصویر بناتی تھی اور کتے کی تصویر بناتے بناتے نفرت خود بخود دل میں امنڈ آتی تھی لیکن آج جب میں گھر سے اسکول کی طرف نکل پڑی تو راستے پر کتے اور انسان کا ...

مزید پڑھیے

ایک اور برسات

کل رات زوروں کی برسات تھی آنکھوں کے آسمان پر بھی یادوں کے بادل چھائے تھے برسات کی بوندیں اور آنکھوں کے بادل ساتھ ساتھ رات بھر برستے رہے مانو ہر برستی بوند خاموشیوں کو توڑتا ہوا ایک لفظ بن گئی تھی دونوں کے بیچ گفتگو رات بھر ہوئی تھی صبح دیکھا آسمان صاف تھا وہ کھل کر مسکرا رہا ...

مزید پڑھیے

تلاش

خاموش تھا ساحل لہریں بھی تھم چکی تھیں پانی میں جھانکتے ہوئے تاروں کی ایک لڑی تھی چپکے سے بہہ رہی ہوا میں سانسوں کی آواز تھی کھویا تو کچھ نہیں تھا پھر بھی جانے کیا تلاش تھی تنہائی میں اکثر جو یاد آئی ہے یہ وہ بات ہے ہم کو تو یاد آج بھی پہلی وہ ملاقات ہے ایک شخص جو تھا اجنبی دو قدم ...

مزید پڑھیے

اڑان

من کا یہ آنچل چاہتا تو ہے کھلے آسمان میں اڑنا حوصلہ ہے دشائیں ہیں اور پنکھ بھی ہیں اڑنے کے لیے مگر اسے اڑنے سے انکار ہے کہ اب بھی اس کا کوئی سرا زمین سے جڑا ہے شاید

مزید پڑھیے

جھوٹ

یہ چھن چھن کی آواز جو تم سن رہے ہو میری پائل کی نہیں ہے یہ آواز ہے ان معصوم سپنوں کی جو حقیقت کے فرش پر ہر پل گھنگھرؤں کی مانند ٹوٹ کر بکھر رہے ہیں یہ کھنکھناہٹ کی آواز جو میری چوڑیوں سی جان پڑتی ہے یہ آواز ہے ان سخت بیڑیوں کی جو میرے ہاتھوں کو تمہارے ہاتھوں کی اور بڑھنے سے روک رہی ...

مزید پڑھیے

پل

خوابوں کی اونچی اڑان اپنے پروں پر بٹھا کر مجھے دور افق تک اڑا لے جاتی ہے یہی تو ہیں وہ پل جب تمہیں پا کر میں خود کہیں کھو جاتی ہوں کچھ دیر جی لینے کے بعد کچھ سوچ کر خوابوں کے ان مخملی پروں سے پھسل کر میں پھر سے حقیقت کی پتھریلی زمیں پر اتر آتی ہوں من تو اب بھی رہتا ہے تمہارے ہی ...

مزید پڑھیے

کشمکش

ہر رات جا کر چھت پہ اک ایسا ستارا ڈھونڈھنا ممکن ہو جس کا ٹوٹنا اپنی نظر کے سامنے کچھ دیر تک کر آسماں کو تھک چکیں پلکیں گری جب کھلی پلکیں تو دیکھا آسماں قدموں پے تھا وہ کھڑے تھے سامنے جن کی تھی دل کو آرزو دیکھا اسی پل گر رہا ہے ایک ستارا ٹوٹ کر اب یہ تھی الجھن کہ ہم دیکھیں انہیں یا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 265 سے 960