شاعری

نظمیں مجھ کو ڈھونڈ رہی ہیں

نظمیں مجھ کو ڈھونڈ رہی ہیں لیکن شاید میں تو قبرستان کا رستہ بھول گئی ہوں اور اپنے بوسیدہ اور مردہ خوابوں کو اپنے ہی کاندھے پہ اٹھائے قریہ قریہ گھوم رہی ہوں یہ بھی یاد نہیں ہے مجھ کو ماضی اک آسیب زدہ ویران کھنڈر ہے حال فقط پرکار کی گردش مستقبل اک بہلاوا ہے تینوں دریا ایک سمندر میں ...

مزید پڑھیے

خلش

تیری تصویر ترے حسن کا یہ عکس جمیل تیرے ہونٹوں کا تبسم تری آنکھوں کا سرور تیرے اس نقرئی ماتھے پہ طلائی جھومر چاند کی کرنوں میں بہتا ہوا اک موجۂ نور یہ ترے مرمریں بازو پہ گھنیری زلفیں آج ساکت ہیں پس پردۂ تصویر مگر چند مبہم سے نقوش اور یہ دھندلے خاکے تو نے بھیجے ہیں کہ ہو جائے گی ...

مزید پڑھیے

ایک موت ایک احتجاج

لاس اینجلز کے زرتاب شبستانوں میں سو گئی آج وہ آواز کہ جس کا جادو بوئے گل بن کے اڑا کوچہ بہ کوچہ ہر سو بن کے اک چیخ لرز جاتی ہے اب کانوں میں شب گیسو شفق لب رخ تاباں کی سحر کھو گئے آج اندھیروں کے صنم خانوں میں خواہش مرگ میں ڈوبی ہوئی شاداب نظر بجھ گئی درد کے ہیبت‌ زدہ ایوانوں ...

مزید پڑھیے

روشنی کی تلاش

محبت روشنی گیتوں کی خوشبو تمہاری جستجو میں پر فشاں ہے یہ لمحہ اجنبی منزل کا راہی مثال موجۂ دریا رواں ہے لب و گیسو کی بھی اک انتہا ہے لب و گیسو کی بھی اک انتہا ہے غم دل کی مگر منزل کہاں ہے نہ تنہائی یہ سناٹا یہ آنسو تمناؤں کی شمعوں کی قطاریں دلوں کے زخم یادوں کے جنازے دہکتے پھول ...

مزید پڑھیے

میرے ساتھی ترے اور مرے درمیان

میرے ساتھی ترے اور مرے درمیان کس قدر فاصلوں کی فصیلیں کھڑی ہیں یہاں میرا ویرانہ ہو یا ترا گلستاں ہر قدم پر ہزاروں صلیبیں گڑی ہیں یہاں آرزؤں کے سائے ہیں پھر بھی رواں حاصل زندگی حاصل بندگی آنسوؤں کی جلن حسرتوں کا دھواں ہر ابھرتی ہوئی رات کی تیرگی تیری افشاں سے تارے چراتی ...

مزید پڑھیے

مقام آخر شب

تجھے ہے شکوہ کہ شہر نگار چھوڑ کے میں نشاط شام طرب کی بہار چھوڑ کے میں نہ جانے کون سی بستی میں جا بسا ہوں آج نئی حیات کے بے رنگ دائروں کی قسم نہ کوئی دوست نہ کوئی رفیق منزل غم حیات و موت کے دو راہے پر کھڑا ہوں آج مری حیات ہے خود ایک بے کراں صحرا نہ جس میں سایۂ گل ہے نہ جس میں رقص ...

مزید پڑھیے

پیمان وفا

روشنی کی ایک ہلکی سی کرن ظلم کے گہرے اندھیروں سے اٹھی دور جا کر جگمگاتی برف کے کوہ پر انوار میں گم ہو گئی پھول نیلا آسماں رخسار و لب اس کرن کی راہ میں یوں آ گئے ہم کہ جو نقد دل و جاں لے کے ساتھ درد کی راہوں پہ تھے محو سفر اپنے ہی آدرش سے شرما گئے ہنس رہا ہے وقت کا زخمی کنول زندگی کی ...

مزید پڑھیے

میراث

عمر بھر اونگھتی راہوں پہ رہے گرم سفر رقص کرتے رہے جذبات میں سوزش کے شرر آج بھی زندگی اور موت کے دوراہے پر دوست آ بیٹھ کے سستا لیں گھڑی بھر کے لیے شام کے رینگتے سایوں کی گھنی چھاؤں میں یہ تو اپنے ہیں کسی غیر کی میراث نہیں

مزید پڑھیے

دو کرنیں

تیری یادوں کی یہ بخشی ہوئی الھڑ خوشبو دل کے ویرانے میں اس طرح سے در آتی ہے جیسے بوسیدہ مقابر میں اجالے کی کرن توڑ کر حلقۂ ظلمات کو لہراتی ہے تجھ سے پہلے بھی کسی اجنبی راہی نے یہاں دل بیتاب کو خوشبو کا ستم بخشا تھا پھول سے ہونٹوں نے زخموں کے دہن کھولے تھے نیم خوابیدہ نگاہوں نے وہ ...

مزید پڑھیے

جب چلی سرد ہوا

موسم سرما کی یہ ویران اور مغموم شام کہر کی چادر میں لپٹی ہے سسکتی کائنات گیت خوابوں کی طرح لرزاں سلگتی ہے حیات برف میں ڈوبی ہوا کی سیٹیاں چیل کے جنگل کی میٹھی لوریاں ڈگمگاتے ہیں پریشاں مضمحل لمحوں کے گام چار سو آواز دے کر پوچھتا پھرتا ہوں میں ان ہواؤں کی جبین ناز پر کیا کہیں لکھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 263 سے 960