شاعری

چیخ

کبھی وہ صدا گنگناتی سبک رو ہواؤں کی آہٹ تھی دھیرے سے گرتی ہوئی نیند سے چور پلکوں کی لرزش تھی گنگ اور نیلی فضاؤں میں اڑتے ہوئے ایک پنچھی کی مستی بھری پھڑ پھڑاہٹ کا نغمہ کلی کے چٹکنے کی آواز تھی اب وہی اک صدا گونجتے گونجتے باؤلی رات کی چیخ میں ہے ہواؤں کی روتی ہوئی بانسری بادلوں کی ...

مزید پڑھیے

خوف

اس گھر کی سب سے اوپر کی منزل میں رہنے والی لڑکی مجھ کو سارا دن اپنی حیران آنکھوں سے تکتی رہتی ہے رات کو اس گھر کا دروازہ کھلتا ہے لمبے لمبے ناخنوں والی ایک چڑیل نکلتی ہے جو چیخ چیخ کر ہنستی ہے اور میری جانب بڑھتی ہے

مزید پڑھیے

شناخت

ایک مقبولیت کی ساعت میں آئی ہونٹوں پہ اک دعا ایسے وقت کی وسعتوں سے اے مالک چند لمحے مجھے عنایت ہوں ساعتیں وہ جو صرف اپنی ہوں وہ بھی تنہا ہوں ہم بھی تنہا ہوں اور وہ آستیں زمانے میں میری پہچان بن کے زندہ ہوں ایسی مقبولیت کا لمحہ تھا میری پہچان بن کے وہ لمحے میری مٹھی میں بند ...

مزید پڑھیے

شرط

ابتدا سے پاؤں میرے منجمد ہیں اور میرے سر کی زینت برف کا اک تاج ہے حکمرانی آگ کی چاروں طرف سورج کا پھیلا راج ہے اک کشش کی قید میں سارا بدن ہے اور مسلسل برف میں جکڑے ہوئے پیروں کو حکم رقص ہے شرط ہے کہ برف کو سر پہ سجا کر رقص بھی کرتی رہوں میں اور کرنوں کی تپش کو جذب بھی کرتی رہوں ...

مزید پڑھیے

ابجد

نظم کی تختی پہ غزل کے ہجے پنجوں پہ گاجنی کے بلکتے بلکتے رشتوں کی ابجد پہ ہراساں کھڑے تھے لمحوں کی رسوئی میں حرفوں کی ہنڈیا عہد نزار سے جڑ گئی نہ غزل کی تختی نہ نظم کے ہجے بس ابجد تھی کہ رشتوں کی جدول میں پڑی پڑی حرفوں کی شناخت بھول گئی

مزید پڑھیے

تیسری بارش سے پہلے

اس روز موسم خزاں کی پہلی بارش ہوئی جب اس نے میرے در سے آخری بار قدم نکالا اس نے میری رسوئی سے ایک نوالہ نہ لیا میرے کنویں سے ایک گھونٹ نہ پیا اور میرے ہونٹوں کا ایک بوسہ نہ لیا بلکہ پہلے لئے ہوئے سارے بوسے تھوک دیئے جب موسم خزاں کی دوسری بارش ہوئی تو میری رسوئی میں ایک سانپ ...

مزید پڑھیے

اک عمر کی دیر

صفحۂ دل سے ترا نام مٹانے میں مجھے دیر لگی پوری اک عمر کی دیر! اشک غم۔۔۔ قطرۂ خوں۔۔۔ آب مسرت سے مٹا کر دیکھا رنگ دنیا بھی ملا۔۔۔ رنگ تمنا بھی لگا کر دیکھا مکتب عشق میں جتنے بھی سبق یاد کیے یاد رہے عرصۂ زیست میں خوابوں کے خرابے تھے بہت ان خرابوں میں خیالوں کے نگر جتنے بھی آباد ...

مزید پڑھیے

سمندر کی جانب سے آتی ہوا میں

کبھی نیلگوں آسماں کے تلے سبز ساحل پہ ملنے کا وعدہ ہوا تھا سمندر کسی خواب سا خوش نما تھا سمندر کے پہلو میں شہر دل افروز کا ہمہمہ تھا یہ شہر آج اشکوں میں ڈوبا ہوا ہے یہاں سے وہاں تک ہر اک رہ گزر پر اک آسیب کا سامنا ہے نگاہوں کے آگے دھواں ہے سمندر کہاں ہے سمندر کے ساحل پہ ملنے کا وعدہ ...

مزید پڑھیے

ہجر کی عمر بڑھی ہے

ہجر کی عمر بڑھی ہے تو ہم ان آنکھوں کو اب کسی خواب نگر میں نہیں جانے دیں گے غم سے اب دوستی کر لیں گے خوشی کو نہیں آنے دیں گے ہجر کے وقت میں احوال شب و روز کا کیا پوچھتے ہو اس میں ساعت بھی زمانوں سے بڑی ہوتی ہے دن کھڑا ہوتا ہے جلاد کے مانند سبھی راتوں پر رات ڈائن کی طرح وقت کے ناکے میں ...

مزید پڑھیے

یہ رستہ

ان درختوں کے گہرے گھنے، خواب آلود سائے میں خاموش، حیران چلتا ہوا۔۔۔ ایک رستہ کسی دور کی۔۔۔ روشنی کی طرف جا رہا ہے یہاں سے جو دیکھو تو جیسے۔۔۔ کہیں حد امکاں تلک گم شدہ وقت جیسی اندھیری گپھا ہے یہاں سے جو دیکھو۔۔۔ تو امید جیسا بہت حیرت افزا۔۔۔ عجب سلسلہ ہے جو اس تنگ، تاریک نقطے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 209 سے 960