شاعری

مسافر پرندے

افق تا افق نیلگوں آسماں مسافر پرندوں کی منزل کہاں بہت دور پیچھے کو اس بحر کے ماورا اترتی رہی برف جمتی رہی تہ بہ تہ آشیانوں کے پاس تب نظارے نظر آشنا اذن آوارگی زاد افسردگی دے کے تھرائے با چشم تر کہ شاید بہت دور آگے کو اس بحر کے ماورا زمرد جڑے ساحلوں نے سنا ہو سلام عید کا دھوپ کے ...

مزید پڑھیے

پریتی

تم نہیں ہو مٹنے والی نہیں پاتی ہو جنم تم نئے نئے ہر نئی بہار کے پھولوں میں مانند حیات تمہارے پتے بھی پیلے پڑ جاتے ہیں مانند حیات تمہیں بھی ڈھک دیتی ہے برف پر تمہاری مٹی میں پریتی پکے بچنوں کے بیج دبے ہیں پورا ہونا ہے جن کو بسر اوے میں بھی پیت نہ کرنے کی یہ دھن بیکار ہے یہ مہکار ...

مزید پڑھیے

کھیل رتوں کا

اک رت آئے اک جائے ہم رت رت چونکیں کروٹ بدلیں سو جائیں معصوم گلاب پھواریں بے لفظ تحیر بادل چمکیلے سفینے میداں ٹھہرا ہوا پانی سائے وہ جزیرے دھانی اجلی شادابی آنکھیں بھونرا تو ہنسی فوارہ پھر دھول دھوئیں کا پردہ آنا جانا چونکانا اک کھیل رتوں کا اپنی نظروں سے اوجھل اک سیارہ دل ...

مزید پڑھیے

شہر نوا

اس گرد و نواح میں مہکی تھی وہ نغمہ بہ لب لالے کی کلی پتی پر لپٹی پتی سرکاتی آہستہ خرام سنہری دھوپوں میں اک پوری رت کا خم اس کے امرت سے بھرا اک پوری رت ڈنڈی ڈھلکانے پنکھڑیاں بکھرانے کو درکار ہوئی سب چمن چمن گل حوض لبالب سائے گھنے جھونکوں کی صورت کی رواں دواں افتادہ بظاہر سب ...

مزید پڑھیے

اسیر

افق کے سرخ کہرے میں کہستاں ڈوبا ڈوبا ہے پکھیرو کنج میں جھنکار کو اپنی سموتے ہیں تلاطم گھاس کے بن کا تھما تارے درختوں کی گھنی شاخوں کے آویزاں میں موتی سے پروتے ہیں سبھی سکھیاں گھروں کو لے کے گاگر جا چکیں کب کی دریچوں سے اب ان کے روشنی رہ رہ کے چھنتی ہے دھواں چولہوں کا حلقہ حلقہ ...

مزید پڑھیے

نظم

دغا نے مجھے تہ نشیں رکھا میرے حوصلے میری وفا مسرتیں عشق اور خواب تہوں کے بیچ راکھ ہو گئے میرے چاپ کی زبان دب گئی زندگی دبتی نہیں مجھے دھڑکا سا لگا ہے! دغا بازوں کو خدا کا بھی خدشہ نہیں وہ پانی سے مٹی سے ریت سے نہیں پانچوں وقت مکاری کی جھاگ سے وضو بناتے ہیں اور زندگی کے تانڈؤ ...

مزید پڑھیے

نظم

ایک روز میں نے سجدے سے سر اٹھایا وہ وہ تھا ہی نہیں جس کو میں پوج رہی تھی

مزید پڑھیے

نظم

وہ لوگوں کو روتا دیکھ کر ہنس پڑتی ہے اور جب اسے ہنسنا ہوتا ہے کسی کو بھی رلا دیتی ہے آج اس نے مجھے رلا دیا جب میری آنکھیں روتے روتے سوج گئیں تو کہنے لگی اب میں جی اٹھی ہوں تازہ ہو گئی ہوں میں لرز گئی اللہ تیرے بندے کیسی کیسی غذا لیتے ہیں خود کو زندہ رکھنے کے لیے

مزید پڑھیے

نظم

وجود کے جو حصے وجود کی تلاش میں کھو جاتے ہیں ان کا اندراج زندگی کی کسی بھی فائل میں نہیں ملتا ہاں ان نظموں میں جو آنسوؤں کی روشنائی سے لکھی گئی ہوں وہ حصے بستے ہیں لیکن پھر ہمیں تاریکی کو اپنا نشیمن بنانا پڑتا ہے اس راز سے زندگی نہیں وجود واقف ہے اور ہم وجود نہیں زندگی جیتے ہیں

مزید پڑھیے

نظم

اگلی فون کال پہ وہ تمام چراغ بجھ جاتے ہیں جو میں پہلی فون کال کے بعد جلاتی ہوں! چراغ جلاتے جلاتے میں اپنی انگلیاں بھی جلا لیتی ہوں میری انگلیاں جھلسنے کا اندراج تم اپنی کون سی فائل میں رکھ رہے ہو

مزید پڑھیے
صفحہ 174 سے 960