شاعری

نظم

جب ہم کسی خیال کو زندگی دینے سے رہ جاتے ہیں تو وہ دفن ہو کر من میں قبر بنا لیتا ہے ایسی قبریں بنا کتبے کے ہوتی ہیں اور چرواہے اکثر مویشیوں کو ایسے قبرستانوں میں چراتے ہیں قبریں اندھی ہوتی ہیں خیال اندھے نہیں ہوتے وہ قبر سے بھی جھانکتے رہتے ہیں گزرتے ہوئے ہر پیر کی آہٹ کا مزہ لیتے ...

مزید پڑھیے

نظم

کہیں میں اندھی تو نہیں وہ سب کہاں ہیں قافلہ منزل پھر چلتے چلتے ایک مدت بھی تو ہوئی اب سورج بھی ڈوبنے کو ہوگا کہیں کوئی پیڑ بھی نہیں جس کی چھاؤں میں مطمئن بیٹھ جاتی فقط ایک سنسان راستہ اور میں یا اللہ کچھ نہیں تو ایک دراڑ ملے جہاں میں چھپ جاؤں اور بس

مزید پڑھیے

نظم

اگر تمہارے تین ہزار پیڑوں میں سے ایک میں بھی ہوتی تو ایک سال میں چھ اسپرے ایک کھاد اور تمہاری ہزاروں چاہت بھری نظریں مجھے نصیب ہوتی اور تب دل سوگوار نہ ہوتا میری ہر ٹہنی تم اپنے ہاتھوں تراشتے میں سنور جاتی ہوا مجھ میں سانس بھرتی دھوپ اور بادل میرے دل کی سرخ سچائیوں میں جھلمل ...

مزید پڑھیے

نظم

وہ جو تیز دھوپ کے کھردرے راستوں پر بے رنگ ہو گئی تھی ایک وقت کی ست رنگی اوڑھنی تھی بے رنگ کو دنیا کسی بھی رنگ میں رنگ دیتی ہے ایک دن وہ بھی رنگریز کے ہاتھوں رنگ گئی اور اوڑھنی پھٹ گئی

مزید پڑھیے

نظم

لاؤ ذرا پہن لوں تمہیں تنہائی اتار دی میں نے باہر کاریڈور میں پڑی سسک رہی ہے اپنے دھیمے لہجے میں وہ ساری داستانیں سناتی جنہیں سن کر میں دھیمی آنچ پر پہروں سلگتی تھی لاؤ ذرا پہن لوں تمہیں وہ کی ہول سے جھانک رہی ہے جیسے ہم موقعہ پاتے ہی اپنے اصل میں جھانکتے ہیں اس سے پہلے کہ وہ مجھے ...

مزید پڑھیے

نظم

تم نے جو روٹی مجھے کھلائی وہ میری سوچ اور فیصلہ کرنے کی طاقت مجھ سے چھین کر تم نے خریدی تھی جس چاہت کے چشمے کا پانی تم مجھے پلا رہے ہو میرے جسم کی آمادگی سے پھوٹتا ہے میری تشنہ روح میری نسوں کو چاٹ رہی ہے میں سکڑ رہی ہوں اور تمہاری آرزوؤں کی رگیں کسی خواب کے نشے کی طرح پھیل رہی ...

مزید پڑھیے

نظم

یہ میں تمہیں دیکھ رہی ہوں یا..... یہ میرے ارد گرد تمہاری پرچھائیاں ہیں یا..... یہ تم اقرار کی ریت پر میرا نام لکھ رہے ہو یا..... یہ تم چنار کے سوکھے پتوں سے میرے لیے آگ روشن کر رہے ہو یا..... یہ تم میری آنکھوں کو خواب دے رہے ہو یا..... سنو، میں جس روز یا..... کے بعد کے خیالوں کو نظم کرنے کے قابل ...

مزید پڑھیے

نظم

سنو کیا سچ مچ نہیں بلاؤ گے مجھے تمہارے غازی سے میں نے کہا تھا موت کا انتظار کر رہی ہوں وہ کہہ رہا تھا موت مجھ جیسے بد کاروں کو آتی نہیں تم تو سبھی کو بلاتے ہو مجھے موت کیوں نہیں آئے گی مولا تم نے جو جہنم بھی بنائی ہے میں تمہارے بندوں کی بنائی ہوئی جنت میں کب تک ٹھہروں؟

مزید پڑھیے

تنہائی میرا لباس ہے

رشتے میرے من کی اترن ہے قربتوں کا لمس دائمی نہیں تنہائی کا لمس سچا ہے پر من پگلا ہے بچے جیسے روتا ہے محبت پہننا چاہتا ہے دل کی محبت رات کو سڑکوں پہ بکتے غباروں جیسے ہوتی ہے جس کی گیس آدھی رات کو گھر پہنچنے تک نکل جاتی ہے جانتی ہوں پر من پگلا ہے بچے جیسے روتا ہے

مزید پڑھیے

نظم

کرفیو زدہ شہر کی بیوہ سڑکیں آنکھیں کھولتی ہیں نگر کے گربھ میں کیا دیکھتی ہیں نہیں معلوم حیرت زدہ ہیں دھرتی شاید گربھ دھارن کر رہی ہے چاند چھپ کر کھڑکیوں سے جھانکتا ہے آوارہ کتے ٹولیوں میں بھونکتے ہیں زندگی برہنہ سو رہی ہے میں رات سی کٹ رہی ہوں پوری وادی میں کرفیو نافذ ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 175 سے 960