اک ستارہ آدرش کا
اے تماشا گاہ عالم روئے تو ماہ نو ہم دیکھتے تجھ کو کس ارمان سے دیکھتے ہی دیکھتے تحلیل ہو جانا ترا دیکھتے ہم پھر بھی تجھ کو ڈھونڈ رہتے اسی سونے افق میں اے ہلال وقت کے دریا میں ماہی گیر نے ڈالا ہے جال کس لیے ساحل کا پتھر بن کے ماہی گیر بیٹھے ہوں یہاں تھاہ میں ڈوبے ہوئے وہ مہر و ماہ بن ...