شاعری

اک ستارہ آدرش کا

اے تماشا گاہ عالم روئے تو ماہ نو ہم دیکھتے تجھ کو کس ارمان سے دیکھتے ہی دیکھتے تحلیل ہو جانا ترا دیکھتے ہم پھر بھی تجھ کو ڈھونڈ رہتے اسی سونے افق میں اے ہلال وقت کے دریا میں ماہی گیر نے ڈالا ہے جال کس لیے ساحل کا پتھر بن کے ماہی گیر بیٹھے ہوں یہاں تھاہ میں ڈوبے ہوئے وہ مہر و ماہ بن ...

مزید پڑھیے

سلسلۂ مکالمات خود کلامی

کب سے اس آتش‌ نفس کا یہ دبستان قدیم چل رہا تھا ناگہاں نکلا نتیجہ امتحان علم اسما کا تبھی سے رہ گئی ہو کر مقفل یہ عمارت اور چھٹی پر معلم اپنے حجرے میں مقیم آدم خاکی کی پیدائش سے پہلے جن کا کہنا تھا زمیں پر خون بہائے گا یہ ناحق اور مچائے گا فساد اب وہی پیشین گو امیدوار اس کے گن گاتے ...

مزید پڑھیے

نوائے‌ پیرائے کار گہہ شیشہ گری

طلسم صوت جس کا نام تھا پھر وہ گپھا آئی تھکن کی نیند جیسی گنگناتی جھومتی ٹھنڈی ہوا آئی جہان شور و شر لیکن کسی کو چین سے کب سونے دیتا ہے صدائیں کتنی انمل ایک لا یعنی تسلسل میں ترانے اشتہاری چہچہے قوالیاں اقوال زریں ڈائیلاگ اشعار نا موزوں پکاریں مانجھیوں کے گیت پھر ستیم شرن سنگھم ...

مزید پڑھیے

بیابان بصرہ

تو پھر ابا نہیں آئے فقیر آیا نہ مٹھی بھر اناج آیا بدل دیتا ہے رخ باتوں کا جیسے بے خیالی میں وہ جھیلیں درمیاں آتی ہیں جو جلے چمکتے ابر پاروں نرکلوں نیلوفروں سے جا بجا آباد کہیں نیلم کہیں لعل و زمرد سے جو مالا مال کسی رت میں دہکتی دھول کی جاگیر سوکھا تال مگر ابا جو کہتے تھے وہاں ...

مزید پڑھیے

یاد نگر

میں اوس بن کے برس جاؤں تیرے سبزے پر میں گیت بن کے تری وادیوں میں کھو جاؤں بس ایک بار بلا لے مجھے وطن میرے کہ تیری خاک کے دامن میں چھپ کے سو جاؤں شگفتہ گھاس میں یہ زرد زرد ننھے پھول نہ جانے کس لیے پگڈنڈیوں کو تکتے ہیں انہیں خبر ہی نہیں ان کو چننے والے آج گھروں سے دور کسی کیمپ میں ...

مزید پڑھیے

رسالت

ہوائے بیاباں کی سرگوشیاں دھیمی دھیمی کہ دیکھو سحر ہے قریب ہزاروں الم ہائے جاں کاہ کا خوں بہا اس کے آہنگ میں رنگ میں اس کی شبنم سے بیدار ہر پھولبن کا نصیب سحر ہے قریب مگر میں نے دیکھا سحر کو بہت دور اپنی ابد گیر لذت میں گم گل و برگ و اشجار سے ماورا زمانوں کی رفتار تاروں کے انوار سے ...

مزید پڑھیے

یاد وطن

پودے نہیں اکیلے چھایا ہے ان کی سنگی ساتھی پر آتما اکیلی وادی کی گود میں چاند درپن اچھالتا ہے چاندی کا جگمگاتا وہ جھلملاتا منڈوا خوشہ سا کھل اٹھا ہے اس میں جنونی تارا پربت نہیں اکیلے چلتے چلتے ہیں ساتھ ان کے وحشی ہوا کے جھونکے ریلے پر آتما اکیلی گاتی ہے جب یہ دھرتی ساتھ اس کے ...

مزید پڑھیے

راگ یگ کی نظمیں

باجا کبھی نہ تھمنے والا شیون سوکھی پھلیوں کا گرد آلود ہوا کے جھکڑ اتنی اتھل پتھل جاری سناٹا پھر بھی سناٹا اک کھنچی کمان وہ کب ٹوٹا کب پھوٹا حاشیۂ دیوار کی صورت ڈھیر سنہرا پیلے سوکھے پتوں کا چرمرا کرتا ضرر سے عاری خاک میں رلتی چرمر اس کی سنتا ہوا کھڑکی سے چپکا تھا کھڑا وہ بے ...

مزید پڑھیے

صدا بہ صحرا

سکھی پھر آ گئی رت جھولنے کی گنگنانے کی سیہ آنکھوں کی تہ میں بجلیوں کے ڈوب جانے کی سبک ہاتھوں سے مہندی کی ہری شاخیں جھکانے کی لگن میں رنگ آنچل میں دھنک کے مسکرانے کی امنگوں کے سبو سے قطرہ قطرہ مے ٹپکنے کی گھنیرے گیسوؤں میں ادھ کھلی کلیاں سجانے کی بیاباں سبزہ نوخیز سے آباد ہوتے ...

مزید پڑھیے

لب کشا

یہ چپ کتنے دن کی تھی جو آنسوؤں میں ڈھلی یہ گہری چٹان ایسی پتھریلی جامد انوکھی سی چپ اس کا چھونا بھی ممکن تھا تب یہ چپ تھی کہ پورا وجود اپنا جو آنسوؤں میں ڈھلا بتاؤ تو اس چپ کی بھیدوں بھری تھاہ میں شور کیا تھا بتاؤ تو کیا گونج تھی ایک صدا دوسری سے ہم آہنگ جس میں نہ تھی جیسے صدیوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 173 سے 960