شاعری

لینڈسکیپ

نیلگوں کہرے میں لپٹی شام ہے لفظ سارے اپنی اپنی کشتیوں میں بیٹھ کر لمبے سفر پر جا رہے ہیں میں اکیلا اس کنارے پر کھڑا ہوں حسرتیں دل میں لیے یہ سوچتا ہوں کاش میں بھی ہم سفر ہوتا تو میں بھی دیکھتا کہ کس طرح الفاظ رستوں بستیوں اور منزلوں پر زندگی مرقوم کرتے ہیں

مزید پڑھیے

شورش جنون

بہار آئی ہے شورش ہے جنون فتنہ ساماں کی الٰہی خیر رکھنا تو مرے جیب و گریباں کی بھلا جذبات الفت بھی کہیں مٹنے سے مٹتے ہیں عبث ہیں دھمکیاں دار و رسن کی اور زنداں کی وہ گلشن جو کبھی آزاد تھا گزرے زمانے میں میں ہوں شاخ شکستہ یاں اسی اجڑے گلستاں کی نہیں تم سے شکایت ہم صفیران چمن مجھ ...

مزید پڑھیے

مجذوب

دریا جنگل جھیل سمندر برکھا رت اور ساون بھادوں سب کچھ میرے اندر ہے باہر کی دنیا کے منظر سے کیا لینا دینا میرا میں تو اپنے اندر سے ہی باتیں کرتا رہتا ہوں نظمیں لکھتا رہتا ہوں

مزید پڑھیے

کمرہ

بظاہر تم کو لگتا ہے کہ سب کچھ پاس ہے میرے نہیں ہمدم میں سب کچھ چھوڑ آیا ہوں اسی کچے مکاں کے اوپری کمرے کی دیواروں سے لپٹی چند تصویروں کے رنگوں میں جو اب تک سانس لیتی ہیں وہ تحریریں کتابیں اور تنہائی کی باتیں سب اسی کمرے کے نیلے کارپیٹ پر آج بھی ویسے پڑی ہوں گی میں جیسے رکھ کے آیا ...

مزید پڑھیے

الٹی میٹم

چلو چیزیں سنبھالو سب قلم کاغذ کتابیں حرف لمحے خواب تعبیریں تمہارے قہقہے آنسو تبسم سسکیاں آہیں خموشی چیخ حیرت اور اس میں ڈوبتی راہیں چلو جلدی سمیٹو سب تمہارے خاک میں ملنے کا موسم آن پہنچا ہے

مزید پڑھیے

جنگل کٹتے جاتے ہیں

جنگل کٹتے جاتے ہیں شیر بہت گھبراتے ہیں پونچھ اٹھائے پھرتے ہیں ہر آہٹ پہ ڈرتے ہیں کیا جانے کب پیڑ کٹے کیا جانے کب شاخ گرے چڑیاں اڑ کر چلی گئیں بچے چھوٹے یہیں کہیں ہاتھی کو یہ فکر ہوئی چرا نہ لے تالاب کوئی تب وہ کہاں نہائے گا کیسے پیاس بجھائے گا بھالو بھی خاموش ہوا گیدڑ کو افسوس ...

مزید پڑھیے

جان بیٹا خلافت پہ دے دو

بولیں اماں محمد علیؔ کی جان بیٹا خلافت پہ دے دو ساتھ تیرے ہیں شوکتؔ علی بھی جان بیٹا خلافت پہ دے دو گر ذرا سست دیکھوں گی تم کو دودھ ہرگز نہ بخشوں گی تم کو میں دلاور نہ سمجھوں گی تم کو جان بیٹا خلافت پہ دے دو غیب سے میری امداد ہوگی اب حکومت یہ برباد ہوگی حشر تک اب نہ آباد ہوگی جان ...

مزید پڑھیے

آج

آج یہ آج کیا ہے کبھی تم نے سوچا بھی ہے آج یہ آج تاریخ ہے اپنی تہذیب کی اپنے انمول ماضی کی میراث ہے آج یہ آج کیا ہے کبھی تم نے سوچا بھی ہے آج یہ آج پیغام ہے اپنے مستقبل تابناک و ضیا‌ پاش کا اپنے فردا کی خوش رنگ تعبیر ہے آج یہ آج کیا ہے کبھی تم نے سوچا بھی ہے آج یہ آج صرف اک نہیں آج ...

مزید پڑھیے

ہائیکو

پیار شرطوں پہ مل نہیں سکتا پھول ہوتا ہے بہت نازک سا شک کے کانٹوں پہ کھل نہیں سکتا

مزید پڑھیے
صفحہ 171 سے 960