شاعری

تیری سنگ

زلفوں کی خوشبو اندر تک اتر رہی ہے ہوائیں سرسرا رہی ہیں ہڈیوں ہی کوئی راگ بج رہا ہے یہ طبلہ خاموش ہے بہت ساون کی پھوہاروں کی تھاپ تیز ہے تم آؤ میرے سنگیت کو سنگت دینے کے لئے

مزید پڑھیے

معدوم ہوتی خوشبو

اب کبھی اچانک سامنا ہوتا ہے تو کھنکتی مہکتی یادوں کے دھندلکے وہ سارے چمبن وہ سارے لمس وہ ساری خوشبوئیں بکھرنے لگتی ہیں ہم حیرت زدہ ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں کہ اب کیا باقی بچا ہے اس بے نام شناخت کے جو ہم دونوں کے بیچ سے دھیرے دھیرے معدوم ہوتی جا رہی ہے

مزید پڑھیے

دل سے

دل سے ہزار خیال نکلتے جب سے تمہیں دیکھا ہے تم سے پہلے زندگی میں کوئی چمک نہیں تھی اب ہاتھ بھی دعا کو اٹھتے ہیں اب نماز بھی میں پڑھتا ہوں تم سے پہلے میں ایسا نہیں تھا تم کو دیکھا تو دست سوال ہوا میں

مزید پڑھیے

جو میں نے سوچا تھا

میں نے سوچا تھا پہلے پھر کہا تھا جو کہا تھا شاید وہی سوچا تھا جو سوچا تھا وہی کچھ کہا تھا میں نے جس نے سنا اس نے وہی سمجھا جو میں نے کہا تھا لیکن سننے والے کے لئے میری کہی گئی بات بدل گئی تھی جو سوچا تھا میں نے ویسا کچھ بھی نہیں یہی تھا اس تک

مزید پڑھیے

فریاد

سنو درزی ٹانک دو گے جسم کے اس حصے کو جس پہ موسم کا سب سے گہرا اتر ہوتا ہے سمندر ان دنوں بے حد یہاں یہ ہے سمندر کے یار کون ہے

مزید پڑھیے

میرا اس کا ساتھ

میرے بستر میں دیپک کی طرح میرے ساتھ کون جلتا ہے کون ہے جو میرے ساتھ دور بہت دور تک جلتا ہے میرے غموں کے ساتھ میری ہڈیوں میں اترتا ہے کون ہے گئے رات جو میرے شانوں پہ سر رکھ مجھ کو بڑے پیار سے کہتا ہے ٹھیک ہے سب ٹھیک ہو جائے گا کیونکہ تم اکیلے تو نہیں ہو

مزید پڑھیے

میں اور تم

تم تھی مجھ میں ہی میرے اندر تمہارے ہونے نے ہی مجھے تنہائی کا احساس دیا تم مجھ میں سے ہی ہو تمہیں میں نے جنم دیا ہے اپنے ہی جسم کے حصے سے اور تمہارے ہی جسم سے پیدا کیا میں نے اپنے روپ کو

مزید پڑھیے

وادی سندھ

سندھ کی وادی پہ ہے کالی گھٹا چھائی ہوئی برقعہ اوڑھے اک دلہن بیٹھی ہے شرمائی ہوئی منتظر بارش کے ہیں مکی کے اور شالی کے کھیت تشنگی سے خوشہ کی صورت ہے مرجھائی ہوئی آج گاندر بل ہوا ہے اس کا منظور نظر اس کے سر پر کیا گھٹا پھرتی ہے منڈلائی ہوئی سندھ کے نالے کی آہوں کا دھواں شاید ...

مزید پڑھیے

شعرائے قوم سے خطاب

اے شاعران قوم زمانہ بدل گیا پر مثل زلف یار تمہارا نہ بل گیا پیٹو گے کب تلک سر رہ تم لکیر کو بجلی کی طرح سانپ تڑپ کر نکل گیا اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا اک تم کہ جم گئے ہو جمادات کی طرح اک وہ کہ گویا تیر کماں سے نکل گیا ہاں ہاں سنبھالو قوم کو شاید ...

مزید پڑھیے

مشرقی بیوی

کس قدر جھگڑتا ہے روز روز لڑتا ہے پھر بھی جانے کیوں آخر مجھ سے روٹھ کر اکثر جب بھی گھر سے جاتا ہے بہت یاد آتا ہے خود کو ڈانٹتی ہوں میں ساری غلطیاں اس کی رکھ کے اپنے کھاتے میں ہنس کے بات کرتی ہوں یہ ہی میرا شیوہ ہے کہ میں ہوں مشرقی بیوی

مزید پڑھیے
صفحہ 170 سے 960