شاعری

ڈرتے ڈرتے دم سحر سے

چاند بیگانہ ہے کون اس کو کہے گا اپنا اس کے حالات جدا اس کے مقامات جدا نو دمیدہ کبھی کامل کبھی ناپید کبھی بس یہی رنگ تلون ہے تشخص اس کا تارے سرگوشیاں کرتے رہے ان کی تب و تاب ان سے اچھی کہ رسائی مرے دل تک پائی چاند نے سوچا مرا قصہ بھی مجھ سے بہتر جو وہاں چلتا رہا گونج یہاں تک ...

مزید پڑھیے

باز گشت

نغمہ زار درد کی جانب چلے ہم ایک بھی ذرہ نہ کچلا جائے اس رفتار سے نغمہ زار درد کی جانب چلے ہم کنج میں پیڑوں کے سورج جھانکتا تھا کوہساروں سبزہ زاروں میں جھمکتی روشنی کا جشن تھا جشن جاری ہی رہے گا تا ابد جاری رہے نغمہ زار درد کی جانب چلے ہم لعل و مرمر سے گندھا قالب اور اس کے محور اس کے ...

مزید پڑھیے

بہتا پانی

اجلے اجلے تناور تنوں پر تھمے نخل زار منتشر ان میں سیماب گوں نو دمیدہ ہلال ان گنت بیکرانی کے شفاف زینوں پہ وہ فاصلوں کا بھرم بستیاں دور دور آب گوں اک دھندلکے میں لپٹی فضا خواب گوں اور نظر کی پہنچ پست و بالا میں بے روک میں نے کہا کن کے ناموں سے منسوب ہوں گے یہ تکیے قدیم شائبہ سا اک ...

مزید پڑھیے

زوال عہد تمنا

ہوا میں اڑتا ہے کاجل فضا ہے حزن سے بوجھل ہر ایک کنج کی ہلچل کہر میں ڈوب چلی ہے وہ کہکشاں ہے وہ اس پر سحاب نور کا باراں یہ اپنا خاک بسر گھر یہ اپنی تیرہ گلی ہے وہ ماہ نکلا پہ اس کا فروغ بحر فلک ہے نصیب ارض تو شاید تکدر ازلی ہے نہ جانے کب سے خیالوں میں اپنے محو کھڑی ہے وہ اک سکھی جو ...

مزید پڑھیے

اے ہم نفساں

بلڈوزر قدموں سے چلتی کالونی بکتر بند نئی بے حد توسیع کے صحرا میں کیا سونگھ رہی ہے سونڈ اٹھائے آدم بو آنکھیں پلکیں جھپکاتے رہنے پر مامور اس کی بے وقفۂ خواب سگنل کی بتی جلتی بجھتی سدا دن ہو یا رات سنسنی زدہ ہر کھٹکے پر اعصاب شاہد آ ہی گیا آنے والا یوم حساب حربہ میں خود اپنے محارب ...

مزید پڑھیے

افق در افق

سمٹتے پھیلتے پیہم سلگتے اور دھندلاتے افق جب پے بہ پے ابھریں افق جب پے بہ پے ڈوبیں تو اپنا کام کیا ہے ناؤ اپنی کھیتے رہنا ہے افق محراب در محراب اپنے دوار پھیلائے تعاقب کے اشارے برق بن کر کوند جاتے ہیں بدل جاتی ہیں راہیں دوریاں بڑھتی ہی رہتی ہیں کبھی بے کارواں بے مشعل و شور جرس ...

مزید پڑھیے

سلامت سبوچہ ترا ساقیا

ازل بھولا بسرا سا اک خواب ہی سہی بند اک باب ہی وہ سدا کے لیے مگر بارہا حرف حق لوح جاں سے مٹایا گیا جب بہ انواع جبر ازل ہی وہ مصرعہ اٹھانا ابد تک جسے ناگزیر دھماکے سے پہلے کی اک سنسنی بنی امتحاں گاہ میں خوف و دہشت کے ہم دوش اک ذمہ داری کا بار یہاں ہم نہ ہوتے جو امیدوار تو ہوتے کوئی ...

مزید پڑھیے

ارض موعود

وعدے کی زمین نہیں آئی وہ اونچا شیخ جو سب نظروں میں گھرا ہوا ہے بے پروا معصوم اٹل وہ گہرا ساگر جس کی تھاہ میں اپنے سوا کوئی بھی نہیں وعدے کی زمین نہیں آئی نومیدی پتھرا دے نہ کہیں بیتابی جھلسا دے نہ کہیں کھو جائے نہ خودی کھوج کا گھائل پنچھی اڑان کے ساتھ اندھیاری گھاٹی میں ہم ہیں تو ...

مزید پڑھیے

نرمل میٹھے پانی کی تلاش

وہ مرا وہم کہ جھونکا سا کوئی سبز قبا تھا جسے دیکھا کسی چہکار کی خنکی بھی فضا میں جو بکھرتی تو یہ کھلتا کہ ابھی کھوج ہے آغاز ابھی کھوج ہے پرواز کبھی یوں بھی تو ہوتا ہے کہ ہو کھوج یہی راکھ کی مٹھی میں دبی ادھ جلی پتی وہی معمول شب و روز کہ بیداد ہی بیداد ہے رندا جو لگاتار رہے پھیرتا ...

مزید پڑھیے

سیتا

ترا نام لے کر سحر جاگتی ہے ترے گیت گاتی ہے تاروں کی محفل تری خاک پا ہند کا راز عظمت تری زندگی میرے خوابوں کی منزل کہانی تری سن کے تھرا اٹھی میں دھڑکنے لگا دھیرے دھیرے مرا دل چھپائے ہیں سینے میں کچھ راز اپنے دکن کے کہستاں کی تپتی چٹانیں مسافر کچھ آئے تھے ان جنگلوں میں فضا میں ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 172 سے 960