مشورہ
بہت پرانی ہمارے رشتوں کی سب قبائیں جگہ جگہ سے اسی لئے سب مسک رہی ہیں اتاریں ان کو پرانے کپڑوں کے گندے گھر میں بند کر دیں کبھی کوئی سب پھٹے پرانے ہمارے کپڑے خرید لے گا اور ان کے بدلے چمکتا سا کچھ تھمائے شاید
بہت پرانی ہمارے رشتوں کی سب قبائیں جگہ جگہ سے اسی لئے سب مسک رہی ہیں اتاریں ان کو پرانے کپڑوں کے گندے گھر میں بند کر دیں کبھی کوئی سب پھٹے پرانے ہمارے کپڑے خرید لے گا اور ان کے بدلے چمکتا سا کچھ تھمائے شاید
شرافتوں کے سر و پا اتار کر پھینکیں چلیں سڑک پہ ذرا گھومیں فقرے چست کریں کسی کو بے وجہ چھیڑیں ہنسی اڑائیں بلائیں بلا کے پیار کریں ستائیں راستے چلتے کسی مسافر کو غلط پتا دیں سڑک کے بیچ چلیں غتہ کو پا کے اترائیں لگائیں ٹھوکریں فٹ بال مان کر اس کو لگے کسی کے جو جا وہ تو ادھر ادھر ...
فضاؤں میں پھیلی خزاں کی خموشی سمٹنے لگی ہے کھلی ادھ کھلی سی کئی کھڑکیوں سے
سچ بتاؤ جو کتابوں میں لکھا ہے کیا وہ سب تم نے کہا ہے جب اذیت جسم سے رسنے لگے گی جب دعا کو اٹھنے والے ہاتھ شل ہونے لگیں گے اور شل ہوتے ہوئے ہاتھوں کو کاٹ ڈالا جائے گا شانوں سے میرے جب ثنا کی صوت پھونک ڈالے گی لبوں کو آرزو میں آبلوں سی آنکھیں نیزے پھوڑ دیں گے اور گلا بنجر زمیں سا کچھ ...
سبھی کچھ ویسے کا ویسا ہے کہیں کچھ بھی نہیں بدلا دور سے آواز دیتیں محرابیں دھوجائیں نکیلے اور گول گنبد غٹرغوں کرتے کبوتر ٹوٹتے بکھرتے قلعے کی منہدم برجیوں پہ اگی جلی گھاس برساتی نالے کی ناف سے نکلتی پگڈنڈی پار کوٹھار گاڈولیا لوہار گھنا چھتنار پیڑ پیپل کا اونگھتی السائی ...
ایک بار صرف ایک بار آتی ہو دبے پاؤں اور دبے پاؤں ہی گزر جاتی ہو تمہاری آمد اور ساعتوں کا قیام کتنا مختصر ہے لیکن کتنا فخر آور مگر جہاں تم بار بار پلٹ پلٹ کر جاتی ہو وہاں بھی تمہارے یہی معنی ہیں بہار
اب تو وہاں نشان ہے جہاں کبھی دیوتا کہ مورتی رہی ہوگی شکستہ شہتیر میں پھنسا بچا زنجیر کا حلقہ جس میں شاید کبھی گھنٹی لٹکتی ہو صحن میں راکھ ہے کسی نے الاؤ جلایا ہوگا روشنی اور گرمی کے لئے درکتی دہلیز پر ریوڑ سے بچھڑی بھیڑ پرانے سجدے چنتی ہے پیلے پائے دانوں پر نقوش پا ابھرتے ہیں
مجھے سب خبر ہے اسے بھی پتا ہے کہ اب وسعتوں میں نہیں اور کچھ بھی فقط وسعتیں ہیں ہمیں رنگوں کا اندرجالی تقدس اٹھائے اٹھائے سفر کی صعوبت یوں ہی جھیلنی ہے خبر ہے کہ خوشبو کا آکار کچھ بھی نہیں ہے پتہ ہے کہ لمس اک قبا ڈھونڈھتا ہے نفس نیزوں ہی پر ہواؤں کے سر کو اٹھائے اٹھائے یوں ہی ...
منتظر متشوش و منتشر کتنے مکانوں کی قطاریں اس کھنڈر کی اور جو شاید کبھی معبد کدہ ہیں ان کا جن کے گم ہونے سے ہیں گم سم سبھی گلیاں اور گزر گاہوں پہ منڈلاتا ہوا آسیبی سایہ موڑ پر رکتی سسکتی اجنبی سایوں سے سہمی کوئی پرچھائیں پلٹتی بھاگتے قدموں کی آہٹ ڈوب جاتی آب جو کے ٹھیک بیچوں بیچ
بیاضیں جن میں ان دیکھے پرندوں کے پتے لکھے بیاضیں! جن میں ہم نے پھولوں کی سرگوشیاں لکھیں پہاڑوں کے رموز اور آبشاروں کی زباں لکھی بیاضیں! جن کے سینے میں سمندر اور سورج کی عداوت کے تھے افسانے پرندے اور پیڑوں کے رقم تھے باہمی رشتے ہمارے ارتقا کی الجھنیں جن سے منور تھیں بیاضیں کھو ...