موم کی گڑیا
موم کی گڑیا خالی آنکھوں سے اپنی خالی مٹھی کو پگھلتے دیکھ رہی ہے کل تک ترازو اس کے ہاتھ میں تھی آج ایک فیصلہ دینے کے بعد مجرم بنی کھڑی ہے اور اپنی خالی مٹھی کو پگھلتا دیکھ رہی ہے
موم کی گڑیا خالی آنکھوں سے اپنی خالی مٹھی کو پگھلتے دیکھ رہی ہے کل تک ترازو اس کے ہاتھ میں تھی آج ایک فیصلہ دینے کے بعد مجرم بنی کھڑی ہے اور اپنی خالی مٹھی کو پگھلتا دیکھ رہی ہے
ہر رات ایک صبح کا صبح کو دوپہر کا دوپہر کو شام کا اور شام کو پھر رات کا انتظار ہوتا ہے تمہارے ایک میٹھے بول کی چاہت میں میں ہر روز چار بار مرتی ہوں پھر سے جینے کے لئے
لوگ کہتے ہیں کہ آمادۂ اصلاح ہے لیگ یہ اگر سچ ہے تو ہم کو بھی کوئی جنگ نہیں صیغۂ راز سے کچھ کچھ یہ بھنک آتی ہے کہ ہم آہنگئ احباب سے اب ننگ نہیں فرق اتنا تو بظاہر نظر آتا ہے ضرور اب خوشامد کا ہر اک بات میں وہ رنگ نہیں عرض مطلب میں زباں کچھ تو ہے کھلتی جاتی گرچہ اب تک بھی حریفوں سے ہم ...
قصر شاہی میں کہ ممکن نہیں غیروں کا گزر ایک دن نورجہاں بام پہ تھی جلوہ فگن کوئی شامت زدہ رہ گیر ادھر آ نکلا گرچہ تھی قصر میں ہر چار طرف سے قدغن غیرت حسن سے بیگم نے طمنچہ مارا خاک پر ڈھیر تھا اک کشتۂ بے گور و کفن ساتھ ہی شاہ جہانگیر کو پہنچی جو خبر غیظ سے آ گئی ابروئے عدالت پہ شکن حکم ...
مساجد کی حفاظت کے لیے پولس کی حاجت ہے خدا کو آپ نے مشکور فرمایا عنایت ہے عجب کیا ہے کہ اب ہر شاہراہ سے یہ صدا آئے مجھے بھی کم سے کم اک غسل خانہ کی ضرورت ہے پنہائی جا رہی ہیں عالمان دیں کو زنجیریں یہ زیور سید سجاد عالی کی وراثت ہے یہی دس بیس اگر ہیں کشتگان خنجر اندازی تو مجھ کو سستی ...
اک مولوی صاحب سے کہا میں نے کہ کیا آپ کچھ حالت یورپ سے خبردار نہیں ہیں آمادۂ اسلام ہیں لندن میں ہزاروں ہر چند ابھی مائل اظہار نہیں ہیں تقلید کے پھندوں سے ہوئے جاتے ہیں آزاد وہ لوگ بھی جو داخل اصرار نہیں ہیں جو نام سے اسلام کے ہو جاتے ہیں برہم ان میں بھی تعصب کے وہ آثار نہیں ...
ایک دن حضرت فاروقؓ نے منبر پہ کہا کیا تمہیں حکم جو کچھ دوں تو کرو گے منظور ایک نے اٹھ کے کہا یہ کہ نہ مانیں گے کبھی کہ ترے عدل میں ہم کو نظر آتا ہے فتور چادریں مال غنیمت میں جو اب کے آئیں صحن مسجد میں وہ تقسیم ہوئیں سب کے حضور ان میں ہر ایک کے حصہ میں فقط اک آئی تھا تمہارا بھی وہی حق ...
حضرت آدم پہ جو گزری ہے سب کو یاد ہے دانۂ گندم کی زندہ آج تک بیداد ہے آج پھر اولاد آدم پر وہی افتاد ہے اس کا بانی بھی فرشتوں کا وہی استاد ہے دور دورہ آج اس کا چور بازاروں میں ہے ماہرین چور بازاری کے غم خواروں میں ہے ان میں دیکھا اس کا جلوہ جو ذخیرہ باز ہیں دفن تہہ خانوں میں جن کے ...
لوگو مجھے سلام کرو میں وزیر ہوں گردن کے ساتھ خود بھی جھکو میں وزیر ہوں گردن میں ہار ڈال دو میں جھک سکوں اگر نعرے بھی کچھ بلند کرو میں وزیر ہوں تم ہاتھوں ہاتھ لو مجھے دورے پر آؤں جب موٹر کے ساتھ ساتھ چلو میں وزیر ہوں لکھے ہیں شاعروں نے قصائد مرے لیے ایک آدھ نظم تم بھی کہو میں وزیر ...
کیسا لگتا ہے اب جب ہو گئے ہیں ایک جیسے چاروں اور چھور ساربانوں کے کہیں بیٹھتے اٹھتے مڑتے ٹوٹتے سر ہیں نہ اونٹوں کے گلے کی گھنٹیوں کی دوریوں کے دریاؤں میں دھیرے دھیرے ڈوبتی گونجیں نہ کہیں خچروں پہ بیٹھیں خواب بنتیں خانہ بدوش دوشیزائیں جن کے برہے سننے ٹھہر جاتا تھا ساون تمہارے ...