گھر کے دروازے کھلے ہوں چور کا کھٹکا نہ ہو
گھر کے دروازے کھلے ہوں چور کا کھٹکا نہ ہو بے سر و سامان کوئی شہر میں ایسا نہ ہو تیرگی کے غار سے باہر نکل کر بھی تو دیکھ اس زمیں کی کوکھ سے سورج کوئی نکلا نہ ہو میں کہ گویا بھی نہ ہو پایا کسی دیوار سے رہ گیا چپ سوچ کر شاید کوئی سنتا نہ ہو دشت میں جانے سے پہلے اپنے دل میں جھانک ...