شاعری

گھر کے دروازے کھلے ہوں چور کا کھٹکا نہ ہو

گھر کے دروازے کھلے ہوں چور کا کھٹکا نہ ہو بے سر و سامان کوئی شہر میں ایسا نہ ہو تیرگی کے غار سے باہر نکل کر بھی تو دیکھ اس زمیں کی کوکھ سے سورج کوئی نکلا نہ ہو میں کہ گویا بھی نہ ہو پایا کسی دیوار سے رہ گیا چپ سوچ کر شاید کوئی سنتا نہ ہو دشت میں جانے سے پہلے اپنے دل میں جھانک ...

مزید پڑھیے

پھر کوئی محشر اٹھانے میری تنہائی میں آ

پھر کوئی محشر اٹھانے میری تنہائی میں آ اپنے ہونے کی خبر لے کر کبھی بستی میں آ دیکھنا ٹھہرا تو پھر اک یہ تماشا بھی سہی آگ لگنے کی خبر سن کر ہی اب کھڑکی میں آ اے مرے ہونٹوں کی لذت شاخ کو بوجھل نہ کر اک ہلورے میں شجر سے ٹوٹ کر جھولی میں آ جرم بے لذت ہے ساحل پر تری تر دامنی یا پلٹ ...

مزید پڑھیے

کھلتی ہے گفتگو سے گرہ پیچ و تاب کی

کھلتی ہے گفتگو سے گرہ پیچ و تاب کی پر کس سے کھل کے بات کریں اضطراب کی کافی نہیں ہے چشم تماشا کو رنگ گل لائیں کہاں سے زخم میں خوشبو گلاب کی اپنی برہنگی کو بچا تیز دھوپ سے کرنوں میں بو ہے جلتے ہوئے آفتاب کی کچھ میں شجر سے ٹوٹ کے بے خانماں ہوا ہاں کچھ ہوا نے بھی مری مٹی خراب کی اک ...

مزید پڑھیے

صبح سفر کا راز کسی پر یہاں نہ کھول

صبح سفر کا راز کسی پر یہاں نہ کھول طوفاں ہے پانیوں میں ابھی بادباں نہ کھول پسماندگاں پہ چھوڑ کہ ڈھونڈیں نقوش پا جو سنگ و خشت ہیں تہہ آب رواں نہ کھول میں نے سراب فہم کے سب راز پا لئے اب لاکھ مجھ پہ عقدۂ ہفت آسماں نہ کھول سب کچھ یہاں ہے چشم خریدار کی پسند عذر متاع درد اگر ہے دکاں ...

مزید پڑھیے

سب تھکن آنکھ میں سمٹ جائے

سب تھکن آنکھ میں سمٹ جائے نیند آ جائے رات کٹ جائے روبرو ہوں تو گفتگو بھی کریں کون آواز سے لپٹ جائے وہم یہ ہے کہ بند دروازہ دیکھ کر ہی نہ وہ پلٹ جائے سیکھ دریا سے کوہ پیمائی کوئی کیوں راستے سے ہٹ جائے کون مارے گا دوسرا پتھر کوئی صورت کہ درد بٹ جائے میں ہوا ہوں کہ چل رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

حرف بے مطلب کی میں نے کس قدر تفسیر کی

حرف بے مطلب کی میں نے کس قدر تفسیر کی شکل پہچانی گئی پھر بھی نہ اس تصویر کی صبح کا دروازہ کھلتے ہی چلو گلشن کی سمت رنگ اڑ جائے گا پھولوں کا اگر تاخیر کی قید میرے جسم کے اندر کوئی وحشی نہ ہو سانس لیتا ہوں تو آتی ہے صدا زنجیر کی تیرے چہرے پر جو لکھا تھا مری آنکھوں میں ہے حفظ ہے مجھ ...

مزید پڑھیے

موسم کا زہر داغ بنے کیوں لباس پر

موسم کا زہر داغ بنے کیوں لباس پر یہ سوچ کر نہ بیٹھ سکا سبز گھاس پر مدت ہوئی کہ طائر جاں سرد ہو چکا اڑتے رہے ہواؤں میں کچھ بد حواس پر سورج کا پھول ابر کے پتوں میں گم رہا شب کے شجر کا سایہ رہا مجھ اداس پر وہ جا چکا ہے موڑ سے آنکھیں ہٹا بھی لے بیکار ہونٹ ثبت ہیں خالی گلاس پر کیسے ...

مزید پڑھیے

ملتی رہی قلم کو سعادت کی روشنی

ملتی رہی قلم کو سعادت کی روشنی در آئی حرف حرف میں مدحت کی روشنی آنے سے آپ کے ہوئیں کافور ظلمتیں عالم میں پھیلی آپ کی رحمت کی روشنی غار حرا میں لے کے جو آئے تھے جبرئیل سچا کلام نور ہدایت کی روشنی تا حال ہو رہی ہے وہ برسات نور کی لمحے نے پائی تھی جو زیارت کی روشنی ایثار و درگزر ...

مزید پڑھیے

چہروں پہ لکھے لوگوں کے صدمے پڑھا کرو

چہروں پہ لکھے لوگوں کے صدمے پڑھا کرو قبروں پہ لکھے مردوں کے کتبے پڑھا کرو رکھتے ہیں کیا وہ بستوں میں بستے پڑھا کرو لکھتے ہیں کیا وہ پرچوں میں پرچے پڑھا کرو معلوم تو ہو مٹی کہ دلدل تھی پاؤں میں جو ہو سکے تو بوٹوں کے تسمے پڑھا کرو دکھ دینے کا جو سوچو کسی بھی عزیز کو تو پھر قریب سے ...

مزید پڑھیے

اپنے سر الزام سارے دھر چلے

اپنے سر الزام سارے دھر چلے ''ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے'' میرے جیون کا تماشہ دیکھ کر لوگ سارے اپنے اپنے گھر چلے سر کے بل چلتے ہیں جس رہ پر سبھی ہم ہتھیلی پر یہ سر رکھ کر چلے اب کہ شاید تم کو خوشیاں ہوں نصیب رنگ ہم تصویر میں سب بھر چلے اپنی نسلوں کو بچانے کے لیے ایک مادہ لے کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 968 سے 4657