شاعری

خواہش کو اپنے درد کے اندر سمیٹ لے

خواہش کو اپنے درد کے اندر سمیٹ لے پرداز بار دوش ہے تو پر سمیٹ لے اپنی طلب کو غیر کی دہلیز پر نہ ڈال وہ ہاتھ کھنچ گیا ہے تو چادر سمیٹ لے سرخی طلوع صبح کی لوح افق پہ لکھ سارے بدن کا خون جبیں پر سمیٹ لے یکجا نہیں کتاب ہنر کے ورق ہنوز ایام حرف حرف کا دفتر سمیٹ لے جو پیڑ ہل چکے ہیں ...

مزید پڑھیے

بے وضع شب و روز کی تصویر دکھا کر

بے وضع شب و روز کی تصویر دکھا کر اب داد نہ مانگو مجھے زنجیر دکھا کر کیسی ہیں کف لوح پہ بے ربط لکیریں معنی نہ چھپاؤ مجھے تحریر دکھا کر اے شیشۂ جاں تجھ میں لہو ختم بھی ہوگا یہ نشہ اتر جائے گا تاثیر دکھا کر میں شمع شب ظلم ہوں آغاز سحر تک دل بجھنے لگا صبح کی تنویر دکھا کر کس شاخ پہ ...

مزید پڑھیے

بجھ گئے شعلے دھواں آنکھوں کو پانی دے گیا

بجھ گئے شعلے دھواں آنکھوں کو پانی دے گیا یہ اچانک موڑ دریا کو روانی دے گیا اب تو اس کی دھوپ میں جلتا ہے میرا تن بدن کیا ہوا وہ مہر جو صبحیں سہانی دے گیا جی میں زندہ ہو گئیں کیا خواہشیں بسری ہوئی پھر کوئی یوسف زلیخا کو جوانی دے گیا پھر ہوا احساس یوں مجھ کو کہ میں اک نقش ہوں کون ...

مزید پڑھیے

میں وہ آنسو کہ جو مالا میں پرویا جائے

میں وہ آنسو کہ جو مالا میں پرویا جائے تو وہ موتی کہ جسے دیکھ کے رویا جائے بحر کو بحر نہ سمجھے تو خطا‌ وار بنے اب تقاضا ہے سفینے کو ڈبویا جائے یہ بجا ہے کہ امانت میں خیانت نہ کرو احتیاطاً ہی سہی زخم کو دھویا جائے تھک گئے نظروں کے پاؤں بھی سیہ جنگل میں اب ذرا دیر ٹھہر جاؤ کہ سویا ...

مزید پڑھیے

اب شہر کی اور دشت کی ہے ایک کہانی

اب شہر کی اور دشت کی ہے ایک کہانی ہر شخص ہے پیاسا کہ میسر نہیں پانی میں توڑ بھی سکتا ہوں روایات کی زنجیر میں دہر کے ہر ایک تمدن کا ہوں بانی میں نے تری تصویر کو کیا رنگ دیے ہیں انداز بدل دیتا ہے لفظوں کے معانی اب بھی ہے ہواؤں میں گئے وقت کی آواز محفوظ ہے سینوں میں ہر اک یاد ...

مزید پڑھیے

زمیں کو سجدہ کیا خوں سے با وضو ہو کر

زمیں کو سجدہ کیا خوں سے با وضو ہو کر میں رزم گاہ سے لوٹا ہوں سرخ رو ہو کر جہاں میں پھیل گئی دود شعلہ سے ظلمت فلک پہ بہہ گیا سورج لہو لہو ہو کر مجھے تھا دام اسیری نشیب دریا کا اچھل گیا میں کناروں سے تند خو ہو کر گریز پائی کو ہے گمرہی کا دشت بلا خط سفر تو چمکتا ہے آب جو ہو کر وہ لمس ...

مزید پڑھیے

قائل کروں کس بات سے میں تجھ کو ستم گر

قائل کروں کس بات سے میں تجھ کو ستم گر ڈھلوان پہ رکتا نہیں پانی ہو کہ پتھر سورج نکل آیا تو وہ موسم نہ رہے گا کچھ دیر کا مہماں ہے یہاں صبح کا منظر باہر جو میں نکلوں تو برہنہ نظر آؤں بیٹھا ہوں میں گھر میں در دیوار پہن کر بے کار گیا گہرے سمندر میں اترنا لہریں مجھے پھر ڈال گئیں ریت کے ...

مزید پڑھیے

میرے احساس کی رگ رگ میں سمانے والے

میرے احساس کی رگ رگ میں سمانے والے اب کہاں ہیں مجھے دن رات ستانے والے دیکھ لیتے ہیں مگر آنکھ چرا جاتے ہیں دوست ہر وقت مجھے پاس بٹھانے والے بند پانی کی طرح بیکس و مجبور ہیں اب تند موجوں کی طرح شور مچانے والے ایک پتھر بھی سر راہ گزر رکھا ہے رات گہری ہے ذرا دھیان سے جانے والے کون ...

مزید پڑھیے

اس کو مل کر دیکھ شاید وہ ترا آئینہ ہو

اس کو مل کر دیکھ شاید وہ ترا آئینہ ہو غائبانہ ہی تری اس کی شناسائی نہ ہو مجھ پہ ظاہر ہے ترے جی میں ہیں کیا کیا خواہشیں بات ایسی کر کہ جس میں تیری رسوائی نہ ہو احتیاطاً دیکھتا چل اپنے سائے کی طرف اس طرح شاید تجھے احساس تنہائی نہ ہو آسماں اک دشت کی صورت ستارے ریت ہیں تو لب دریا ...

مزید پڑھیے

سورج زمیں کی کوکھ سے باہر بھی آئے گا

سورج زمیں کی کوکھ سے باہر بھی آئے گا ہوں منتظر کہ صبح کا منظر بھی آئے گا مٹی کا جسم لے کے چلے ہو تو سوچ لو اس راستے میں ایک سمندر بھی آئے گا ہر لحظہ اس کے پاؤں کی آہٹ پہ کان رکھ دروازے تک جو آیا ہے اندر بھی آئے گا کب تک یوں ہی زمین سے لپٹے رہیں قدم یہ زعم ہے کہ کوئی پلٹ کر بھی آئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 967 سے 4657