خواہش کو اپنے درد کے اندر سمیٹ لے
خواہش کو اپنے درد کے اندر سمیٹ لے پرداز بار دوش ہے تو پر سمیٹ لے اپنی طلب کو غیر کی دہلیز پر نہ ڈال وہ ہاتھ کھنچ گیا ہے تو چادر سمیٹ لے سرخی طلوع صبح کی لوح افق پہ لکھ سارے بدن کا خون جبیں پر سمیٹ لے یکجا نہیں کتاب ہنر کے ورق ہنوز ایام حرف حرف کا دفتر سمیٹ لے جو پیڑ ہل چکے ہیں ...