شاعری

موت کو تھامیں گے صدمے میں نہیں آئیں گے

موت کو تھامیں گے صدمے میں نہیں آئیں گے زندگی ہم تیرے حصے میں نہیں آئیں گے ہم کو تفتیش کا حق ہے وہ کریں گے پوری اب کے ہم آپ کے جھانسے میں نہیں آئیں گے ہم بکھرتے ہوئے موتی ہیں ہمیں مت چنئے ہم کبھی وقت کے دھاگے میں نہیں آئیں گے ہم کو کیا آپ کو دعویٰ ہے خدائی کا اگر ہم کبھی آپ کے کہنے ...

مزید پڑھیے

میں تم کو جو مل جاتی یوں رب نے کیا ہوتا

میں تم کو جو مل جاتی یوں رب نے کیا ہوتا تم مجھ کو جو مل جاتے کیا اس کا گیا ہوتا زخموں کو مرے دل کے کچھ ایسے سیا ہوتا ''وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا'' ٹھوکر تو میں کھاتی پر گرتی نہ کبھی لیکن پتھر سا کبھی تو جو رستے میں پڑا ہوتا ہم بھائی تو ہیں لیکن گھر دونوں کے چھوٹے ہیں اک گھر ...

مزید پڑھیے

دل بھر آئے اور ابر دیدہ میں پانی نہ ہو

دل بھر آئے اور ابر دیدہ میں پانی نہ ہو یہ زمیں صحرا دکھائی دے جو بارانی نہ ہو شوق اتنا سہل کیوں اس پار لے جائے مجھے پھر پلٹ آؤں اگر دریا میں طغیانی نہ ہو کان بجتے ہیں ہوا کی سیٹیوں پر رات بھر چونک اٹھتا ہوں کہ آہٹ جانی پہچانی نہ ہو ہو گئے بے خود تو ٹیسوں کا مزہ چھن جائے گا روکتا ...

مزید پڑھیے

رہ گیا کم ہی گو سفر باقی

رہ گیا کم ہی گو سفر باقی دل میں خواہش کا ہے گزر باقی کیا ندی پھر سے آزمائے گی کیا ابھی اور ہیں بھنور باقی کیا اکیلے ہی آگے جانا ہے کیا نہیں کوئی ہم سفر باقی کیا وہ مجھ سے کبھی نہ بچھڑے گا کیا نہیں دل میں کوئی ڈر باقی کیا نہیں جانتا مجھے کوئی کیا نہیں شہر میں وہ گھر باقی

مزید پڑھیے

دائم سراب اک مرے اندر ہے کیا کروں

دائم سراب اک مرے اندر ہے کیا کروں صحرا مری نظر میں سمندر ہے کیا کروں دیکھے جو میری نیکی کو شک کی نگاہ سے وہ آدمی بھی تو مرے اندر ہے کیا کروں یک گونہ بے خودی کو ہی اب ڈھونڈھتا ہے دل غم اور خوشی کا بوجھ برابر ہے کیا کروں اچھا تو ہے کہ سب سے ملوں ایک ہی طرح لیکن وہ اور لوگوں سے بہتر ...

مزید پڑھیے

کچھ تو میں بھی ڈرا ڈرا سا تھا

کچھ تو میں بھی ڈرا ڈرا سا تھا اور کچھ راستا نیا سا تھا جھوٹ اور سچ کے درمیاں تھا جو آج وہ پل بھی ٹوٹتا سا تھا جس سے سارے چراغ جلتے تھے وہ چراغ آج کچھ بجھا سا تھا راس آئے نہ اس کے رسم و رواج شہر ہم سے خفا خفا سا تھا بت سمجھتے تھے جس کو سارے لوگ وہ مرے واسطے خدا سا تھا

مزید پڑھیے

کسی قسمت میں ایک گھر نکلا

کسی قسمت میں ایک گھر نکلا کسی تقدیر میں سفر نکلا زخم سے کچھ غزل کے شعر اگے شاخ سے پھوٹ کر ثمر نکلا دوست بن کر وفا نہ کی جس نے ہوا دشمن تو معتبر نکلا نئے آنسو تھے آستیں کے لئے دامن دل کبھی کا تر نکلا جب یہ مانا کہ دل میں ڈر ہے بہت تب کہیں جا کے دل سے ڈر نکلا

مزید پڑھیے

بے وجہ ظلم سہنے کی عادت نہیں رہی

بے وجہ ظلم سہنے کی عادت نہیں رہی اب ہم کو دشمنوں کی ضرورت نہیں رہی وہ بھی ہمارے نام سے بیگانے ہو گئے ہم کو بھی سچ ہے ان سے محبت نہیں رہی رہبر تمام ملک کے نظروں سے گر گئے آنکھیں کھلیں تو دل میں عقیدت نہیں رہی ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہ ہو مگر پہلے سا جوش پہلے سی شدت نہیں رہی قربت ...

مزید پڑھیے

جاگتے میں بھی خواب دیکھے ہیں

جاگتے میں بھی خواب دیکھے ہیں دل نے کیا کیا عذاب دیکھے ہیں آج کا دن بھی وہ نہیں جس کے ہر گھڑی ہم نے خواب دیکھے ہیں دوسرے کی کتاب کو نہ پڑھیں ایسے اہل کتاب دیکھے ہیں کیا بتائیں تمہیں کہ دنیا میں لوگ کتنے خراب دیکھے ہیں جھانکتے رات کے گریباں سے ہم نے سو آفتاب دیکھے ہیں ہم سمندر ...

مزید پڑھیے

درد جب شاعری میں ڈھلتے ہیں

درد جب شاعری میں ڈھلتے ہیں دل میں ہر سو چراغ جلتے ہیں کوئی شے ایک سی نہیں رہتی عمر ڈھلتی ہے غم بدلتے ہیں جو نہیں مانگتا کسی سے کچھ شہر کے لوگ اس سے جلتے ہیں اس کی منزل جدا ہماری جدا آج گو ساتھ ساتھ چلتے ہیں لکھنؤ شاعری شراب جنوں رشتے سو طرح کے نکلتے ہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 969 سے 4657