شاعری

سبھی کچھ دیکھ کر اندھے بنیں گے

سبھی کچھ دیکھ کر اندھے بنیں گے ہمارے حق میں سب گونگے بنیں گے ہمارے بعد یہ ہم کو یقیں ہے ہمارے نام سے کوچے بنیں گے جئے ہم روشنی بن کر ہمیشہ مرے تو مر کے بھی تارے بنیں تو اس کے غم سے ہم کو دور مت کر اسی کے غم میں ہم تیرے بنیں گے چلو دونوں بچھڑ جائیں یہیں پر بچھڑ کر کچھ نئے رشتے ...

مزید پڑھیے

یہ پانی دیکھ کر حیرت زدہ ہے

یہ پانی دیکھ کر حیرت زدہ ہے کہ دل مچھلی کا اس سے بھر گیا ہے ہماری آنکھ میں آنسو نہیں ہیں بہانے کو فقط اب خوں بچا ہے ہمارے کھیل کی گڑیا تمہی ہو تمہارے کھیل کا گڈا نیا ہے جسے مجھ سے نہیں ہے کوئی مطلب میں سب سے بولتا ہوں وہ مرا ہے اگر کانوں کی بیساکھی ہٹا دو تو گونگا بھی برابر ...

مزید پڑھیے

غموں کی لسٹ میں جو انتہا میں رکھا گیا

غموں کی لسٹ میں جو انتہا میں رکھا گیا ہمارے واسطے وہ ابتدا میں رکھا گیا عجیب ڈھنگ سے مجھ کو ملی ہے آزادی پرندہ پنجرے میں پنجرہ ہوا میں رکھا گیا وہ غم گزارا گیا ہے کہ دل ہی جانتا ہے یہ وہ نگر ہے جسے کربلا میں رکھا گیا ہمارے کھیل سے یہ کھیل ہی پلٹ جاتا اسی لیے تو ہمیں ایکسٹرا میں ...

مزید پڑھیے

عشق مذہب کو مانتا ہی نہیں

عشق مذہب کو مانتا ہی نہیں عشق کا کوئی دیوتا ہی نہیں شرط دنیا سے لگ گئی ورنہ میں ترا نام پوچھتا ہی نہیں اس کو کچھ یاد آ گیا ہوگا ورنہ وہ فون کاٹتا ہی نہیں مطمئن ہوں میں سوچ کر تجھ کو تجھ سے آگے میں سوچتا ہی نہیں رات دن کو بنا لیا میں نے میں کبھی رات کاٹتا ہی نہیں یہ نیا جسم تو ...

مزید پڑھیے

راہ ملتی ہے گھر نہیں ملتا

راہ ملتی ہے گھر نہیں ملتا گھر ملے بھی تو در نہیں ملتا جس کو دیکھا تھا میں نے بچپن میں اب مجھے وہ نگر نہیں ملتا دیکھتا ہوں جو خود کو پانی میں جسم ملتا ہے سر نہیں ملتا مجھ کو ان زندگی کی راہوں میں کوئی بھی ہم سفر نہیں ملتا جانے کیا ہو گیا ہے موسم کو سبز کوئی شجر نہیں ملتا تجھ کو ...

مزید پڑھیے

تجھ سے وابستہ زندگی مجھ میں

تجھ سے وابستہ زندگی مجھ میں ایک ہاری ہوئی خودی مجھ میں تیری آواز سن کے جاگ اٹھی ایک روٹھی ہوئی خوشی مجھ میں شوخ چنچل ہے شب کی تنہائی تو نے بھر دی ہے روشنی مجھ میں روح تجھ سے کلام کرتی ہے سانس لیتی ہے دل کشی مجھ میں فاصلے سارے مٹتے جاتے ہیں رقص کرتی ہے بے خودی مجھ میں رات کیا ...

مزید پڑھیے

شوق دیدار نے کیا کیا نہ تماشا دیکھا

شوق دیدار نے کیا کیا نہ تماشا دیکھا جان من کیسے بتائیں تمہیں کیا کیا دیکھا زندگی آگ ہے اور آگ کی خاطر ہم نے دیپ کی آنکھ میں جلتا ہوا چہرہ دیکھا میں نے لمحوں میں گزاری ہیں ہزاروں صدیاں وقت کی دھوپ میں پگھلا ہوا دریا دیکھا صبح روشن نے اتاری ہیں ستارہ آنکھیں شاخ شمشاد نے گلشن کا ...

مزید پڑھیے

اک شمع انجمن میں جلاتی رہی ہوں میں

اک شمع انجمن میں جلاتی رہی ہوں میں جل جل کے دیپ خود ہی بناتی رہی ہوں میں کیا پوچھتے ہو اب مری سانسوں کا رابطہ رو رو کے حال سب کو بتاتی رہی ہوں میں ہر بار زندگی نے دیا اک نیا فریب پھر زندگی سے آس لگاتی رہی ہوں میں شاخوں سے پوچھتی رہی ہے سر پھری ہوا کس کے لیے زمین سجاتی رہی ہوں ...

مزید پڑھیے

مرے ہم قدم مرے ہم نشیں مرے ساتھ چل

مرے ہم قدم مرے ہم نشیں مرے ساتھ چل مرے ہم سفر مرا کر یقیں مرے ساتھ چل شب ہجر میں جو تھی تلخیاں سبھی بھول جا مجھے دل میں رکھ مرا گھر یہیں مرے ساتھ چل میں ترے وجود کی شاخ ہوں مجھے کاٹ مت مجھے پاس رکھ میں گماں نہیں مرے ساتھ چل یہ جو لا مکان کے سلسلے تری ذات کے تری ذات میں ہوں نہاں ...

مزید پڑھیے

وہ مجھ کو مانگتا ہے زیبائی چاہتا ہے

وہ مجھ کو مانگتا ہے زیبائی چاہتا ہے میرے خلاف مجھ سے پسپائی چاہتا ہے ہوگی قبول لیکن یہ شرط لازمی ہے مقبولیت کی خاطر گہرائی چاہتا ہے صحرا کی چھانتا ہے وہ خاک خاک ذرہ اک اجنبی سا غم ہے رسوائی چاہتا ہے مکر و فریب لے کر ہر شخص دیکھتا ہے دل سب سے بھر گیا ہے تنہائی چاہتا ہے دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 958 سے 4657