شاعری

محبت کا شکستہ پن نظر کیا آئے باہر سے

محبت کا شکستہ پن نظر کیا آئے باہر سے یہ دیمک تو بدن کو چاٹتی رہتی ہے اندر سے تمہارے ہجر کا یہ درد سر تو مستقل ٹھہرا مجھے لگتا ہے جاں لے کے یہ اترے گا میرے سر سے مری ترتیب میں صحرا مزاجی کار فرما ہے بجھے گی پیاس کیا میری بھلا اشکوں کے ساگر سے تیری دہلیز پہ میں منتظر اپنی نہ رہ ...

مزید پڑھیے

چہرے پہ دمک اٹھتا ہے جب رنگ حیا اور

چہرے پہ دمک اٹھتا ہے جب رنگ حیا اور ایسے میں مزہ دیتی ہے اپنی ہی ادا اور گر جاں بھی مری جائے تو بانہوں میں تمہاری دل میں کوئی خواہش ہی نہیں اس کے سوا اور در چھوڑ کے تیرا تو کہیں جا نہ سکوں گی کافر تو نہیں ہوں جو بنا لوں گی خدا اور ہر چند کہ گھائل ہوں مگر سانس ہے باقی جینے کی مجھے ...

مزید پڑھیے

خواب آنکھوں سے سارے جدا ہو گئے

خواب آنکھوں سے سارے جدا ہو گئے پیار جن سے کیا بے وفا ہو گئے تجھ سے پہلے نہ دست دعا اٹھ سکا تجھ کو دیکھا مجسم دعا ہو گئے دیکھ لیجے محبت کی سرشاریاں حسن کا آپ تو آئنہ ہو گئے اک نظر تیری نظروں سے کیا مل گئی آپ تو دل ربا دل ربا ہو گئے

مزید پڑھیے

وہ جو آنکھوں میں چھپ کے بیٹھا ہے

وہ جو آنکھوں میں چھپ کے بیٹھا ہے ایسے لگتا ہے میرے جیسا ہے راستے میں رکاوٹیں کیسی میں نے یہ پانیوں سے سیکھا ہے وہ جو پھر لوٹ کر نہیں آیا میرے پلو میں اس کا وعدہ ہے آدھا چھپتا ہے آدھا دکھتا ہے چاند بالکل تمہارے جیسا ہے خود نہ مرتا نہ مرنے دیتا ہے پیار کتنا حسین جذبہ ہے میری ...

مزید پڑھیے

اس ریاضت کا مری جان صلہ کچھ بھی نہیں

اس ریاضت کا مری جان صلہ کچھ بھی نہیں عشق کا کھیل شراروں کے سوا کچھ بھی نہیں ضبط کے کونسے زینے پہ میں آ پہنچی ہوں ہاتھ اٹھے ہیں مگر حرف دعا کچھ بھی نہیں اب تو خورشید بکف ہم کو ابھرنا ہوگا ان اندھیروں میں فقط ایک دیا کچھ بھی نہیں ایسے لگتا تھا کہ دنیا ہی اجڑ جائے گی خوف تھا چاروں ...

مزید پڑھیے

روش روش پہ پھول کھلاتے گلزاروں کی بات کریں

روش روش پہ پھول کھلاتے گلزاروں کی بات کریں چھوڑ گئے جو تنہا ہم کو ان پیاروں کی بات کریں سرد روی کے جھونکے تن کو چھید رہے ہیں مدت سے آؤ ناں مل کر دروازوں سے دیواروں کی بات کریں خاک نشینی ٹھیک ہے لیکن کبھی کبھی دل کرتا ہے دور فضا میں اڑتے جائیں کہساروں کی بات کریں اس دن سوچ حنائی ...

مزید پڑھیے

دل دشت کی صورت تھا سمندر ہوا کیسے

دل دشت کی صورت تھا سمندر ہوا کیسے سرسبز خزاں زاد مقدر ہوا کیسے چھاؤں میں ڈھلا کیسے تمازت بھرا موسم پھولوں سے بھی نازک مرا پیکر ہوا کیسے پھرتی تھی تمناؤں بھری شال لپیٹے پھر جذبۂ گمنام اجاگر ہوا کیسے مدت سے یہ الجھی ہوئی گتھی نہیں سلجھی وہ مجھ میں سمایا تھا تو بے گھر ہوا ...

مزید پڑھیے

تجھ کو رکھتی ہوں اپنی سوچوں میں

تجھ کو رکھتی ہوں اپنی سوچوں میں پھول کھلتے ہیں کتنے رستوں میں واپسی کی نہیں ہے راہ کوئی جھانک بیٹھی ہوں تیری آنکھوں میں میں بھی ان کا وجود لگنے لگی ایسے کھوئی ہوں کھلتے رنگوں میں جس طرح دھوپ میں شجر کوئی اپنا لگتا ہے مجھ کو غیروں میں وہ بیاں میں تو آ نہیں سکتا اس کو لکھوں ...

مزید پڑھیے

اداسی ختم ہو جائے اگر تم ملنے آ جاؤ (ردیف .. ٔ)

اداسی ختم ہو جائے اگر تم ملنے آ جاؤ میرا ہر زخم سو جائے اگر تم ملنے آ جاؤ شب ہجراں کے ماتھے پر سویرے پھر سے روشن ہوں یہ رت گجرے پرو جائے اگر تم ملنے آ جاؤ تمہارے قرب کے لمحے میسر ہم کو آ جائیں یہ دل رنگوں میں کھو جائے اگر تم ملنے آ جاؤ ستارا بخت کا اپنا بلندی پر نظر آئے زمیں ...

مزید پڑھیے

اک عہد کی صورت ہے کہ پیمان کی صورت

اک عہد کی صورت ہے کہ پیمان کی صورت تو دل میں بسا رہتا ہے ایمان کی صورت لکھتی ہوں ہر اک بات گزرتی ہے جو دل پہ بن جائے گی اک روز یہ دیوان کی صورت ٹوٹا ہے ابھی تک نہ ہی ٹوٹے گا کبھی بھی رکھتی ہوں تجھے ساتھ میں اک مان کی صورت اب بن کے یقیں دل میں سمٹ آیا ہے میرے آغاز میں لگتا تھا جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 952 سے 4657