شاعری

ذرا بارش برستی ہے شگوفے جاگ اٹھتے ہیں

ذرا بارش برستی ہے شگوفے جاگ اٹھتے ہیں کئی رنگوں کی خوشبو سے دریچے جاگ اٹھتے ہیں ابھی تک پاؤں کی آہٹ سے یا مٹی شناسا ہے تمہارے ساتھ چلتی ہوں تو رستے جاگ اٹھتے ہیں کچھ ایسے روشنی دل میں اترتی ہے قرینے سے بہت امکاں ترے وعدوں کے صدقے جاگ اٹھتے ہیں کبھی ایسے بھی ہوتا ہے یوں ہی ...

مزید پڑھیے

چمکتے چاند ستارو ذرا خیال کرو

چمکتے چاند ستارو ذرا خیال کرو کبھی تو دل سے پکارو ذرا خیال کرو حیا کے دھاگوں میں لپٹے ہوئے ہیں ہم دونوں نئی رتوں کے اشارو ذرا خیال کرو گری تو ٹوٹ کے بکھروں گی دور دور کہیں اے کاغذی سے سہارو ذرا خیال کرو سلگ رہا ہے کسی کا فراق تن من میں ادھر نہ آؤ بہارو ذرا خیال کرو ملن کی آس ہے ...

مزید پڑھیے

محبت کی نشانی کو کچل کر

محبت کی نشانی کو کچل کر وہ خوش ہیں اک کہانی کو کچل کر یہ دہشت کی جو آندھی چل رہی ہے رکے گی زندگانی کو کچل کر کریں گے شدھ گنگا کو لہو سے سبھی آنکھوں کے پانی کو کچل کر بھلا کیا جھوٹ قابض ہو سکے گا ہماری سچ بیانی کو کچل کر قلم کی دھار پینی ہو رہی ہے تمہاری بد گمانی کو کچل کر

مزید پڑھیے

بھری محفل میں رسوا کیوں کریں ہم

بھری محفل میں رسوا کیوں کریں ہم تری آنکھوں کو دریا کیوں کریں ہم ضروری اور بھی ہیں مسئلے تو محبت ہی کا چرچا کیوں کریں ہم گلے سلجھائیں گے دونوں ہی مل کر بھلا سب کو اکٹھا کیوں کریں ہم سیاست توڑ دینا چاہتی ہے مگر بھائی سے الجھا کیوں کریں ہم ہمارے دل میں ہی راون ہے یاروں زمانہ بھر ...

مزید پڑھیے

تمام شے میں وہ اکثر دکھائی دیتا ہے

تمام شے میں وہ اکثر دکھائی دیتا ہے بڑا حسین یہ منظر دکھائی دیتا ہے غموں کی دھوپ میں جلتی ہوئی نگاہوں کو صنم وفا کا سمندر دکھائی دیتا ہے تمہارے ہاتھ کی ان بے زباں لکیروں میں ہمیں ہمارا مقدر دکھائی دیتا ہے بنا لیا ہے جو شیشے کا گھر یہاں میں نے ہر اک نگاہ میں پتھر دکھائی دیتا ...

مزید پڑھیے

بڑا جب سے گھرانا ہو گیا ہے

بڑا جب سے گھرانا ہو گیا ہے خفا سارا زمانہ ہو گیا ہے ہوئی مدت کئے ہیں ضبط موتی نگاہوں میں خزانہ ہو گیا ہے جڑیں کھودا کیے تا عمر جس کی شجر وہ شامیانہ ہو گیا ہے کریں گے خرچ اب جی بھر کے یارو بہت نیکی کمانا ہو گیا ہے

مزید پڑھیے

اسی قاتل کا سینے میں تیرے خنجر رہا ہوگا

اسی قاتل کا سینے میں تیرے خنجر رہا ہوگا کہ جو چھپ کر بہت احساس کے اندر رہا ہوگا نہ جانے کس طرح خاموش دریا میں مچی ہلچل نگاہوں میں تری شاید کوئی کنکر رہا ہوگا در و دیوار سے آنسو ٹپکتے ہیں لہو بن کر اسی کمرے میں ارمانوں کا اک بستر رہا ہوگا کہیں سمٹا ہے سناٹے کی چادر اوڑھ کر ...

مزید پڑھیے

سازشوں کی بھیڑ تھی چہرہ چھپا کر چل دئے

سازشوں کی بھیڑ تھی چہرہ چھپا کر چل دئے نفرتوں کی آگ سے دامن بچا کر چل دئے نا مکمل داستاں دل میں سمٹ کر رہ گئی وہ زمانہ کی کئی باتیں سنا کر چل دئے ذکر میرا گفتگو میں جب کبھی بھی آ گیا مسکرائے اور پھر نظریں جھکا کر چل دئے منزل دیوانگی حاصل ہوئی یوں ہی نہیں کیا بتائیں پیار میں کیا ...

مزید پڑھیے

وقار عشق بڑھانے پہ طنز کرتے ہیں

وقار عشق بڑھانے پہ طنز کرتے ہیں کسی کے ناز اٹھانے پہ طنز کرتے ہیں میں جان بوجھ کے جب ان کو چھوڑ دیتا ہوں شکار میرے نشانے پہ طنز کرتے ہیں عجیب بات ہے یارو ہر اک زمانہ میں زمانہ والے زمانہ پہ طنز کرتے ہیں تجھے خبر ہی نہیں ہے اے مسخرے کچھ لوگ ترے مذاق اڑانے پہ طنز کرتے ہیں سرور ...

مزید پڑھیے

دنیا کا ذرہ ذرہ میاں عشق عشق ہے

دنیا کا ذرہ ذرہ میاں عشق عشق ہے ادنیٰ ہو یا ہو آلا یہاں عشق عشق ہے جس روز ہم نے خواب میں دیکھا تھا آپ کو اس روز سے ہمارا مکاں عشق عشق ہے دنیا اسی لیے تو سمجھ ہی نہیں سکی یارو ہمارے دل کی زباں عشق عشق ہے آنسو جو تیری یاد میں ٹپکا تھا ایک شب رخسار پر جو ہے یہ نشاں عشق عشق ...

مزید پڑھیے
صفحہ 953 سے 4657