مسئلہ حسن تخیل کا ہے نہ الہام کا ہے
مسئلہ حسن تخیل کا ہے نہ الہام کا ہے یہ فسانہ ذرا مشکل دل ناکام کا ہے رات دن پہروں پہر اس کی ادا کے چرچے یہ تماشہ بھی مرے واسطے کس کام کا ہے مسکرانے لگے ہر سمت محبت کے چراغ تیرے چہرے کا تصور بھی بڑے کام کا ہے سونی سونی تھیں جو آنکھیں وہ دوبارہ ہنس دیں نظر آیا ہے جو منظر وہ اسی شام ...