شاعری

یوں تو دنیا بھی مجھے راس کہاں آئی ہے

یوں تو دنیا بھی مجھے راس کہاں آئی ہے بزم میں آتے ہی لگتا ہے کہ تنہائی ہے سچ تو یہ ہے کہ مجھے راس نہیں آتا کچھ میری عادت سے مری زندگی اکتائی ہے ذہن میں نام نہیں چہرہ نہیں ہے کوئی آج اک روح کو اک روح کی یاد آئی ہے وہ ملاقات مری جان کچھ اک پل کی سہی اس کی تصویر بڑے فریم میں بنوائی ...

مزید پڑھیے

زندگی کا جمال دیکھا بھی

زندگی کا جمال دیکھا بھی موت کا مرم خوب سمجھا بھی بچپنا تو ابھی گیا بھی نہ تھا جانے کب آ گیا بڑھاپا بھی جب تلک زندگی سمجھتے ہم موت کا آ گیا بلاوا بھی شبد کچھ رہ گئے ہیں من میں ہی کچھ کو اوراق پر اتارا بھی عمر سستے میں خرچ کر ڈالی ہاتھ آیا نہیں خسارہ بھی

مزید پڑھیے

عیب اوروں میں گن رہا ہے وہ

عیب اوروں میں گن رہا ہے وہ اس کو لگتا ہے یوں خدا ہے وہ میری تدبیر کو کنارے رکھ میری تقدیر لکھ رہا ہے وہ میں نے مانگا تھا اس سے حق اپنا بس اسی بات پر خفا ہے وہ پتھروں کے شہر میں زندہ ہے لوگ کہتے ہیں آئنہ ہے وہ اس کی وہ خامشی بتاتی ہے میرے دشمن سے جا ملا ہے وہ

مزید پڑھیے

ذرا سا وقت لگتا ہے کوئی رشتہ بنانے میں

ذرا سا وقت لگتا ہے کوئی رشتہ بنانے میں کلیجہ سوکھ جاتا ہے مگر اس کو نبھانے میں کسی کی یاد جیون بھر کسی کے ساتھ رہتی ہے کسی کو پل نہیں لگتا کسی کو بھول جانے میں محبت اور تکلف میں ہے اتنا فرق کہ جتنا کسی بت کی پرستش میں اور اس سے گھر سجانے میں بہت حیران ہوں میں دیکھ کر بارش کا یہ ...

مزید پڑھیے

خوشبوؤں کا شجر نہیں دیکھا

خوشبوؤں کا شجر نہیں دیکھا ایک مدت سے گھر نہیں دیکھا رہ گزر ہم نے ایسی چن لی تھی میلوں دیوار و در نہیں دیکھا تم جو بدلے تو کیا غضب بدلے ہم نے ایسا اثر نہیں دیکھا اتنی بوجھل ہوئی تھی یہ پلکیں اس کو دیکھا مگر نہیں دیکھا چاند کیسے زمیں پہ چلتا ہے جس نے اس کو اگر نہیں دیکھا آئنہ ہم ...

مزید پڑھیے

اک اس کے در کے سوا اور میں کدھر جاتی

اک اس کے در کے سوا اور میں کدھر جاتی اسے پکارتے یہ زندگی گزر جاتی مجھے لگا تھا وہ میرے بغیر مر جاتا اسے لگا تھا میں اس کے بغیر مر جاتی مجھے تو عشق بھی پیارا تھا اور دنیا بھی جدا تھے راستے دونوں کے میں کدھر جاتی ہزاروں عیب ہیں مجھ میں مگر سنو تو سہی تمہارے پیار کی شدت میں میں ...

مزید پڑھیے

ہماری بات انہیں اتنی ناگوار لگی

ہماری بات انہیں اتنی ناگوار لگی گلوں کی بات چھڑی اور ان کو خار لگی بہت سنبھال کے ہم نے رکھے تھے پاؤں مگر جہاں تھے زخم وہیں چوٹ بار بار لگی قدم قدم پہ ہدایت ملی سفر میں ہمیں قدم قدم پہ ہمیں زندگی ادھار لگی نہیں تھی قدر کبھی میری حسرتوں کی اسے یہ اور بات کہ اب وہ بھی بے قرار ...

مزید پڑھیے

ابر نے چاند کی حفاظت کی

ابر نے چاند کی حفاظت کی چاند نے خود بھی خوب ہمت کی آج دریا بہت اداس لگا ایک کترے نے پھر بغاوت کی وہ پرندہ ہوا کو چھیڑ گیا اس نے کیا خوب یہ حماقت کی وقت منصف ہے فیصلہ دے گا اب ضرورت بھی کیا عدالت کی دھوپ کا دم نکل گیا آخر چھاؤں ہونے لگی ہے شدت کی

مزید پڑھیے

دن کئی دن چھپا رہا جیسے

دن کئی دن چھپا رہا جیسے کوئی اس کو ستا رہا جیسے صبح سورج کو نیند آنے لگی ابر چادر اڑھا رہا جیسے ایک آہٹ سی لگ رہی مجھ کو کوئی پیچھے سے آ رہا جیسے ہم مسافر ہیں ایک جنگل میں خوف رستہ دکھا رہا جیسے الجھا الجھا سا ایک چہرہ ہی سو فسانے سنا رہا جیسے قافلہ میرا بڑھ گیا آگے مجھ کو ...

مزید پڑھیے

تمہاری یاد کو ہم نے پلک پر یوں سجا رکھا

تمہاری یاد کو ہم نے پلک پر یوں سجا رکھا اندھیری رات میں ہر روز آنگن میں دیا رکھا لبوں سے گفتگو ہوتی تو کچھ شکوہ نہ ہو پاتا نظر سے جب سنا اس کو تبسم سے گلا رکھا گیا پردیس بیٹا جب بھی لے کر خواب سب اپنے تو پھر دن رات ماں نے اپنی آنکھوں کو کھلا رکھا دوالی عید میں اکثر کھلونے بیچتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 945 سے 4657