کرنی نہیں ہے دنیا میں اک دشمنی مجھے
کرنی نہیں ہے دنیا میں اک دشمنی مجھے کہتے ہیں سارے لوگ کبھی آدمی مجھے جاتی ہے گر تو جائیں یہ دنیا کی دولتیں بس رام آئی ہے تو فقط سادگی مجھے نظریں جھکائے بیٹھے رہے وہ بھی شرم سے راتوں کو پھر ستاتی رہی ان کہی مجھے سارے چراغ چھوڑ کے منزل پہ بڑھ چلا رستہ دکھا رہی ہے ابھی تیرگی ...