شاعری

ہجر کی شب نالۂ دل وہ صدا دینے لگے

ہجر کی شب نالۂ دل وہ صدا دینے لگے سننے والے رات کٹنے کی دعا دینے لگے آئیے حال دل مجروح سنیے دیکھیے کیا کہا زخموں نے کیوں ٹانکے صدا دینے لگے کس نظر سے آپ نے دیکھا دل مجروح کو زخم جو کچھ بھر چلے تھے پھر ہوا دینے لگے سننے والے رو دئیے سن کر مریض غم کا حال دیکھنے والے ترس کھا کر دعا ...

مزید پڑھیے

سحر کو بھی مری محفل میں برہمی نہ ہوئی

سحر کو بھی مری محفل میں برہمی نہ ہوئی تمام رات ہوئی درد میں کمی نہ ہوئی غرور حسن تمنائے دل کا دشمن تھا وہ کون دن تھا کہ جس دن ہماہمی نہ ہوئی امنڈ رہی ہے مرے دل کے ساتھ برسوں سے یہ کوئی نہر ہوئی آنکھ کی نمی نہ ہوئی میں اپنے قتل کا شاکی نہیں ہوا تو ہوا یہ رنج ہے کہ ترے ظلم میں کمی ...

مزید پڑھیے

ہزار پھول لیے موسم بہار آئے

ہزار پھول لیے موسم بہار آئے جو دل ہو سوکھ کے کانٹا تو کیا قرار آئے جواب لے کے پھری شکر نزع کی ہچکی وہ اب پکارتے ہیں ہم جنہیں پکار آئے سلجھ سکیں نہ مری مشکلیں مگر دیکھا الجھ گئے تھے جو گیسو انہیں سنوار آئے فلک کو دیکھ کے ہنستے یہ گل تو اچھا تھا جو ابر آئے وہ گلشن پہ اشک بار ...

مزید پڑھیے

دل کے ہوتے بھی کہیں درد جدا ہوتا ہے

دل کے ہوتے بھی کہیں درد جدا ہوتا ہے اک فقط موت کے آ جانے سے کیا ہوتا ہے ظلم سے ذکر وفا اور سوا ہوتا ہے ان کی ہر ایک برائی میں بھلا ہوتا ہے شہدا نعمت دنیا کی طلب بھول گئے خون کے گھونٹ میں ایسا ہی مزا ہوتا ہے خود فراموشی الفت ہے علاج غم دہر بے خبر ہوش میں آنا ہی برا ہوتا ہے امتحاں ...

مزید پڑھیے

کون ان لاکھوں اداؤں میں مجھے پیاری نہیں

کون ان لاکھوں اداؤں میں مجھے پیاری نہیں نام لوں کس کس کا مجھ کو ایک بیماری نہیں آگ کتنی لے کے نکلا تھا مرا دود جگر وہ فضا ہے کون جس میں کوئی چنگاری نہیں یاس سے کیوں دیکھتے ہیں دوست اے آزار دل پوچھتے ہیں کیا مجھے تو کوئی بیماری نہیں ہاتھ رکھ کر اک ذرا دیکھو تپ غم کا اثر یہ تمہارا ...

مزید پڑھیے

نہ آسمان ہے ساکت نہ دل ٹھہرتا ہے

نہ آسمان ہے ساکت نہ دل ٹھہرتا ہے زمانہ نام گزرنے کا ہے گزرتا ہے وہ میری جان کا دشمن سہی مگر صیاد مری کہی ہوئی باتوں پہ کان دھرتا ہے ہمیں ہیں وہ جو امید فنا پہ جیتے ہیں زمانہ زندگیٔ بے بقا پہ مرتا ہے ابھی ابھی در زنداں پہ کون کہتا تھا ادھر سے ہٹ کے چلو کوئی نالے کرتا ہے وہی سکوت ...

مزید پڑھیے

اسیر عشق مرض ہیں تو کیا دوا کرتے

اسیر عشق مرض ہیں تو کیا دوا کرتے جو انتہا کو پہنچتے تو ابتدا کرتے اگر زمانے میں اپنے کبھی وفا کرتے دہان زخم تڑپنے پہ کیوں ہنسا کرتے مریض لذت فریاد کہہ نہیں سکتے جو نالے کام نہ آتے تو چپ رہا کرتے ہم ان سے مل کے بھی فرقت کا حال کہہ نہ سکے مزہ وصال کا کھوتے اگر گلہ کرتے مذاق درد ...

مزید پڑھیے

اداسی کی یہ عادت ہی کہاں تھی

اداسی کی یہ عادت ہی کہاں تھی ہمیں اس کی سہولت ہی کہاں تھی تمہیں جانا ہی تھا تو در کھلا تھا بہانوں کی ضرورت ہی کہاں تھی ذرا ہم بیٹھتے کچھ بات کرتے تمہیں اتنی سی فرصت ہی کہاں تھی سنو ان دوریوں کا اب گلہ کیا ہمارے بیچ قربت ہی کہاں تھی مقابل وقت سے جب جیتنا تھا ہمیں اس وقت ہمت ہی ...

مزید پڑھیے

بد گماں آج ساری محفل ہے

بد گماں آج ساری محفل ہے جانے کس راہ کس کی منزل ہے حال دل ہم بیاں کریں کیسے شہر کا مسئلہ مقابل ہے عمر بیتی ہے میری صحرا میں دور تک دریا ہے نہ ساحل ہے ساتھ چلنا ہے ان کی مجبوری دو کناروں کی ایک منزل ہے وہ مری غزلوں کا ہی ہے حصہ وہ کہاں زندگی میں شامل ہے دل مری ایک بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

خود سے کچھ یوں ابھر رہے ہیں ہم

خود سے کچھ یوں ابھر رہے ہیں ہم اک بھنور میں اتر رہے ہیں ہم زندگی کون جی رہا ہے یہاں موت میں جان بھر رہے ہیں ہم موت کے بعد زندگی ہوگی یہ سمجھ کر ہی مر رہے ہیں ہم اب سنورنے کا لطف جاتا رہا آئنے میں بکھر رہے ہیں ہم عشق پہلے بھی تو ہوا ہے ہمیں کیا نیا ہے جو ڈر رہے ہیں ہم وقت اپنی جگہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 944 سے 4657