شاعری

چہرے پہ میرے اب وہ رعونت نہیں رہی

چہرے پہ میرے اب وہ رعونت نہیں رہی آئینہ دیکھنے کی ضرورت نہیں رہی قابو میں پھر ہماری عبادت نہیں رہی ورثے میں جو ملی تھی عمارت نہیں رہی صد شکر اپنے پاؤں پہ چلنے لگا ہوں میں بیساکھیوں کی مجھ کو ضرورت نہیں رہی جیون ہے جیسے دھوپ میں دیمک زدہ کتاب جس کے ورق الٹنے کی ہمت نہیں ...

مزید پڑھیے

فریب خوبیٔ نیرنگ دیکھنے کے لئے

فریب خوبیٔ نیرنگ دیکھنے کے لئے نکل پڑا ہوں ترے سنگ دیکھنے کے لئے تعصبات کے چہرے پہ اب ہے خوشحالی لہو کے رنگ کو بے رنگ دیکھنے کے لئے ذرا شعور کی آنکھیں تو کھولیے صاحب کمال ضبط کا آہنگ دیکھنے کے لئے نگار خانۂ فن کے جمال کی سوگندھ میں آ گیا ہوں ترے ڈھنگ دیکھنے کے لئے تعلقات کا ...

مزید پڑھیے

شکستہ چھت میں پرندوں کو جب ٹھکانہ ملا

شکستہ چھت میں پرندوں کو جب ٹھکانہ ملا میں خوش ہوا کہ مرے گھر کو بھی گھرانا ملا فلک پہ اڑتے ہوئے بھی نظر زمیں پہ رہی مزاج مجھ کو مقدر سے طائرانہ ملا ہم اس کے حسن سخن کی دلیل کیا دیں گے وہ جتنی بار ملا ہم سے برملا نہ ملا اب آ گیا ہے تو چپ چاپ خامشی کو سن مرے سکوت میں اپنی کوئی صدا ...

مزید پڑھیے

کون پرسان حال ہے میرا

کون پرسان حال ہے میرا زندہ رہنا کمال ہے میرا تو نہیں تو ترا خیال سہی کوئی تو ہم خیال ہے میرا میرے اعصاب دے رہے ہیں جواب حوصلہ کب نڈھال ہے میرا چڑھتا سورج بتا رہا ہے مجھے بس یہیں سے زوال ہے میرا سب کی نظریں مری نگاہ میں ہیں کس کو کتنا خیال ہے میرا

مزید پڑھیے

خدا نے کیوں دل درد آشنا دیا ہے مجھے

خدا نے کیوں دل درد آشنا دیا ہے مجھے اس آگہی نے تو پاگل بنا دیا ہے مجھے تمہی کو یاد نہ کرتا تو اور کیا کرتا تمہارے بعد سبھی نے بھلا دیا ہے مجھے صعوبتوں میں سفر کی کبھی جو نیند آئی مرے بدن کی تھکن نے اٹھا دیا ہے مجھے میں وہ چراغ ہوں جو آندھیوں میں روشن تھا خود اپنے گھر کی ہوا نے ...

مزید پڑھیے

شرح غم ہائے بے حساب ہوں میں

شرح غم ہائے بے حساب ہوں میں لکھنے بیٹھوں تو اک کتاب ہوں میں میری بربادیوں پہ مت جاؤ ان نگاہوں کا انتخاب ہوں میں خواب تھا یا شباب تھا میرا دو سوالوں کا اک جواب ہوں میں مدرسہ میرا میری ذات میں ہے خود معلم ہوں خود کتاب ہوں میں جی رہا ہوں اس آب و تاب کے ساتھ کیسے آسودۂ شباب ہوں ...

مزید پڑھیے

پھر سے بدلے یہاں تہذیب نے تیور اپنے

پھر سے بدلے یہاں تہذیب نے تیور اپنے نوچ کر پھینک دیے جسم سے زیور اپنے اس نے شب خون جو مارا تو بچا کچھ بھی نہیں ہم اڑاتے ہی رہے چھت پہ کبوتر اپنے ایسے زنداں میں ہیں جس میں کہ نہ دیوار نہ در اس نے یہ سوچ کے خود کاٹ لئے پر اپنے سر پھرا مجھ سا کوئی میرے مقابل بھی تو ہو ہر کسی پر نہیں ...

مزید پڑھیے

امیر شہر کے آنگن میں جب اجالے ہوئے

امیر شہر کے آنگن میں جب اجالے ہوئے نہ جانے کتنے گھروں کے چراغ کالے ہوئے اسی زمیں کے خدا قبر گاہ میں اپنی ہیں اپنی جسم کی مٹی پہ خاک ڈالے ہوئے تمہاری فکر کی کوتاہ قد حویلی میں بجھے چراغ تو پھر مکڑیوں کے جالے ہوئے مخالفین کا اب شغل ہو گیا ہے یہی اچھالتے ہیں یہ جملے مرے اچھالے ...

مزید پڑھیے

بارش سنگ سے گل چاک ہوا چاہتے ہیں

بارش سنگ سے گل چاک ہوا چاہتے ہیں سب اسی خاک کی پوشاک ہوا چاہتے ہیں یوں ترے شہر میں بدلی ہے ہوائے خوش رنگ جتنے معصوم ہیں چالاک ہوا چاہتے ہیں فکر کا آب رواں اب نہیں رکنے والا ہم اسی بحر کے پیراک ہوا چاہتے ہیں سب کو رہتی ہے یہاں شہر اماں کی خواہش اتنے حالات خطرناک ہوا چاہتے ...

مزید پڑھیے

پیڑ تعبیر کے ہرے ہوتے

پیڑ تعبیر کے ہرے ہوتے میرے گر خواب نا بکے ہوتے کاش ہم ایک ہی محلے میں مل کے اک ساتھ ہی بڑے ہوتے پھر بھی کچھ آسرا تو ہو جاتا ساتھ کھوٹوں کے گر کھرے ہوتے ہم کبھی راستہ بھٹکتے نہیں دیپ راہوں میں گر جلے ہوتے دشت سے یوں نہ واسطہ پڑتا ہم اگر عشق سے پرے ہوتے دھوپ سے دوستی اگر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 938 سے 4657