چہرے پہ میرے اب وہ رعونت نہیں رہی
چہرے پہ میرے اب وہ رعونت نہیں رہی آئینہ دیکھنے کی ضرورت نہیں رہی قابو میں پھر ہماری عبادت نہیں رہی ورثے میں جو ملی تھی عمارت نہیں رہی صد شکر اپنے پاؤں پہ چلنے لگا ہوں میں بیساکھیوں کی مجھ کو ضرورت نہیں رہی جیون ہے جیسے دھوپ میں دیمک زدہ کتاب جس کے ورق الٹنے کی ہمت نہیں ...