شاعری

کیسا پیارا شخص تھا اور میں خواب میں رکھ کر بھول گئی

کیسا پیارا شخص تھا اور میں خواب میں رکھ کر بھول گئی جیسے کاغذ کی کشتی گرداب میں رکھ کر بھول گئی روشن روشن موتی جیسا صاف سجیلا پانی تھا جانے کون تھی چاند کو جو تالاب میں رکھ کر بھول گئی جب بھی اس پہ کھلنا چاہا گال حیا سے لال ہوئے اس کو پانے کی خواہش آداب میں رکھ کر بھول گئی سوچ ...

مزید پڑھیے

جستجو سے خدا ملا کہ نہیں

جستجو سے خدا ملا کہ نہیں تجھ پہ در ساتواں کھلا کہ نہیں کیا کہا پاؤں گھس گئے تیرے سوچ نے بھی سفر کیا کہ نہیں تیری خاطر بدن جلا بیٹھے پھر بھی تیرا دیا جلا کہ نہیں لوگ لاکھوں پرکھ لئے تم نے میرے جیسا کوئی ملا کہ نہیں سب نے پوچھا تو تھا مرا لیکن ذکر اس نے مرا کیا کہ نہیں میں جو ...

مزید پڑھیے

بدن یہ جس کے لئے شام جیسا سایا ہے

بدن یہ جس کے لئے شام جیسا سایا ہے وہ شخص آج بھی میرے لئے پرایا ہے فضا میں آج پرندوں کی چہچہاہٹ ہے عجب سا شور درختوں نے بھی مچایا ہے گذشتہ دور کی لیلیٰ سے مختلف ہوں میں کہ میں نے عشق کمایا ہے گھر بسایا ہے یہ میرا خاکی بدن لے رہا ہے اکھڑی سانس سو میں نے بھیجا ہے قاصد اسے بلایا ...

مزید پڑھیے

سامنے جب کوئی بھرپور جوانی آئے

سامنے جب کوئی بھرپور جوانی آئے پھر طبیعت میں مری کیوں نہ روانی آئے کوئی پیاسا بھی کبھی اس کی طرف رخ نہ کرے کسی دریا کو اگر پیاس بجھانی آئے میں نے حسرت سے نظر بھر کے اسے دیکھ لیا جب سمجھ میں نہ محبت کے معانی آئے اس کی خوشبو سے کبھی میرا بھی آنگن مہکے میرے گھر میں بھی کبھی رات کی ...

مزید پڑھیے

زندگی بھر میں سرگرانی سے

زندگی بھر میں سرگرانی سے ایسے کھیلا ہوں جیسے پانی سے کتنے ہی غم نکھرنے لگتے ہیں ایک لمحے کی شادمانی سے ہر کہانی مری کہانی تھی جی نہ بہلا کسی کہانی سے صرف وقتی سکون ملتا ہے پیاس بجھتی نہیں ہے پانی سے مجھ کو کیا کیا نہ دکھ ملے ساقیؔ میرے اپنوں کی مہربانی سے

مزید پڑھیے

منزلیں لاکھ کٹھن آئیں گزر جاؤں گا

منزلیں لاکھ کٹھن آئیں گزر جاؤں گا حوصلہ ہار کے بیٹھوں گا تو مر جاؤں گا چل رہے تھے جو میرے ساتھ کہاں ہیں وہ لوگ جو یہ کہتے تھے کہ رستے میں بکھر جاؤں گا در بدر ہونے سے پہلے کبھی سوچا بھی نہ تھا گھر مجھے راس نہ آیا تو کدھر جاؤں گا یاد رکھے مجھے دنیا تری تصویر کے ساتھ رنگ ایسے تری ...

مزید پڑھیے

بدن کے کھیت کو اب سینچنا ہے

بدن کے کھیت کو اب سینچنا ہے جو بویا تھا وہ آخر کاٹنا ہے تری آواز کو میں چھو رہی ہوں ترا لہجہ مجھے اب دیکھنا ہے میں اک مزدور کی بیٹی ہوں پگلے مجھے خوابوں کا رستہ روکنا ہے مجھے چھپ کر کہیں رونا ہے پہلے پھر اپنی ماں سے ہنسنا بولنا ہے محبت کے نرالے ذائقے ہیں اسی پتھر کو ہر پل چاٹنا ...

مزید پڑھیے

میں اپنے غم چھپانا چاہتی ہوں

میں اپنے غم چھپانا چاہتی ہوں ذرا سا مسکرانا چاہتی ہوں تمہارے ہاتھ سے گر کر اچانک میں اک دن ٹوٹ جانا چاہتی ہوں تجھے میں سامنے سے سوچتی ہوں تجھے میں غائبانہ چاہتی ہوں نہ جاؤ توڑ کے عہد وفا کو میں دلبر مخلصانہ چاہتی ہوں تو میری عمر بھر کی ہے ریاضت تجھے میں اجرتانہ چاہتی ہوں تو ...

مزید پڑھیے

بدن یہ جس کے لئے شام جیسا سایا ہے

بدن یہ جس کے لئے شام جیسا سایا ہے وہ شخص آج بھی میرے لئے پرایا ہے فضا میں آج پرندوں کی چہچہاہٹ ہے عجب سا شور درختوں نے بھی مچایا ہے گذشتہ دور کی لیلیٰ سے مختلف ہوں میں کہ میں نے عشق کمایا ہے گھر بسایا ہے ی میرا خاکی بدن لے رہا ہے اکھڑی سانس سو میں نے بھیجا ہے قاصد اسے بلایا ...

مزید پڑھیے

لبوں سے گو ابھی کہتے نہیں ہو

لبوں سے گو ابھی کہتے نہیں ہو محبت تم بھی کم کرتے نہیں ہو شجر پر دیکھ کے خوش ہو رہے ہو ثمر کو توڑ کر چکھتے نہیں ہو میں تم پہ رک گئی ہوں جھیل جیسے مگر دریا ہو تم رکتے نہیں ہو محبت تجھ کو اشکوں سے بھی سینچا وہ پودے ہو کہ جو بڑھتے نہیں ہو بہت مغرور ہوتے جا رہے ہو یہ کیا کہ بات بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 939 سے 4657