کیسا پیارا شخص تھا اور میں خواب میں رکھ کر بھول گئی
کیسا پیارا شخص تھا اور میں خواب میں رکھ کر بھول گئی جیسے کاغذ کی کشتی گرداب میں رکھ کر بھول گئی روشن روشن موتی جیسا صاف سجیلا پانی تھا جانے کون تھی چاند کو جو تالاب میں رکھ کر بھول گئی جب بھی اس پہ کھلنا چاہا گال حیا سے لال ہوئے اس کو پانے کی خواہش آداب میں رکھ کر بھول گئی سوچ ...