شاعری

جس نے میرے سر پر تہمت رکھی ہے

جس نے میرے سر پر تہمت رکھی ہے میں نے اس کے گھر کی عزت رکھی ہے بات الگ ہے فاقہ مست فقیروں کی ٹھوکر میں دنیا کی دولت رکھی ہے امرت جل لے جاؤ کہ اس نے ہاتھوں میں کنواں کھودنے بھر کی طاقت رکھی ہے میں نے تو دتکار دیا سو بار اسے لیکن اس نے میری عزت رکھی ہے سفر بہت مشکل ہے پاپی دنیا ...

مزید پڑھیے

کچھ بھی سمجھ نہ پاؤ گے میرے بیان سے

کچھ بھی سمجھ نہ پاؤ گے میرے بیان سے دیکھا بھی ہے زمیں کو کبھی آسمان سے ہم روشنی کی بھیک نہیں مانگتے کبھی جگنو نکالتے ہیں اندھیروں کی کان سے محسوس کر رہی ہے زمیں اپنے سر پہ بوجھ مٹی کھسک کے گرنے لگی ہے چٹان سے ہنستی ہوئی بہار کا چہرہ اتر گیا بارود بن کے لفظ جو نکلے زبان سے ہم ...

مزید پڑھیے

درد دل جان کا آزار ہے میں جانتا ہوں

درد دل جان کا آزار ہے میں جانتا ہوں اور اللہ مددگار ہے میں جانتا ہوں میں بنا کلمہ پڑھے بھی تو مسلماں ٹھہرا ہاں مرے دوش پہ زنار ہے میں جانتا ہوں ایک اک حرف مہکنے لگا پھولوں کی طرح یہ تری گرمئ گفتار ہے میں جانتا ہوں رہن رکھے جو مری قوم کے مستقبل کو وہ مری قوم کا سردار ہے میں جانتا ...

مزید پڑھیے

مذہب کی کتابوں میں بھی ارشاد ہوا میں

مذہب کی کتابوں میں بھی ارشاد ہوا میں دنیا تری تعمیر میں بنیاد ہوا میں صیاد سمجھتا تھا رہا ہو نہ سکوں گا ہاتھوں کی نسیں کاٹ کے آزاد ہوا میں عریاں ہے مرے شہر میں تہذیب کی دیوی مندر کا پجاری تھا سو برباد ہوا میں مضمون سے لکھتا ہوں کئی دوسرے مضموں دنیا یہ سمجھتی ہے کہ نقاد ہوا ...

مزید پڑھیے

فضائے ذہن کی جلتی ہوا بدلنے تک

فضائے ذہن کی جلتی ہوا بدلنے تک میں بجھ نہ جاؤں لحاف انا بدلنے تک چراغ جسم میں اس بار بجھ نہ جاؤں میں ہوائے خیمئہ شب کی ردا بدلنے تک پھر آج کوفے سے ہجرت بہت ضروری ہے پلٹ کے آئیں گے آب و ہوا بدلنے تک عجیب لوگ ہیں دنیا تری ہوس کے لئے تلے ہوئے ہیں خود اپنا خدا بدلنے تک کشید کرتے ہیں ...

مزید پڑھیے

ٹوٹتے ہی دم دیوں کا اک دھواں پیدا ہوا

ٹوٹتے ہی دم دیوں کا اک دھواں پیدا ہوا سوچ کے ساگر سے نیلا آسماں پیدا ہوا ایک مدت سے یہی تو سوچتا ہوں رات دن میں کہاں کا آدمی تھا اور کہاں پیدا ہوا دھوپ کی شدت نے آخر ہار تھک کر مان لی ہم جہاں ٹھہرے وہیں پر سائباں پیدا ہوا تیرگیٔ شب اجالوں میں بدل کر رہ گئی آنسوؤں میں اک جمال ...

مزید پڑھیے

خراب ہو گیا جب میرے جسم کا کاغذ

خراب ہو گیا جب میرے جسم کا کاغذ تو میری روح نے پہنا ہے دوسرا کاغذ گزار دی ہے یوں ہی جوڑتے گھٹاتے ہوئے سوال حل نہ ہوئے اور بھر گیا کاغذ غریب شہر ہوں گھر ہے نہ کاروبار کوئی کبھی بچھاتا کبھی اوڑھتا رہا کاغذ حروف رقص کناں ہو گئے اچانک ہی لبوں سے اپنے جو اس نے کبھی چھوا کاغذ وہ دن ...

مزید پڑھیے

گئی نہیں ترے ظلم و ستم کی خو اب تک

گئی نہیں ترے ظلم و ستم کی خو اب تک ٹپک رہا ہے مری آنکھ سے لہو اب تک نہ جانے کب سے ہے میرے لبوں پہ تیرا نام اسی سبب سے تو ٹوٹا نہیں وضو اب تک تمام عمر گلستاں میں کٹ گئی لیکن ہوا نہیں مجھے اور ایک رنگ و بو اب تک کسی بھی شعر کو حاصل ہوئی نہ زرخیزی میں ڈھونڈھتا رہا صحراؤں میں نمو اب ...

مزید پڑھیے

دھو کے اشکوں سے کئی بار اجالی ہوئی ہے

دھو کے اشکوں سے کئی بار اجالی ہوئی ہے دھوپ میں جل کے وہ تصویر بھی کالی ہوئی ہے میں گروں گا تو اسی خاک سے اٹھے گا کوئی حق پرستوں سے یہ دنیا کبھی خالی ہوئی ہے لکھنؤ ناز ہے جس پر وہی کہنہ تہذیب ہم نے ورثے میں سلیقے سے سنبھالی ہوئی ہے اب نہ تصویر ہے کوئی نہ ہے کیلوں کی چبھن دل کی ...

مزید پڑھیے

خرد کی راہ میں ہر موڑ پر دھوکے نکل آئے

خرد کی راہ میں ہر موڑ پر دھوکے نکل آئے بساط امن پر بھی جنگ کے نقشے نکل آئے ضروری ہے ہم اپنی زندگی کو آئنہ رکھیں یہ چادر کون اوڑھے گا اگر دھبے نکل آئے محبت کا اسے اقرار کرنا ہی پڑا لیکن یہ سوکھے پیڑ سے کیسے ہرے پتے نکل آئے بہت دن بعد جب میں نے خودی کا آئنہ دیکھا تو خود میرے ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 937 سے 4657