شاعری

رہ کر مکان میں مرے مہمان جائیے

رہ کر مکان میں مرے مہمان جائیے میرا بھی ایک بار کہا مان جائیے کہتا ہر ایک ہے تری تصویر دیکھ کر اس شکل اس شبیہ کے قربان جائیے مجھ کو پلا کے بزم میں کہنے لگے وہ آج بس جائیے یہاں سے مری جان جائیے سنبل نے آج نرگس حیراں سے یہ کہا جب جائیے چمن میں پریشان جائیے میں نے کہا یہ ان سے جب ...

مزید پڑھیے

تیری محفل میں جتنے اے ستم گر جانے والے ہیں

تیری محفل میں جتنے اے ستم گر جانے والے ہیں ہمیں ہیں ایک ان میں جو ترا غم کھانے والے ہیں عدم کے جانے والو دوڑتے ہو کس لیے ٹھہرو ذرا مل کے چلو ہم بھی وہیں کے جانے والے ہیں صفائی اب ہماری اور تمہاری ہو تو کیوں کر ہو وہی دشمن ہیں اپنے جو تمہیں سمجھانے والے ہیں کسے ہم دوست سمجھیں اس ...

مزید پڑھیے

کوئی اس سے نہیں کہتا کہ یہ کیا بے وفائی ہے

کوئی اس سے نہیں کہتا کہ یہ کیا بے وفائی ہے چرا کر دل مرا اب آنکھ بھی اپنی چرائی ہے اٹھو اے مے کشو آباد مے خانہ کریں چل کر ذرا دیکھو تو کیا کالی گھٹا گھنگھور چھائی ہے بتوں کے عشق سے ہم باز آئے ہیں نہ آئیں گے نہیں پروا ہمیں دشمن اگر ساری خدائی ہے نشاط دل کو دشمن کے بنائیں گے اسی سے ...

مزید پڑھیے

رہتا ہے کب اک روش پر آسماں

رہتا ہے کب اک روش پر آسماں کھاتا ہے چکر پہ چکر آسماں کر دیا برباد اک دم میں مجھے کیا کیا تو نے ستم گر آسماں آہ کرتے ہیں ہزاروں دل فگار پر نہ ٹوٹا تیرا خنجر آسماں روند ڈالوں پاؤں کے نیچے تجھے دل میں آتا ہے جفا گر آسماں رات کو برساتا ہے پتھر اگر دن کو برساتا ہے اخگر آسماں

مزید پڑھیے

خود اپنی ذات کو مسمار کرکے

خود اپنی ذات کو مسمار کرکے کہاں جاؤں سمندر پار کرکے کھلی جب آنکھ کشتی جا چکی تھی ملا کیا خواب سے بیدار کرکے تسلی بھی نہیں دیتا ہے کوئی مصیبت سے مجھے دو چار کرکے مجھے جھکنا تھا آخر جھک گیا میں گرا وہ خود مجھی پہ وار کرکے بہت دعویٰ تھا تجھ سے دوستی کا بہت پچھتا رہا ہوں پیار ...

مزید پڑھیے

میرا رب جب رات بنانے لگتا ہے

میرا رب جب رات بنانے لگتا ہے دن کا سارا بوجھ ٹھکانے لگتا ہے رات پیالہ خوابوں سے بھر جائے تو نیند سے تیرا خواب جگانے لگتا ہے بارش کے موسم میں اکثر شام کوئی مجھ کو تیری نظم سنانے لگتا ہے کبھی کبھی کوئی جادو سا ہو جاتا ہے اور کوئی سپنا سچ ہو جانے لگتا ہے کھڑا ہو جاؤں پاؤں پہ تو ...

مزید پڑھیے

نالہ شب فراق جو کوئی نکل گیا

نالہ شب فراق جو کوئی نکل گیا جوش جنوں سے چیر کے چرخ و زحل گیا پوچھا مزاج اس کا جو رشک مسیح نے لے کر مریض عشق سنبھالا سنبھل گیا نکلی زبان شمع سے کیا بات رات کو سنتے ہی جس کو بزم میں پروانہ جل گیا عہد شباب چشم زدن میں ہوا تمام جھونکا تھا اک نسیم کا آ کر نکل گیا دار فنا میں کون ہے ...

مزید پڑھیے

ہیں بہت دیکھے چاہنے والے

ہیں بہت دیکھے چاہنے والے پر ملے کم نباہنے والے ہم تمہارے ہوں چاہنے والے تم اگر ہو نباہنے والے آب شمشیر کے پیاسے ہیں تیرے بسمل کراہنے والے آ کے دنیا میں اے دل ناداں کام مت کر الاہنے والے چاہے چاہے نہ چاہے چاہے وہ ہم تو ہیں اس کے چاہنے والے نہیں وہ دوست بلکہ ہیں دشمن ہیں جو ...

مزید پڑھیے

رونق عہد جوانی الوداع

رونق عہد جوانی الوداع الودع اے شادمانی الوداع الصلا اے عہد پیری الصلا اے نشاط و شادمانی الوداع الفراق اے عیش داراں الفراق اے مراد و کامرانی الوداع الصلا اے کندیٔ ہوش و حواس اے طبیعت کی روانی الوداع اے حیات جاودانی السلام رنج‌ ہائے دار فانی الوداع سر پہ ہے موسم خزاں کا آ ...

مزید پڑھیے

کالی کالی گھٹا برستی ہے

کالی کالی گھٹا برستی ہے آج کیا لطف مے پرستی ہے خوش لگے دل کو کیوں نہ ویرانہ عاشقوں کی یہی تو بستی ہے آج محفل میں یہ خیال رہے کس کی جانب سے پیش دستی ہے جب کہ اس کا بھی ہے مآل یہی مے پرستی بھی فاقہ مستی ہے ایک تیر نظر ادھر مارو دل ترستا ہے جاں ترستی ہے بوسہ ملتا ہے جان کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 912 سے 4657