کب دل شکست گاں سے کر عرض حال آیا
کب دل شکست گاں سے کر عرض حال آیا ہے بے صدا وہ چینی جس میں کہ بال آیا سینے سے میں دعا کو لایا جو شب لبوں تک کہنے لگی اجابت کیدھر خیال آیا کونین تک ملی تھی جس دل کی مجھ کو قیمت قسمت کہ یک نگہ پر جا اس کو ڈال آیا بخشش پہ دو جہاں کے آئی تھی ہمت دہر لیکن نہ یاں زباں تک حرف سوال ...