شاعری

کب دل شکست گاں سے کر عرض حال آیا

کب دل شکست گاں سے کر عرض حال آیا ہے بے صدا وہ چینی جس میں کہ بال آیا سینے سے میں دعا کو لایا جو شب لبوں تک کہنے لگی اجابت کیدھر خیال آیا کونین تک ملی تھی جس دل کی مجھ کو قیمت قسمت کہ یک نگہ پر جا اس کو ڈال آیا بخشش پہ دو جہاں کے آئی تھی ہمت دہر لیکن نہ یاں زباں تک حرف سوال ...

مزید پڑھیے

تصویر دوست فکر مجسم بنی رہی

تصویر دوست فکر مجسم بنی رہی میں اس سے بولتا رہا وہ سوچتی رہی کل شب تصورات کی محفل سجی رہی جب تک تمہارا ذکر رہا چاندنی رہی شاید سمجھ رہی تھی اسے بھی کوئی چراغ جگنو کے پیچھے تیز ہوا دوڑتی رہی پانی کا انتظام تھا غیروں کے ہاتھ میں یوں بھی گھروں میں آگ ہمارے لگی رہی پوری ہوئی نہ سر ...

مزید پڑھیے

مزاج دل نہ اتنا سرد ہوتا

مزاج دل نہ اتنا سرد ہوتا اگر پہلو بہ پہلو درد ہوتا یہ کچلی لاش اب بھی سوچتی ہے کوئی اس بھیڑ میں ہمدرد ہوتا خزاں والے یہی تو چاہتے ہیں ہرے پتوں کا چہرہ زرد ہوتا محبت پر ہے پروائی کا احساں وگرنہ دل میں کیوں یہ درد ہوتا زمانے کی نظر لگنے نہ دیتا جو تو آئینہ اور میں گرد ہوتا

مزید پڑھیے

رنگ کا فرق مٹایا یہ شرف میرا تھا

رنگ کا فرق مٹایا یہ شرف میرا تھا سنگ اسود تھا مرا در نجف میرا تھا صبح بیعت کی وہ زہریلی ہوا تیری تھی اور جو پھول تھا شمشیر بکف میرا تھا رہ کے پانی میں بھی پانی سے بہت دور رہا تھا جو دریا میں وفاؤں کا صدف میرا تھا دین و دنیا میں رہی جنگ اندھیرے کے سبب صبح کے وقت مگر میری طرف میرا ...

مزید پڑھیے

جس رات بھی چراغ شب غم رہا ہوں میں

جس رات بھی چراغ شب غم رہا ہوں میں اس رات روشنی میں بہت کم رہا ہوں میں غیروں سے دوستی کو بڑھایا ہے اپنا ہاتھ خود کتنا اپنے آپ سے برہم رہا ہوں میں خوشبو دل و دماغ میں اور وہ بھی اس قدر پھولوں کا ہم نشیں تو بہت کم رہا ہوں میں یہ شہر جسم و جاں مری پہچان بن گیا اس شہر میں اگرچہ بہت کم ...

مزید پڑھیے

ٹیس بھی ٹیس نہ تھی زخم جگر ہونے تک

ٹیس بھی ٹیس نہ تھی زخم جگر ہونے تک پھول بھی پھول نہ تھا خون میں تر ہونے تک وہی حق دار ہے سورج کی کرن کا جس نے رات کی زلف سنواری ہے سحر ہونے تک تارے دیوانے نہیں ہیں کہ جو تھامے ہی رہیں دامن شب کو گریبان سحر ہونے تک پوچھئے خضر سے کیا وہ بھی رہیں گے زندہ اپنی باتوں کا حبابوں پہ اثر ...

مزید پڑھیے

حائل ہیں اشک راہ میں کیسے نظر ملے

حائل ہیں اشک راہ میں کیسے نظر ملے بارش اگر تھمے تو مسافر کو گھر ملے آئے چراغ شام لگا لوں گلے تجھے دونوں کو یہ امید نہیں ہے سحر ملے دور جدید میں جو بڑھی فاصلوں کی بات جی چاہتا نہیں کہ نظر سے نظر ملے اب تو جنوں کے ہاتھ سے پتھر نکل گئے اب ہم بھی چاہتے ہیں کہ شیشہ کا گھر ملے صولتؔ ...

مزید پڑھیے

ایسی ویسی پہ قناعت نہیں کر سکتے ہم

ایسی ویسی پہ قناعت نہیں کر سکتے ہم دان یہ فقر کی دولت نہیں کر سکتے ہم اک عداوت سے فراغت نہیں ملتی ورنہ کون کہتا ہے محبت نہیں کر سکتے ہم کسی تعبیر کی صورت میں نکل آتے ہیں اپنے خوابوں میں سکونت نہیں کر سکتے ہم شاخ سے توڑ لیا کرتے ہیں آگے بڑھ کر جن کی خوشبو پہ قناعت نہیں کر سکتے ...

مزید پڑھیے

فکر نقاد ادب درہم و دینار میں ہے

فکر نقاد ادب درہم و دینار میں ہے کون سی جنس سخن کوچہ و بازار میں ہے گرمیٔ حسن مری گرمیٔ افکار میں ہے وہ اگر مجھ میں نہیں ہے مرے اشعار میں ہے پا بہ زنجیر مجھے لاکھ زمانہ سمجھے مرے قدموں کی دھمک وقت کی رفتار میں ہے رات قابو میں رہے شہر کے حالات مگر لاش اک لپٹی ہوئی صبح کے اخبار ...

مزید پڑھیے

عادت مری دنیا سے چھپانے کی نہیں تھی

عادت مری دنیا سے چھپانے کی نہیں تھی وہ بات بھی کہہ دی جو بتانے کی نہیں تھی میں خوش ہوں بہت گرد کو آئینے پہ رکھ کر دی وہ مجھے صورت جو دکھانے کی نہیں تھی ہم کھا گئے دھوکا تری آنکھوں کی نمی سے وہ چوٹ دکھا دی جو دکھانے کی نہیں تھی اچھا ہوا نیند آ گئی ارباب وفا کو آگے یہ کہانی بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 902 سے 4657