شاعری

جب سے ہم بدنام بہت ہیں

جب سے ہم بدنام بہت ہیں ہم سے جہاں کو کام بہت ہیں آئینے میں کیا کیا دیکھیں اک چہرہ اور نام بہت ہیں لا سورج کرنوں کی سولی راتوں پر الزام بہت ہیں لینا ہو تو لے لو دعائیں درویشوں کو کام بہت ہیں میرے جیسے لوگ بہت کم البتہ ہم نام بہت ہیں شاعر کی پہچان نہ پوچھو گمناموں کے نام بہت ...

مزید پڑھیے

ہم نقش پا تھے راہ گزر ہی میں رہ گئے

ہم نقش پا تھے راہ گزر ہی میں رہ گئے نکلے سفر پہ اور سفر ہی میں رہ گئے شاید انہیں تھا حادثۂ ضبط غم کا ڈر آنسو لرز کے دیدۂ تر ہی میں رہ گئے منزل پہ وہ بھی پہنچیں گے کس کو یقین ہو پیچھے جو ابتدائے سفر ہی میں رہ گئے سارے جواب دے نہ سکے زندگی کے ہم کتنے سوال دیدۂ تر ہی میں رہ ...

مزید پڑھیے

چند دیواریں کسی کو دیں کسی کو در دیے

چند دیواریں کسی کو دیں کسی کو در دیے ہم نے اک چھوٹے سے گھر کے کتنے ٹکڑے کر دیے بے ادب ننگی نگاہوں سے بچانے کے لئے ہم نے معنی کو بدن الفاظ کو پیکر دیے کیا حقیقت کی نمائش میری خاطر جرم تھی تو نے جو آئینہ دیکھا اس کے ٹکڑے کر دیے رو رہے ہو دیر سے شیشہ کی کرچیں دیکھ کر تم نے کیوں اہل ...

مزید پڑھیے

پھر ایسا موڑ اس قصے میں آیا

پھر ایسا موڑ اس قصے میں آیا میں صدیاں گھوم کر لمحے میں آیا مرا رستہ کسی جنگل سے گزرا کہ خود جنگل مرے رستے میں آیا کسی کے عرش پر ہونے کا دعویٰ سمجھ اک شب مجھے نشے میں آیا میں اپنے گھر بڑی مدت سے کے بعد آج کسی مہمان کے دھوکے میں آیا ترا کردار چلتے پھرتے اک دن مری روداد کے کوچے میں ...

مزید پڑھیے

مل جل کر ایمان خدا پر لا سکتے ہیں

مل جل کر ایمان خدا پر لا سکتے ہیں اک جنت میں بھوک اور پیاس سما سکتے ہیں آپ اگر سمجھا دیں خال و خد منظر کے ہم اپنی حیرت کا نام بتا سکتے ہیں میرے کھلیانوں سے اٹھتے آگ کے شعلے جھونکے تیرے باغوں تک پھیلا سکتے ہیں کمرے کے دم گھٹ جانے کا خوف نہ ہو تو ہم اپنی تنہائی کو دہرا سکتے ...

مزید پڑھیے

یہ جو تالاب ہے دریا تھا کبھی

یہ جو تالاب ہے دریا تھا کبھی میں یہاں بیٹھ کے روتا تھا کبھی تیرگی نے وہاں دیکھا ہے مجھے روشنی نے جہاں سوچا تھا کبھی اپنی تفہیم کا زندانی لفظ شاخ معنی پہ چہکتا تھا کبھی اب چراگاہ ہے تعبیروں کی میرے خوابوں کا جزیرہ تھا کبھی یاد پڑتا ہے تری فرصت میں میں کسی کام سے آیا تھا ...

مزید پڑھیے

کبھی ہونٹوں پہ ایسا لمس اپنی آنکھ کھولے

کبھی ہونٹوں پہ ایسا لمس اپنی آنکھ کھولے کہ بوسا خودکشی کرنے سے پہلے مسکرا دے کوئی آنسو چمکنے میں ہمارا ساتھ دیتا تو زہرہ اور عطارد اپنے گھر کی راہ لیتے لجا کر رات نے کچھ اور بھی گھونگھٹ نکالا طلب نے جسم پہنا شوق نے گہنے اتارے تصور میں ٹہلتے خال و خد کیا چاہتے ہیں اداسی سے کہو ...

مزید پڑھیے

جب تعارف سے بے نیاز تھا میں

جب تعارف سے بے نیاز تھا میں کوئی زاہد نہ سرفرازؔ تھا میں جب ہوا آشکار تب جانا اپنے بارے میں کوئی راز تھا میں اب تو سانسوں میں بھی نہیں ترتیب پہلے وقتوں میں نے نواز تھا میں اے مری انتہائے بربادی کس قدر مبتلائے ناز تھا میں سب کو قدرت تھی خوش کلامی پر خامشی میں زباں دراز تھا ...

مزید پڑھیے

نظر کی دھوپ میں آنے سے پہلے

نظر کی دھوپ میں آنے سے پہلے گلابی تھا وہ سنولانے سے پہلے سنا ہے کوئی دیوانہ یہاں پر رہا کرتا تھا ویرانے سے پہلے محبت عام سا اک واقعہ تھا ہمارے ساتھ پیش آنے سے پہلے کھلا کرتے تھے خوابوں میں کسی کے ترے تکیے پہ مرجھانے سے پہلے

مزید پڑھیے

ایسی ویسی پہ قناعت نہیں کر سکتے ہم

ایسی ویسی پہ قناعت نہیں کر سکتے ہم دان یہ فقر کی دولت نہیں کر سکتے ہم اک عداوت سے فراغت نہیں ملتی ورنہ کون کہتا ہے محبت نہیں کر سکتے ہم کسی تعبیر کی صورت میں نکل آتے ہیں اپنے خوابوں میں سکونت نہیں کر سکتے ہم استعاروں کے تکلف میں پڑے ہیں جب سے اپنے ہونے کی وضاحت نہیں کر سکتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 903 سے 4657