شاعری

کیسی یہ روشنی ہے بکھرتی نہیں کبھی

کیسی یہ روشنی ہے بکھرتی نہیں کبھی تاریک راستوں پہ تو پڑتی نہیں کبھی کیسا یہ چھا گیا ہے مری زندگی پہ زنگ کوشش ہزار پہ بھی اترتی نہیں کبھی یکسانیت کا ہو گئی عنوان زندگی بگڑی ہے ایسی بات سنورتی نہیں کبھی رہتا ہے زندگی کو بہاروں کا انتظار حرکات کج رواں سے تو ڈرتی نہیں کبھی ہے ...

مزید پڑھیے

بھری محفل میں تنہائی کا عالم ڈھونڈ لیتا ہے

بھری محفل میں تنہائی کا عالم ڈھونڈ لیتا ہے جو آئے راس دل اکثر وہ موسم ڈھونڈ لیتا ہے کسی لمحے اکیلا پن اگر محسوس ہو دل کو خیال یار کے دامن سے کچھ غم ڈھونڈ لیتا ہے کسی رت سے رہے مشروط کب ہیں روز و شب میرے جہاں جیسا یہ چاہے دل وہ موسم ڈھونڈ لیتا ہے غم فرقت کا دل کو بوجھ کرنا ہو اگر ...

مزید پڑھیے

گھر سے بے پردہ پری رو جو نکل جاتے ہیں

گھر سے بے پردہ پری رو جو نکل جاتے ہیں دیکھنے والوں کے ایمان بدل جاتے ہیں آسماں کرتا ہے جو چشم عنایت اپنی رنگ پت جھڑ کے بہاروں میں بدل جاتے ہیں اپنی نظروں سے جو گرتے ہیں سنبھلتے ہی نہیں ٹھوکریں کھا کے تو رستے میں سنبھل جاتے ہیں امن کی شاخ پہ بیٹھے ہوئے پنچھی سارے شر پسندوں کی ...

مزید پڑھیے

وہ سن نہ پائے تو صدا کیا ہے

وہ سن نہ پائے تو صدا کیا ہے آہ و زاری سے فائدہ کیا ہے کوئی پوچھے تو عشق والوں سے درد کا دل سے واسطہ کیا ہے حق بیانی ملی ہے ورثے میں اتنی حیرت سے دیکھتا کیا ہے سارے اپنے ہوئے ہیں بیگانے ہم کو بیگانوں سے گلہ کیا ہے جھوٹ کی گرد صاف کر ڈالو سچ نہ بولے تو آئنہ کیا ہے تم ابھی یاد بھی ...

مزید پڑھیے

مٹی کا جسم اور صف معتبر میں ہے

مٹی کا جسم اور صف معتبر میں ہے کتنا بڑا کمال کف کوزہ گر میں ہے ایسی ہوس چھپی ہوئی قلب بشر میں ہے گھر میں ہیں اور وسعت دنیا نظر میں ہے شوق سخن وری کو مٹاتا میں کس طرح یہ تو رچی بسی مرے قلب و جگر میں ہے مل جائے بے قرار کو لطف سکون دل ایسی تو بس مثال خدا ہی کے گھر میں ہے تم کو تمہاری ...

مزید پڑھیے

بنجر زمیں تھی اور مکاں کوئی بھی نہ تھا

بنجر زمیں تھی اور مکاں کوئی بھی نہ تھا میں اس جگہ بسا تھا جہاں کوئی بھی نہ تھا وحشت برس رہی تھی جہان خراب میں دل کو لبھا سکے وہ سماں کوئی بھی نہ تھا سب سے جدا ہوا تھا میں جس کے یقین پر ہو جائے گا جدا وہ گماں کوئی بھی نہ تھا تپتی ہوئی زمین پہ برسوں چلا ہوں میں لیکن مرے قدم کا نشاں ...

مزید پڑھیے

یوں ہی جو کرتے رہیں گے مشاہدہ دل کا

یوں ہی جو کرتے رہیں گے مشاہدہ دل کا چمک اٹھے گا کسی روز آئنہ دل کا ہماری راہ میں دیوار اٹھا کے دنیا نے قدم قدم پہ بڑھایا ہے حوصلہ دل کا مقام ایسا بھی آتا ہے راہ الفت میں قبول عقل بھی کرتی ہے مشورہ دل کا بھٹک نہ جائے کہیں دھڑکنوں کے جنگل میں دماغ ڈھونڈنے نکلا ہے راستہ دل کا یہ ...

مزید پڑھیے

ساری دنیا کی نگاہوں میں تماشہ ہو گیا

ساری دنیا کی نگاہوں میں تماشہ ہو گیا عشق تم سے کیا ہوا ہے میں تو رسوا ہو گیا سائے میں خوشیوں کے کتنے لوگ میرے ساتھ تھے دھوپ غم کی پھیلتے ہی میں اکیلا ہو گیا اب کسی سے خیر خواہی کی نہیں رکھنا امید آدمی ویسا نہیں تھا آج جیسا ہو گیا راز جتنے تھے سبھی سینے میں میرے دفن تھے دوستوں ...

مزید پڑھیے

دکھ ذرا کیا ملا محبت میں

دکھ ذرا کیا ملا محبت میں بس جھلکنے لگا عبارت میں کیسے کیسے سوال کرتا ہے ایک پاگل تری حراست میں کیوں نہیں ہو رہا اثر اس پر کیا بلوغت نہیں بلاغت میں لمس تیرا دوا تھا جینے کی میں تو مارا گیا شرافت میں ایسی عادت ہوئی اسیری کی چین پڑتا نہیں فراغت میں یہ جو ہذیان بک رہے ہو تم عشق ...

مزید پڑھیے

جان جوکھم سے کئے سر جو مراحل تو نے

جان جوکھم سے کئے سر جو مراحل تو نے دو قدم دور تھی کیوں چھوڑ دی منزل تو نے دیکھ کمبخت مری جان پہ بن آئی ہے زندگی کر دئے پیچیدہ مسائل تو نے یہ سمندر تو ہے کم ظرف چھلک جاتا ہے کیا مجھے مان لیا اس کے مقابل تو نے تیری فطرت جو درندوں سی نظر آتی ہے کون سا رنگ کیا خون میں شامل تو نے پھنس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 830 سے 4657