شاعری

مجھ سے آنکھیں لڑا رہا ہے کوئی

مجھ سے آنکھیں لڑا رہا ہے کوئی میرے دل میں سما رہا ہے کوئی ہے تری طرح روز راہوں میں مجھ سے تجھ کو چھڑا رہا ہے کوئی پھر ہوئے ہیں قدم یہ من من کے پاس اپنے بلا رہا ہے کوئی نکلوں ہر راہ سے اسی کی طرف راستے وہ بتا رہا ہے کوئی کیا نکل جاؤں عہد ماضی سے یاد بچپن دلا رہا ہے کوئی پھر سے ...

مزید پڑھیے

کرتے ہیں اگر مجھ سے وہ پیار تو آ جائیں

کرتے ہیں اگر مجھ سے وہ پیار تو آ جائیں پھر آ کے چلے جائیں اک بار تو آ جائیں ہے وقت یہ رخصت کا بخشش کا تلافی کا سمجھیں نہ جو گر اس کو بے کار تو آ جائیں اک دید کی خواہش پہ اٹکا ہے یہ دم میرا کم کرنا ہو میرا کچھ آزار تو آ جائیں جاں دینے کو راضی ہوں اے پیک اجل لیکن کچھ دیر تو رک جاؤ ...

مزید پڑھیے

دوست یا دشمن جاں کچھ بھی تم اب بن جاؤ

دوست یا دشمن جاں کچھ بھی تم اب بن جاؤ جینے مرنے کا مرے اک تو سبب بن جاؤ ہو مثالوں میں نہ جو حسن عجب بن جاؤ کس نے تم سے یہ کہا تھا کہ غضب بن جاؤ آ بسو دل کی طرح گھر میں بھی اے خوش الحان زندگی بھر کو مرا ساز طرب بن جاؤ رشک قسمت پہ مری سارے زمانے کو رہے ہم سفر تم جو لئے اپنے یہ چھب بن ...

مزید پڑھیے

مناظر حسیں ہیں جو راہوں میں میری

مناظر حسیں ہیں جو راہوں میں میری تمہیں ڈھونڈتے ہیں وہ بانہوں میں میری انہیں کیا خبر مجھ میں رچ سے گئے ہو بچھڑ کر بھی مجھ سے ہو آہوں میں میری عجب بے خودی آپ ہی آپ چھائے ترا نام آئے جو آہوں میں میری ہر اک سو ہے رونق خیالوں سے تیرے ابھی بھی مہک تیری بانہوں میں میری مرے ساتھ بھی ہو ...

مزید پڑھیے

درمیاں فاصلہ نہیں ہوتا

درمیاں فاصلہ نہیں ہوتا تو اگر بے وفا نہیں ہوتا عشق کی ڈور ہی کچھ ایسی ہے جس کا کوئی سرا نہیں ہوتا آشنا ہم وفا سے ہو پاتے وہ اگر بے وفا نہیں ہوتا سچ تو یہ ہے کبھی برائی سے آدمی کا بھلا نہیں ہوتا وہ نہ آتے اگر گلستاں میں کوئی بھی گل کھلا نہیں ہوتا ان کتابوں کو ہم نہیں پڑھتے جن ...

مزید پڑھیے

تم سا دل کش کوئی دیکھا ہی نہیں

تم سا دل کش کوئی دیکھا ہی نہیں آئنہ جھوٹ بولتا ہی نہیں سن کے تعریف اپنی شرمائے جیسے خود سے وہ آشنا ہی نہیں جان لے کر وہ کہہ اٹھے مجھ سے اس میں میری کوئی خطا ہی نہیں چارہ گر کو خبر نہیں شاید درد دل کی کچھ دوا ہی نہیں ہم نے اس دل کو لاکھ سمجھایا زور دل پر مگر چلا ہی نہیں یہ مرا دل ...

مزید پڑھیے

ضرورت ہے کسی بھی خواب کی تعبیر سے پہلے

ضرورت ہے کسی بھی خواب کی تعبیر سے پہلے بنا لو ذہن میں نقشہ کوئی تعمیر سے پہلے ازل سے آشنا ہے دل ترے جلووں سے اے ہمدم تصور میں تری تصویر تھی تصویر سے پہلے بڑی کوشش کرے انسان حاصل کچھ نہیں ہوتا ملا ہے وقت سے پہلے نہ کچھ تقدیر سے پہلے نشیمن برق کی زد پر بنانا چاہتا ہوں میں تسلسل ہے ...

مزید پڑھیے

اک ذرا گرم لو کے چلتے ہی

اک ذرا گرم لو کے چلتے ہی پھول مرجھا گئے ہیں کھلتے ہی جاگ اٹھیں ضرورتیں سب کی آفتاب سحر نکلتے ہی دن گئے ریگ مشت کی مانند رہ گئے لوگ ہاتھ ملتے ہی سج کے آئی ہے آج شام غم بجھ گیا دل چراغ جلتے ہی اس کے تیور بدلنے لگتے ہیں میرے حالات کے بدلتے ہی جانے کیسا تضاد ہے ہم میں گر پڑے تم مرے ...

مزید پڑھیے

کس دکھے دل کی بد دعا ہوں میں

کس دکھے دل کی بد دعا ہوں میں آج کل خود سے بھی خفا ہوں میں کوئی مجھ سے مجھے ملا دیتا جسم سے اپنے لاپتہ ہوں میں ہم پہ الزام کوئی مت رکھنا وہ مرا اس کا ہو گیا ہوں میں میرے نزدیک آ گیا ہے تو تیری آہٹ کو سن رہا ہوں میں جن کی چاہت میں ہو گیا برباد اب وہ کہتے ہیں بے وفا ہوں میں درد سینے ...

مزید پڑھیے

پتا تا زندگی پایا نہ خوشیوں کے ٹھکانے کا

پتا تا زندگی پایا نہ خوشیوں کے ٹھکانے کا یہ جرمانہ لگا ہم پر کسی سے دل لگانے کا ہمارے حوصلوں کی آسماں بھی داد دیتا ہے طواف اب بھی کیا کرتی ہے بجلی آشیانے کا مری آنکھوں میں اپنے گاؤں کے دل کش مناظر ہیں ارادہ کر لیا ہے میں نے بھی گھر لوٹ جانے کا غزل کا پیرہن میں ذہن کے سانچے میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 829 سے 4657