آرزو تجھ سے ترا بوسہ بھی کب مانگے ہے
آرزو تجھ سے ترا بوسہ بھی کب مانگے ہے حرف اقرار بس اک جنبش لب مانگے ہے اس کی چاہت میں عجب دل کی طلب کا عالم درد جتنا بھی زمانے میں ہے سب مانگے ہے ہو سلیقہ جو ذرا ساری تمنا بر آئے حسن پھر حسن ہے اور حسن طلب مانگے ہے بے طلب جان تلک سونپ دی جس کو وہ اب خود سے چاہت کا مری کیا ہے سبب ...