شاعری

یا رب وہ وقت آخری وقت دعا بھی ہو

یا رب وہ وقت آخری وقت دعا بھی ہو توبہ کا میرے واسطے اک در کھلا بھی ہو دل چاہتا ہے مجھ سے ملے بار بار وہ ملنے کا بار بار سبب جانتا بھی ہو ممکن نہیں ہے روز جو ملنا ہمیں نصیب ان سے کبھی کبھار سہی رابطہ بھی ہو اس سے ہی دل لگایا وہی من کا میت ہے اللہ کرے نہ اور کوئی ہم نوا بھی ہو چاہت ...

مزید پڑھیے

رحمتوں سے گھر سجانے ماہ رمضاں آ گیا

رحمتوں سے گھر سجانے ماہ رمضاں آ گیا سیدھے رستے پر چلانے ماہ رمضاں آ گیا اس کی رونق اور بہاریں دیکھتے ہیں چار سو بیکلی اور دکھ مٹانے ماہ رمضاں آ گیا روزے کی برکت کا یارو ماجرا ہی اور ہے خیر کے لے کر خزانے ماہ رمضاں آ گیا گونجتی ہیں ہر طرف قرآن کی ہی آیتیں نیکیوں میں دن بتانے ماہ ...

مزید پڑھیے

دل سے پیغام الفت مٹانے کے بعد

دل سے پیغام الفت مٹانے کے بعد کھو دیا پھر تجھے ہم نے پانے کے بعد وہ سلگتے رہے دل جلانے کے بعد ہم تو پھر ہنس پڑے ٹوٹ جانے کے بعد اب تو رستے بھی اپنے جدا ہو گئے بات بنتی نہیں چوٹ کھانے کے بعد جائیں جائیں ہمیں کچھ نہیں واسطہ دل لگی نہ کریں دل جلانے کے بعد ہم کو اس سے کہاں کوئی ...

مزید پڑھیے

پھر کوئی ہے سلسلہ الزام کا

پھر کوئی ہے سلسلہ الزام کا یہ وطیرہ ہے مرے گلفام کا روز کرتا ہے وہ روشن شام کو اک دیا چھوٹا سا میرے نام کا خوبصورت دل ربا سی شاعری سلسلہ ہے روح تک الہام کا چاہتوں کی بارشیں کرتا ہے وہ خوب واقف ہے وہ اپنے کام کا دل میں اپنے سوچتی ہوں میں کبھی وقت آئے گا مرے آرام کا وہ جنوں خیزی ...

مزید پڑھیے

زندہ ہیں ہم تو آج بھی وہم و گماں کے بیچ

زندہ ہیں ہم تو آج بھی وہم و گماں کے بیچ عمر رواں کٹی مری سود و زیاں کے بیچ ان کے تو قول و فعل میں بے حد تضاد ہے وہ جھوٹ کہتے پھرتے ہیں سارے جہاں کے بیچ دل کو یقیں ہے بھول نہ پائیں گے ہم کو وہ ڈھونڈا کریں گے ہم کو بھی وہ رفتگاں کے بیچ ہم نے تو ساتھ دینے کا وعدہ نہیں کیا محو سفر رہے ...

مزید پڑھیے

دل کا ارماں اپنے اندر ہی چھپا رہ جائے گا

دل کا ارماں اپنے اندر ہی چھپا رہ جائے گا کاتب تقدیر کا آخر لکھا رہ جائے گا محفلوں میں دیکھ کے جو پھیرتا ہے اپنا رخ وہ اکیلے میں مجھے ہی سوچتا رہ جائے گا کہہ رہا تھا مجھ سے میرا دوست پیارا ایک دن تو جو بچھڑا زندگی میں اک خلا رہ جائے گا بن پڑا جب کچھ نہیں تو اس کو یہ کہنا پڑا جس دیے ...

مزید پڑھیے

روز خزاں چمن میں جو دیکھا ہزار کے

روز خزاں چمن میں جو دیکھا ہزار کے اک مشت پر پڑے تھے تلے شاخسار کے یاران ہم نشین و رفیقان دوست دار سب آشنا ہیں زندگئ مستعار کے جب مند گئی یہ آنکھ تو اے دوست بعد مرگ پھٹکے ہے پاس کون کسی کے مزار کے جو نقش پا رہے سو رہے پھر نہ اٹھ سکے واقفؔ کی طرح ہائے گرے کوئے یار کے

مزید پڑھیے

حکم کیا دے کسی کو وہ جس کی (ردیف .. ن)

حکم کیا دے کسی کو وہ جس کی عمر گزری ہے التجاؤں میں دکھ تو اس بات کا ہر اک کو ہے کیوں اثر اب نہیں دعاؤں میں ہے بہت ہی کٹھن وفا کی ڈگر دیکھ چھالے ہیں کتنے پاؤں میں کیا سہیں گے وہ دھوپ کی تیزی پاؤں جلتے ہیں جن کے چھاؤں میں اب نہ وہ سادگی نہ مہر و وفا کس قدر تھا خلوص گاؤں میں کتنی ...

مزید پڑھیے

پانی کو خون خون کو پانی لکھے گا کون

پانی کو خون خون کو پانی لکھے گا کون جب تم نہیں کبیر کی بانی لکھے گا کون بچپن کی من پسند کہانی لکھے گا کون راجہ تھا ایک ایک تھی رانی لکھے گا کون یکتا ہوں اپنے فن میں مگر اے مری غزل ہر شعر میں ہے کیسی روانی لکھے گا کون مرجھا چکے ہیں چہروں کے مانند لفظ بھی سیماؔ جی اب شگفتہ کہانی ...

مزید پڑھیے

ساتھ چھوٹے نہیں اب گوارا مجھے

ساتھ چھوٹے نہیں اب گوارا مجھے چاہے الزام دے جگ یہ سارا مجھے تیری چاہت نے ایسا نکھارا مجھے جھک کے تکنے لگا ہر ستارا مجھے تو نہ ہو پاس میرے تو اے جان جاں کوئی لگتا نہیں تجھ سا پیارا مجھے بے خودی میں چلی آئی تیری طرف تو نے جب جب کیا ہے اشارا مجھے پیار نے تیرے مسحور سا کر دیا تو نے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 781 سے 4657