ملزم ٹھہری میں اپنی سچائی سے
ملزم ٹھہری میں اپنی سچائی سے جھوٹ نے بازی مار لی پائی پائی سے حق تلفی بھی خاموشی سے سہہ جائیں فیصلہ کرنا مشکل ہے دانائی سے اس کو سوچتے رہنا اچھا لگتا ہے کیسا ناطہ جڑ گیا اس ہرجائی سے بدلے میں وہ سانسیں گروی رکھ لے گا بچ کے رہنا آج کے حاتم طائی سے کوئی مجھ میں رہتا ہے مجھ سے چھپ ...