شاعری

ملزم ٹھہری میں اپنی سچائی سے

ملزم ٹھہری میں اپنی سچائی سے جھوٹ نے بازی مار لی پائی پائی سے حق تلفی بھی خاموشی سے سہہ جائیں فیصلہ کرنا مشکل ہے دانائی سے اس کو سوچتے رہنا اچھا لگتا ہے کیسا ناطہ جڑ گیا اس ہرجائی سے بدلے میں وہ سانسیں گروی رکھ لے گا بچ کے رہنا آج کے حاتم طائی سے کوئی مجھ میں رہتا ہے مجھ سے چھپ ...

مزید پڑھیے

مضطرب ہیں سبھی تقدیر بدلنے کے لیے

مضطرب ہیں سبھی تقدیر بدلنے کے لیے کوئی آمادہ ہو شعلوں پہ بھی چلنے کے لیے آج کے دور میں جینا کوئی آسان نہیں وقت ملتا ہے کہاں گر کے سنبھلنے کے لیے زندگی ہم کو قضا سے تو ڈراتی کیوں ہے ہم تو ہر وقت ہی تیار ہیں چلنے کے لیے راز کیوں سارے زمانے پہ عیاں کرتے ہو آنسوؤ ضد نہ کرو گھر سے ...

مزید پڑھیے

تمہاری یاد تو لپٹی ہے پورے گھر کے منظر سے

تمہاری یاد تو لپٹی ہے پورے گھر کے منظر سے دریچے سے زمیں سے بام سے دیوار سے در سے مجھے تو کوچۂ محبوب کا پتھر بھی پیارا ہے نگیں سے لعل سے الماس سے نیلم سے گوہر سے مقدر کی شب ظلمت کبھی روشن نہیں ہوتی دئے سے ماہ سے قندیل سے جگنو سے اختر سے تمہاری آنکھ کی گہرائیوں کا کیا تقابل ہو ندی ...

مزید پڑھیے

ایک سورج کو سرخ رو کر کے

ایک سورج کو سرخ رو کر کے لوٹ آئی ہوں اس کو چھو کر کے بے غرض آج تک ملا نہ کوئی تھک گئی میں بھی جستجو کر کے زہر کا جام ہی پلائیں گے لوگ میٹھی سی گفتگو کر کے مجھ پہ انگلی اٹھائیے لیکن آئنہ اپنے رو بہ رو کر کے تیری یادیں مری عبادت ہیں سوچتی ہوں تجھے وضو کر کے تیری جانب چلے ہیں ...

مزید پڑھیے

یہ تیرا اختیار کری دشمنی پسند

یہ تیرا اختیار کری دشمنی پسند مجھ کو تو میرے یار تری دوستی پسند لکھتی ہوں میں کہانیاں افسانے تبصرے لیکن ہے میرے دل کو بہت شاعری پسند غم کو تو اشتہار بناتی نہیں ہوں میں ہاں ہنستی گاتی مجھ کو تو ہے زندگی پسند مکر و فریب جھوٹ سے رہتی میں دور ہوں اس کو بھی میرے دل کی یہی سادگی ...

مزید پڑھیے

بے وفا تم کو بھلانے میں تکلف کیسا

بے وفا تم کو بھلانے میں تکلف کیسا آئنہ سچ کا دکھانے میں تکلف کیسا تیرگی گھر کی مٹانے میں تکلف کیسا دیپ چھوٹا سا جلانے میں تکلف کیسا پیار کا گیت سنانے میں تکلف کیسا ہاں پسند اپنی بتانے میں تکلف کیسا وہ اداسی کے سمندر میں اکیلا ہے بہت حوصلہ دینے دلانے میں تکلف کیسا اپنے گلشن ...

مزید پڑھیے

وفا کا یہ رشتہ سدا ہی رہے گا

وفا کا یہ رشتہ سدا ہی رہے گا کسی کے بھی روکے سے یہ کب رکے گا جو چاہو زمانے کو اپنا بنانا وفا کی ہی راہوں پہ چلنا پڑے گا وہ ملتا تھا مجھ سے تو کہتا تھا اکثر مجھے چھوڑ کے پر سکوں کب رہے گا یہ قدرت کا دستور ہے سیدھا سادہ اچھالو گے پتھر تو سر پہ گرے گا فریبوں پہ تیرے کیا ہے ...

مزید پڑھیے

دل نے جب سے یہ چوٹ کھائی ہے

دل نے جب سے یہ چوٹ کھائی ہے زندگی خاک میں نہائی ہے جب بھی اپنی اسے سنائی ہے اس نے تو بس ہنسی اڑائی ہے خوشیوں کے پھول کھل اٹھے من میں رت ملن کی بہار لائی ہے میں جسے چاہ کے مٹا نہ سکوں دل میں خواہش عجب سمائی ہے بھیگی رہتی ہیں اب مری آنکھیں درد کی ان دنوں رسائی ہے ایسے ملنا بھی ...

مزید پڑھیے

آنکھ میں اس کی دمکتے ہیں ستاروں کے ہجوم

آنکھ میں اس کی دمکتے ہیں ستاروں کے ہجوم اس کو بھاتے ہی نہیں درد کے ماروں کے ہجوم راہ الفت میں ملے ہم کو خساروں کے ہجوم دل دکھاتے ہوئے دیکھے سبھی پیاروں کے ہجوم اس نے جادو سا نگاہوں کو عجب بخشا ہے اب تو رہتے ہیں سدا ان میں بہاروں کے ہجوم ایک چہرہ کہ رہا یاد ہمیشہ ہم کو ہونے کو ...

مزید پڑھیے

لگن زندگی کی جگانی پڑے گی

لگن زندگی کی جگانی پڑے گی خوشی سب کی خاطر منانی پڑے گی گھرانے کی عزت بچانی پڑے گی ہنسی تو لبوں پر سجانی پڑے گی ابھی مل گئے ہم کبھی یہ بھی ہوگا کہ رسم جدائی نبھانی پڑے گی تجھے کھو کے جینا بھی کیا زندگی ہے مگر زندگی یوں بتانی پڑے گی تیرا شیوہ چلتی ہواؤں سے لڑنا ہر اک بات تجھ سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 780 سے 4657