شاعری

حسرت یہی دل میں لے چلے ہم

حسرت یہی دل میں لے چلے ہم تجھ کو نہ لگا سکے گلے ہم نکلے ہیں وطن سے منہ اندھیرے معلوم نہیں کہاں چلے ہم ہر حال رہے تجھی سے منسوب اے دوست برے تھے یا بھلے ہم حائل تھے جو اپنے راستے میں طے کر نہ سکے وہ مرحلہ ہم شفقتؔ بہ ہجوم یاس و حرماں دیکھا کیے دل کے حوصلہ ہم

مزید پڑھیے

برسی ہیں وہ آنکھیں کہ نہ بادل کبھی برسے

برسی ہیں وہ آنکھیں کہ نہ بادل کبھی برسے اندازۂ غم کیا ہو مگر دیدۂ تر سے وہ چارہ گری تھی کہ عزیزوں کی دعائیں لوٹ آئی ہیں ماتم کے لیے باب اثر سے اک جبر مسلسل ہے عناصر کی کہانی مختار کہے جاتے تھے جب نکلے تھے گھر سے شاید کوئی منزل نہیں اس راہ میں پڑتی واپس نہیں آتا کوئی یادوں کے سفر ...

مزید پڑھیے

ہمارے پاس تھا جو کچھ لٹا کے بیٹھ رہے

ہمارے پاس تھا جو کچھ لٹا کے بیٹھ رہے دیار دل میں قیامت اٹھا کے بیٹھ رہے وہاں جہاں پر اندھیروں کا کارواں اترا کسی امید پہ شمعیں جلا کے بیٹھ رہے تمہارے ہجر میں جو کچھ گزر گئی گزری تمہارے وصل میں ہم گھر جلا کے بیٹھ رہے کہاں کے دار و رسن اور کیا شہید وفا یہ کاروبار بھی کل پھر اٹھا ...

مزید پڑھیے

تصویر اضطراب سراپا بنا ہوا

تصویر اضطراب سراپا بنا ہوا پھرتا ہوں شہر شہر انہیں ڈھونڈھتا ہوا اک درد اور وہ بھی کسی کا دیا ہوا اتنا بڑھا کہ آپ ہی اپنی دوا ہوا مل کر بچھڑ گیا تھا کوئی جس مقام پر اب تک اسی مقام پہ ہوں چپ کھڑا ہوا جیسے اسے خبر تھی مرے حال زار کی گزرا وہ اس ادا سے مجھے دیکھتا ہوا جن حادثات دہر ...

مزید پڑھیے

ہر گھڑی کرب مسلسل میں کٹی جاتی ہے

ہر گھڑی کرب مسلسل میں کٹی جاتی ہے زندگی اپنے گناہوں کی سزا پاتی ہے یاد آؤں کہ نہ آؤں مری قسمت لیکن ان سے امید ملاقات چلی جاتی ہے یوں مرے بعد ہے دنیا پہ اداسی طاری جیسے دنیا مرے حالات کا غم کھاتی ہے جب بھی آتا ہے تصور ترے انسانوں کا ایک فریاد مرے منہ سے نکل جاتی ہے خوش رہو دشت ...

مزید پڑھیے

جو بایں غم بھی شادماں گزری

جو بایں غم بھی شادماں گزری جانے وہ زندگی کہاں گزری دل سے اندیشۂ خزاں نہ گیا گو بہاروں کے درمیاں گزری جتنی مدت میں ان سے دور رہا اتنی مدت بلائے جاں گزری یاد رکھیں گے آسماں والے مجھ پہ جو زیر آسماں گزری تھی مرے ان کے درمیاں جو بات وہ زمانے پہ کیوں گراں گزری کس کو معلوم تلخیاں ...

مزید پڑھیے

نا مہرباں اگرچہ کسی کی نظر نہ تھی

نا مہرباں اگرچہ کسی کی نظر نہ تھی یہ اور بات ہے کہ مرے حال پر نہ تھی وو شام بے چراغ مقدر ہوئی مجھے جو آشنائے جلوۂ روئے سحر نہ تھی بھٹکے ہوئے تھے جادۂ راہ وفا سے ہم جب تک کسی کی یاد شریک سفر نہ تھی تجھ کو مری نگاہ نے ڈھونڈا ہے بارہا اس رہ گزر پہ بھی جو تری رہ گزر نہ تھی محفل میں ...

مزید پڑھیے

تیرے ہر جور پہ یاں شکر خدا ہے اے دوست

تیرے ہر جور پہ یاں شکر خدا ہے اے دوست کہ یہی مسلک ارباب وفا ہے اے دوست ہم کو اس عہد وفا سے تھیں امیدیں کتنی تجھ کو جو عہد وفا بھول چکا ہے اے دوست تیری جانب سے نہ لائی کوئی پیغام کبھی میری فریاد بھی صحرا کی صدا ہے اے دوست تیرے آنے کی دوبارہ جو کوئی آس نہیں کتنی سنسان مرے دل کی فضا ...

مزید پڑھیے

بس وہی لوگ دل کو بھاتے ہیں

بس وہی لوگ دل کو بھاتے ہیں جو کہ چین و سکوں چراتے ہیں مشکلوں میں بھی مسکراتے ہیں ہم نہ آنسو کبھی بہاتے ہیں ان سے اپنے بہت سے ناطے ہیں آج جو انگلیاں اٹھاتے ہیں وہ بھی چلتے ہیں میرے رستے پر جو کہ باتیں بڑی بناتے ہیں یاد آتی ہے ان کی چپکے سے آنکھ میں تارے جھلملاتے ہیں یہ ہی اپنی ...

مزید پڑھیے

میرے تو گھر میں رہتے ہیں موسم کمال کے

میرے تو گھر میں رہتے ہیں موسم کمال کے اللہ کرے نہ آئیں کبھی دن زوال کے اتنا بڑا کیا ہے اسی نے تو پال کے آنے نہ دے جو پاس مرے دن ملال کے اک یاد تیری ساتھ تھی اب وہ بھی ڈھل گئی قصے پرانے ہو گئے میرے گلال کے دل کو بہت سکون اسے دیکھ کے ملا خوش باش ہیں وہ خوب مجھے بھول بھال کے دنیا کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 779 سے 4657