شاعری

لوگوں میں دیکھ بھال کی عادت نہیں رہی

لوگوں میں دیکھ بھال کی عادت نہیں رہی یا آئنوں کی شہر میں قیمت نہیں رہی مانا کوئی نباہ کی صورت نہیں رہی لیکن نہیں کہ تجھ سے محبت نہیں رہی یوں بھی رہائی کا کوئی امکاں نہیں رہا پہلی سی آرزو میں بھی شدت نہیں رہی ورنہ کوئی تو آتا مرا حال پوچھنے شاید کسی کو میری ضرورت نہیں رہی اس کا ...

مزید پڑھیے

ہے مرا رنگ سخن رنگ بیاں کچھ مختلف

ہے مرا رنگ سخن رنگ بیاں کچھ مختلف یہ نشاط دلبری طرز فغاں کچھ مختلف دیکھیے کس راہ پر چلتا رہا ہے کارواں ہیں ہمارے راستوں پر یہ نشاں کچھ مختلف جو ہمارے ذکر کو ہم سے بھی پوشیدہ رکھے اب ہمیں بھی چاہئے اک راز داں کچھ مختلف ایک انجانی سی چپ ہے چار سو پھیلی ہوئی چاہئے اے مہرباں! اک ہم ...

مزید پڑھیے

وہ کہتا تھا کہ تم میرا سہارا بن ہی جاؤ گی

وہ کہتا تھا کہ تم میرا سہارا بن ہی جاؤ گی طلب کے آسماں کا اک ستارہ بن ہی جاؤ گی وہ کہتا تھا کہ تم ہم ڈوبنے والوں پہ رو رو کر کسی پر شور دریا کا کنارہ بن ہی جاؤ گی وہ کہتا تھا کہ خود کو خاک کہنا چھوڑ دو اب تم کسی دن دیکھ لینا تم شرارہ بن ہی جاؤ گی وہ کہتا تھا کہ میں ٹوٹا تو پھر جڑنے ...

مزید پڑھیے

نہ بادبان نہ کشتی سے پیار کرنا ہے

نہ بادبان نہ کشتی سے پیار کرنا ہے ہمیں تو ڈوب کے دریا کو پار کرنا ہے ہمارا کام تمہیں راحتیں بہم کرنا تمہارا شغل ہمیں بے قرار کرنا ہے تمہارے دل سے جو نکلی ہے اعتماد کی بات یہ بات ہے تو ہمیں اعتبار کرنا ہے بہت کٹھن ہیں جدائی کے مرحلے سارے دل حزیں کو مگر انتظار کرنا ہے تخیلات کو ...

مزید پڑھیے

کل عالم خیال میں دیکھا ہوا کا رقص

کل عالم خیال میں دیکھا ہوا کا رقص برگ چمن کے ساز پہ باد صبا کا رقص ہر سمت بازگشت مری گونجتی رہی کہسار دیکھتے رہے میری صدا کا رقص سن دھڑکنوں کی تال پہ ہوتا ہے کس طرح احساس کے قفس میں دل بے نوا کا رقص قرنوں پہ ہے محیط غم ذات و کائنات صدیوں سے ہو رہا ہے یہ حرف وفا کا رقص دل میں ...

مزید پڑھیے

ہوا کے حوصلے زنجیر کرنا چاہتا ہے

ہوا کے حوصلے زنجیر کرنا چاہتا ہے وہ میری خواہشیں تصویر کرنا چاہتا ہے نظر جس سے چرا کر میں گزرنا چاہتی ہوں وہ موسم ہی مجھے تسخیر کرنا چاہتا ہے وصال دید کو آنکھیں چھپانا چاہتی ہیں مگر دل واقعہ تحریر کرنا چاہتا ہے مزاج باد و باراں آشنا ہے شوق لیکن نئے دیوار و در تعمیر کرنا چاہتا ...

مزید پڑھیے

رہا کرنا نہیں ان کو انہیں آباد رکھنا ہے

رہا کرنا نہیں ان کو انہیں آباد رکھنا ہے سنہری خواہشوں کو قید میں دل شاد رکھنا ہے وہ دن بھی یاد رکھنا ہے ابھی جو کل ہی بیتا ہے جو اب ماضی کا حصہ ہے ہمیشہ یاد رکھنا ہے خدا خود بستیوں کے فیصلے کرتا ہے حکمت سے کسے آباد رکھنا ہے کسے برباد رکھنا ہے بہت سے لوگ آئیں گے تمہاری زندگانی ...

مزید پڑھیے

نئے دکھوں نئی خوشیوں کی رہ گزار میں ہوں

نئے دکھوں نئی خوشیوں کی رہ گزار میں ہوں ابھی قیام کہاں ہو کہ خار زار میں ہوں وہ مجھ کو جلتا ہوا چھوڑ دے کہ گل کر دے میں اک چراغ ہوں جھونکے کے اختیار میں ہوں میں ان کے ساتھ بڑی بے دلی سے اڑتی ہوں کہ اک پرندہ ہوں اور دوسری قطار میں ہوں وہ جان بوجھ کے لمحوں کو طول دے دے گا جو جانتا ...

مزید پڑھیے

جگنو چاند ستارے لے کر آئی ہوں

جگنو چاند ستارے لے کر آئی ہوں تحفے کتنے پیارے لے کر آئی ہوں ان سنسان فضاؤں کی خاموشی میں میں آواز کے دھارے لے کر آئی ہوں ظلمت شب میں کچھ تو ہو امید سحر اشکوں کے کچھ تارے لے کر آئی ہوں دیکھ بیاض شعر میں کتنی خوشبو ہے پھول میں کتنے سارے لے کر آئی ہوں شاہدہؔ ان تاریک فضاؤں کی ...

مزید پڑھیے

ایک مدت دھڑکتا رہا میرا دل

ایک مدت دھڑکتا رہا میرا دل آپ کی راہ تکتا رہا میرا دل اک کلی سی کھلی تھی تمناؤں کی ایک عرصہ مہکتا رہا میرا دل شہر حیران ہیں میری روداد پر دشت میں کیوں بھٹکتا رہا میرا دل اتنی کانٹوں بھری رہ گزر تھی مری ہر قدم پر اٹکتا رہا میرا دل اذن اظہار مل بھی گیا تھا مگر کس لیے پھر جھجکتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 741 سے 4657