شاعری

تری تھکی ہوئی آنکھوں میں خواب تھا کہ نہیں

تری تھکی ہوئی آنکھوں میں خواب تھا کہ نہیں مرے سوال کا کوئی جواب تھا کہ نہیں اٹھا کے صرف ببولوں کے خار لے آئے چمن چمن کہیں تازہ گلاب تھا کہ نہیں بڑے سکوں سے رہے موم کے بدن والے تمہارا شہر تہ آفتاب تھا کہ نہیں ہر ایک شخص وہاں گن رہا تھا لہروں کو گزرتے لمحوں کا کوئی حساب تھا کہ ...

مزید پڑھیے

روشن ہر ایک سمت چراغ نظر تو ہو

روشن ہر ایک سمت چراغ نظر تو ہو حکم سفر سے پہلے حساب سفر تو ہو اس شہر کا سکوت کبھی ٹوٹتا نہیں چیخوں تو میری چیخ میں کوئی اثر تو ہو میں تو سیاہ رات کے زنداں میں ہوں اسیر سایہ مرا کہاں ہے مجھے کچھ خبر تو ہو پانی کا یہ بہاؤ ندی کی شناخت ہے اب میرے برف برف بدن میں شرر تو ہو فصل بہار ...

مزید پڑھیے

کورے کاغذ پہ مرا نقش اتارے کوئی

کورے کاغذ پہ مرا نقش اتارے کوئی ایک مبہم سا میں خاکہ ہوں ابھارے کوئی ناخدا بھی تو مرے کام یہاں آ نہ سکا اور پار اترا ہے لہروں کے سہارے کوئی ایک مدت سے خموشی ہی خموشی ہے وہاں چپ کے صحرا میں مرا نام پکارے کوئی اس جہاں میں تو سبھی دست نگر ہیں شاہدؔ سامنے کس کے یہاں ہاتھ پسارے ...

مزید پڑھیے

سیاہ صفحۂ ہستی پہ میں ابھر نہ سکا

سیاہ صفحۂ ہستی پہ میں ابھر نہ سکا مری شبیہ میں کوئی بھی رنگ بھر نہ سکا ہر ایک راہ تھی مسدود کوہساروں میں بلندیوں سے کسی طرح میں اتر نہ سکا برے دنوں کا میں اک خوفناک منظر ہوں مجھے کبھی بھی کوئی شخص یاد کر نہ سکا نکیلے خار تھے شیشے تھے سنگ ریزے تھے رہ حیات سے بے داغ میں گزر نہ ...

مزید پڑھیے

اندھیرے گھر میں چراغوں سے کچھ نہ کام لیا

اندھیرے گھر میں چراغوں سے کچھ نہ کام لیا کہ اپنے آپ سے یوں ہم نے انتقام لیا تمہارے شہر سے سوغات اور کیا ملتی کسی سے پیاس لی میں نے کسی سے جام لیا مرے زوال کی وہ ساعتیں رہی ہوں گی تمہیں پکار کے دامن کسی کا تھام لیا شجر شجر مری پرواز تھی ہوا کی طرح کھلی فضا میں مجھے کس نے زیر دام ...

مزید پڑھیے

کسی سے ہاتھ کسی سے نظر ملاتے ہوئے

کسی سے ہاتھ کسی سے نظر ملاتے ہوئے میں بجھ رہی ہوں روا داریاں نبھاتے ہوئے کسی کو میرے دکھوں کی خبر بھی کیسے ہو کہ میں ہر ایک سے ملتی ہوں مسکراتے ہوئے عجیب خوف ہے اندر کی خامشی کا مجھے کہ راستوں سے گزرتی ہوں گنگناتے ہوئے کہاں تک اور میں سمٹوں کہ عمر بیت گئی دل و نظر کے تقاضوں سے ...

مزید پڑھیے

طاق جاں میں تیرے ہجر کے روگ سنبھال دیے

طاق جاں میں تیرے ہجر کے روگ سنبھال دیے اس کے بعد جو غم آئے پھر ہنس کے ٹال دیے کب تک آڑ بنائے رکھتی اپنے ہاتھوں کو کب تک جلتے تیز ہواؤں میں بے حال دیے وہی مقابل بھی تھا میرا سنگ راہ بھی تھا جس پتھر کو میں نے اپنے خد و خال دیے زرد رتوں کی گرد نے حال چھپایا تھا گھر کا اک بارش نے ...

مزید پڑھیے

غیر لگتا رہا سگا بھی کچھ

غیر لگتا رہا سگا بھی کچھ کوئی اپنا مگر ہوا بھی کچھ اے مرے دل میں عمر بھر تیری صرف سنتا رہا کہا بھی کچھ انکساری ادب محبت بھی مجھ میں سب ہے تو ہے انا بھی کچھ اپنی تقدیر کے لکھے کو سب بس مٹاتے رہے مٹا بھی کچھ کچھ گنہ گار تو میں ہوں لیکن ہے مخالف مرے ہوا بھی کچھ ایک ذرہ بھی اے مرے ...

مزید پڑھیے

ہم سفر زیست کا سورج کو بنائے رکھا

ہم سفر زیست کا سورج کو بنائے رکھا اپنے سائے سے ہی قد اپنا بڑھائے رکھا شعلۂ یاد کو لپٹائے رکھا دامن سے اس بہانے سے تجھے اپنا بنائے رکھا لوگ آنکھوں سے ہی اندازۂ غم کرتے ہیں ہم نے آنکھوں میں ترا وصل سجائے رکھا اک یہی تو مرا ہم راز تھا تنہائی کا درد کو دل کی حویلی میں چھپائے ...

مزید پڑھیے

کبھی جو معرکہ خوابوں سے رت جگوں کا ہوا

کبھی جو معرکہ خوابوں سے رت جگوں کا ہوا عجیب سلسلہ آنکھوں سے آنسوؤں کا ہوا جلا کے چھوڑ گیا تھا جو طاق دل میں کبھی کسی نے پوچھا نہ کیا حال ان دیوں کا ہوا لکھا گیا ہے مرا نام دشمنوں میں سدا شمار جب بھی کبھی میرے دوستوں کا ہوا مذاق اڑاتے تھے آندھی سے پہلے سب میرا جو میرے گھر کا تھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 740 سے 4657