تری تھکی ہوئی آنکھوں میں خواب تھا کہ نہیں
تری تھکی ہوئی آنکھوں میں خواب تھا کہ نہیں مرے سوال کا کوئی جواب تھا کہ نہیں اٹھا کے صرف ببولوں کے خار لے آئے چمن چمن کہیں تازہ گلاب تھا کہ نہیں بڑے سکوں سے رہے موم کے بدن والے تمہارا شہر تہ آفتاب تھا کہ نہیں ہر ایک شخص وہاں گن رہا تھا لہروں کو گزرتے لمحوں کا کوئی حساب تھا کہ ...