جنون عشق کی آمادگی نے کچھ نہ دیا
جنون عشق کی آمادگی نے کچھ نہ دیا یہاں بھی زیست کی افتادگی نے کچھ نہ دیا لہو کی موج سے بام خیال روشن ہے دمکتے چاند کی استادگی نے کچھ نہ دیا یہ لب تمہارے نہیں کر سکے مسیحائی انہیں بھی وقفۂ واماندگی نے کچھ نہ دیا سمیٹ لائے تھے جتنے بھی خواب تھے لیکن حضور دوست بھی دیوانگی نے کچھ ...