شاعری

جنون عشق کی آمادگی نے کچھ نہ دیا

جنون عشق کی آمادگی نے کچھ نہ دیا یہاں بھی زیست کی افتادگی نے کچھ نہ دیا لہو کی موج سے بام خیال روشن ہے دمکتے چاند کی استادگی نے کچھ نہ دیا یہ لب تمہارے نہیں کر سکے مسیحائی انہیں بھی وقفۂ واماندگی نے کچھ نہ دیا سمیٹ لائے تھے جتنے بھی خواب تھے لیکن حضور دوست بھی دیوانگی نے کچھ ...

مزید پڑھیے

کچھ بھی ہو تقدیر کا لکھا بدل

کچھ بھی ہو تقدیر کا لکھا بدل چاہئے تجھ کو کہ اب رستا بدل بعد میں مجھ کو دکھانا آئنہ پہلے اپنا جا کے تو چہرہ بدل آگہی کا جس میں اک روزن نہ ہو اس مکان ذات کا نقشہ بدل میری وحشت ہے سوا اس سے کہیں بارہا اس سے کہا صحرا بدل نعمتیں دنیا کی سب مل جاتی ہیں ماں نہیں ملتا مگر تیرا بدل پھر ...

مزید پڑھیے

اٹھائے گا کب تو حجابات ساقی

اٹھائے گا کب تو حجابات ساقی گرفتار مشکل میں ہے ذات ساقی یہ محصور کس دائرے میں ہوئی ہوں نہ دن ہی مرا نہ مری رات ساقی اگر مل گئے ہو تو رک جاؤ دو پل نہ جانے ہو پھر کب ملاقات ساقی یہاں ہوش والوں کا جینا ہے مشکل تو لے چل ہمیں پھر خرابات ساقی ترا مے کدہ تیرے پیالے صبوحی کرے کوئی کیسے ...

مزید پڑھیے

جان آنکھوں میں رہی جی سے گزرنے نہ دیا

جان آنکھوں میں رہی جی سے گزرنے نہ دیا اچھی دیدار کی حسرت تھی کہ مرنے نہ دیا مدتوں کشمکش یاس و تمنا میں رہے غم نے جینے نہ دیا شوق نے مرنے نہ دیا نا خدا نے مجھے دلدل میں پھنسائے رکھا ڈوب مرنے نہ دیا پار اترنے نہ دیا

مزید پڑھیے

جان آنکھوں میں رہی جی سے گزرنے نہ دیا

جان آنکھوں میں رہی جی سے گزرنے نہ دیا اچھی دیدار کی حسرت تھی کہ مرنے نہ دیا کیا قیامت ہے ستم گار بھری محفل میں دل چرا کر تری دزدیدہ نظر نے نہ دیا مدتوں کش مکش یاس و تمنا میں رہے غم نے جینے نہ دیا شوق نے مرنے نہ دیا ناخدا نے مجھے دلدل میں پھنسائے رکھا ڈوب مرنے نہ دیا پار اترنے نہ ...

مزید پڑھیے

موت آتی نہیں قرینے کی

موت آتی نہیں قرینے کی یہ سزا مل رہی ہے جینے کی مے سے پرہیز شیخ توبہ کرو اک یہی چیز تو ہے پینے کی تمہیں کہتا ہے آئنہ خودبیں باتیں سنتے ہو اس کمینے کی ہو گیا جب سے بے نقاب کوئی شمع روشن نہ پھر کسی نے کی چشم تر آبرو تو پیدا کر یوں نہیں بجھتی آگ سینے کی اہل دنیا سے کیا بدی کا گلا اے ...

مزید پڑھیے

کیسی وارفتگی سے دیکھے ہے

کیسی وارفتگی سے دیکھے ہے آدمی آدمی کو دیکھے ہے جاگ جائے ہے حسرت دیدار جب بھی کوئی کسی کو دیکھے ہے اتنا سادہ تو وہ نہیں لگتا جس قدر سادگی سے دیکھے ہے اس کو فرصت سے دیکھتی ہوں میں وہ جو کم فرصتی سے دیکھے ہے تیرے چہرے پہ کیا نظر جائے دل تری کج روی کو دیکھے ہے کیوں نہ جلووں کی دل ...

مزید پڑھیے

یہاں پہ جو ہے وہ مذہب شکار ہے ہاں ہے

یہاں پہ جو ہے وہ مذہب شکار ہے ہاں ہے خدا دلوں پہ دماغوں پہ بار ہے ہاں ہے تمام مفتی و واعظ خدا کو بیچتے ہیں تو کیا خدا بھی کوئی کاروبار ہے ہاں ہے ہر ایک چیز میں تم عیب دیکھتے ہو نہیں تمہارا لہجہ شکایت گزار ہے ہاں ہے سبھی کو خبط خود آرائی و نمائش ہے سبھی کے ذہن پہ عورت سوار ہے ہاں ...

مزید پڑھیے

سلگتی نیند کے گرداب سے نکل آیا

سلگتی نیند کے گرداب سے نکل آیا میں آج یعنی کسی خواب سے نکل آیا وہاں بھی کوئی نہیں تھا خراب حالوں کا میں ہو کے منبر و محراب سے نکل آیا عطائے شان کریمی عجیب ہوتی ہے کنارا خود ہی تہہ آب سے نکل آیا ہزار صدیوں پہ بھاری تھا ایک لمحۂ لمس وہ رات جب حد آداب سے نکل آیا وہ دیکھ موت کے ساحل ...

مزید پڑھیے

کون تھا جو گونگے لفظوں کو معانی دے گیا

کون تھا جو گونگے لفظوں کو معانی دے گیا برف کی جھیلوں کو انداز روانی دے گیا ایک جھونکا تھا مرے دل کے خراب آباد میں ننگی دیواروں کو تصویریں پرانی دے گیا داستانوں کا کوئی کردار ہے یہ زندگی جو بھی آیا وہ ہمیں تازہ کہانی دے گیا میں انا کے گنبد دل کش میں ٹھہرا بھی نہ تھا کوئی چپکے سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 677 سے 4657