شاعری

رات کے وقت کوئی گیت سناتی ہے ہوا

رات کے وقت کوئی گیت سناتی ہے ہوا شاخ در شاخ بھلا کس کو بلاتی ہے ہوا سرد رات اپنی نہیں کٹتی کبھی تیرے بغیر ایسے موسم میں تو اور آگ لگاتی ہے ہوا ایک مانوس سی خوشبو سے مہکتی ہے فضا جب تو آتا ہے بہت شور مچاتی ہے ہوا کن گزر گاہوں کے ہیں گرد و غبار آنکھوں میں روز پت جھڑ کے ہمیں خواب ...

مزید پڑھیے

اپنے پرکھوں کی روایات سے ہٹتا ہوا میں

اپنے پرکھوں کی روایات سے ہٹتا ہوا میں زندگی تیرے سبھی رنگوں سے کٹتا ہوا میں حد ادراک سے آگے ہے رسائی لیکن اپنے اندر کسی مرکز پہ سمٹتا ہوا میں ہے محبت خس و خاشاک ملاقات کا نام آگ بن کے کسی پیکر سے لپٹتا ہوا میں کیسے لا یعنی ارادوں کی چبھن ہے مجھ میں کیسی آوازوں پہ ہر لمحہ پلٹتا ...

مزید پڑھیے

اس چاند کو ہم نے ترا چہرہ نہیں لکھا

اس چاند کو ہم نے ترا چہرہ نہیں لکھا دنیا کی کسی چیز کو تجھ سا نہیں لکھا زلفوں کو تری رات سے تشبیہ نہیں دی آنکھوں کو کبھی ساغر و مینا نہیں لکھا دل کو نہ دکھایا کسی صحرا سے مماثل اشکوں کی روانی کو بھی دریا نہیں لکھا کس بات پہ برہم ہو زمانے کے خداؤ ہم نے کبھی اپنا بھی قصیدہ نہیں ...

مزید پڑھیے

سانس کی آنچ میں ہر لمحہ جھلستے ہوئے لوگ

سانس کی آنچ میں ہر لمحہ جھلستے ہوئے لوگ خواب کے نام پہ جینے کو نکلتے ہوئے لوگ اگلے وقتوں میں جو جینے کا سبب ہوتے تھے ہو گئے خواب وہ سینوں میں دھڑکتے ہوئے لوگ اعتبار اتنا بھی اس عہد کے لوگوں پہ نہ کر یہ ہیں موسم کی طرح روز بدلتے ہوئے لوگ خوب صورت تو ہے دنیا مگر آفت یہ ہے خاک ہو ...

مزید پڑھیے

کیا ہمارے شوق بھی وہ کج ادا لے جائے گا

کیا ہمارے شوق بھی وہ کج ادا لے جائے گا ہم بھی جائیں گے جہاں اب راستہ لے جائے گا یوں ہوا کہ سب عقائد رد کر بیٹھا ہوں میں دیکھنا ہے اب کہاں شوق خدا لے جائے گا بوسہ لے کر میرے ماتھے کا کسی نے یہ کہا تو جہاں بھی جائے گا میرے حوالے جائے گا تیری نادانی یہ تیرا زعم ہے تو یاد رکھ ایک ہی ...

مزید پڑھیے

سوچئے گر اسے ہر نفس موت ہے کچھ مداوا بھی ہو بے حسی کے لیے

سوچئے گر اسے ہر نفس موت ہے کچھ مداوا بھی ہو بے حسی کے لیے سورجوں کی وراثت ملی تھی ہمیں در بدر ہو گئے روشنی کے لیے کوئی آواز ہے وہ کوئی ساز ہے اس سے ہی رنگ و نکہت کا در باز ہے جس طرف ہو نظر وہ رہے جلوہ گر کیسے سوچیں گے ہم پھر کسی کے لیے بد دماغی مری ہے وہی جو کہ تھی طرز خود بیں تمہارا ...

مزید پڑھیے

سچ کی آواز کا سولی پہ بھی رد ہے حد ہے

سچ کی آواز کا سولی پہ بھی رد ہے حد ہے تم اگر جھوٹ بھی بولو تو سند ہے حد ہے تم تو سورج تھے پہ حیرت ہے مجھے وقت زوال اک دیے سے تمہیں اس درجہ حسد ہے حد ہے میں کہ مسجود ملائک تھا کبھی داور حشر میرے اعمال پر ان سے ہی مدد ہے حد ہے ہم تو بربادی کا سامان کئے بیٹھے تھے مسلک عشق و وفا میں ...

مزید پڑھیے

دنیا اپنی موت جلد از جلد مر جانے کو ہے

دنیا اپنی موت جلد از جلد مر جانے کو ہے اب یہ ڈھانچہ ایسا لگتا ہے بکھر جانے کو ہے عین اس دم نیشتر لے آتی ہیں یادیں تری زخم تنہائی کا لگتا ہے کہ بھر جانے کو ہے جانے والے اور کچھ دن سوگ کرنا ہے ترا ذہن و دل سے پھر یہ نشہ بھی اتر جانے کو ہے وقت رخصت بد گمانی تیری ایسا گھاؤ تھی رفتہ ...

مزید پڑھیے

نہ پوچھ میری کہانی کہاں سے نکلی ہے

نہ پوچھ میری کہانی کہاں سے نکلی ہے یہ داستاں بھی تری داستاں سے نکلی ہے جگر کو چیر لیا شوق میں چٹانوں نے صدائے عشق جب آب رواں سے نکلی ہے سبھی پہ خوف مسلط تھا ناخداؤں کا جو بات حق تھی ہماری زباں سے نکلی ہے چھوا ہے تجھ کو تو میرا سلگ اٹھا ہے بدن یہ کیسی آنچ ترے جسم و جاں سے نکلی ...

مزید پڑھیے

بھرنے لگتا ہے کوئی زخم تو جب پوچھتے ہیں

بھرنے لگتا ہے کوئی زخم تو جب پوچھتے ہیں لوگ یوں تجھ سے بچھڑنے کا سبب پوچھتے ہیں کیا تمسخر ہے بلندی بھی کہ اب حال اپنا پہلے جن لوگوں نے پوچھا نہیں اب پوچھتے ہیں اپنا پیکر نہیں پہچان بدل کر آؤ یہ وہ محفل ہے جہاں نام و نسب پوچھتے ہیں حسن والوں کی ادا ہے کہ جفا ہے کیا ہے ہجر زادوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 678 سے 4657