کب شوق مرا جذبے سے باہر نہ ہوا تھا
کب شوق مرا جذبے سے باہر نہ ہوا تھا تھا کون سا قطرہ جو سمندر نہ ہوا تھا کیا یاد تری دل کو مرے کر گئی تاریک اک گوشہ بھی تو اس کا منور نہ ہوا تھا کس طرح کوئی عہد وفا مجھ سے کرے آج جب روز ازل میں یہ مقدر نہ ہوا تھا دیدار کی حسرت ہی ہوئی وجہ تاسف قسمت میں مری حرف مکرر نہ ہوا تھا آنکھوں ...